الیکشن کا حساب کتاب اور ہمارا جگاڑ جمہوریت

پاکستانی الیکشن کے بارے میں کامن ویلتھ آبزرور گروپ کی رپورٹ لیک ہوگئی ہے۔ جی ہاں، وہی کامن ویلتھ، جس کا نام ہم صرف اس وقت سنتے ہیں جب کوئی ہمارا کھلاڑی غلطی سے کوئی میڈل جیت کر آتا ہے یا جب کوئی پرانے گورنر صاحب یاد دلاتے ہیں کہ "بیٹا ہم نے انگریز سے صرف جھنڈا بدلا ہے، باقی سب کچھ ویسا ہی ہے۔”

رپورٹ کے مطابق الیکشن بڑے ہی پرامن طریقے سے ہوئے، یعنی سب کچھ ہوا مگر لوگوں نے برداشت کر لیا۔ نتائج بھی آئے، ہارے ہوئے امیدوار جیت گئے اور جیتے ہوئے ہار گئے۔ یعنی وہی پرانا پاکستان جہاں جیتنے والا بھی رو رہا ہوتا ہے اور ہارنے والا بھی۔

آبزرور حضرات نے بڑی نرمی سے کہا کہ کچھ امیدواروں کو انتخابی عمل سے "باہر رکھا گیا”۔ انگریزوں کی شائستہ زبان میں اس کا مطلب ہے کہ جو پارٹی عوام میں زیادہ مقبول تھی، اسکے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے گئے۔ یوں سمجھ لیں جیسے میچ میں ایک ٹیم کو بیٹنگ کے لیے بلایا ہی نہ جائے اور پھر کہا جائے "دیکھو جی ہم نے اتنے رنز بنا لئے کہ مخالف ٹیم کی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ بیٹنگ کر پائے۔”

رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ میڈیا پر پابندیاں تھیں۔ یہ شاید انگریز آبزرور صاحبان کو کسی نے نہیں بتایا کہ ہمارا میڈیا اب اصل میں "اشرافیہ انٹرٹینمنٹ چینل” بن چکا ہے۔ وہاں خبروں سے زیادہ ڈرامے چلتے ہیں، اور اینکر حضرات ایسے کردار ادا کرتے ہیں جن کے لیے ہالی ووڈ کو بھی شرمندہ ہونا پڑے۔

کامن ویلتھ کے بابو لوگ شدید حیران ہیں کہ یہاں عوام خاص کر نوجوان پھر بھی ووٹ ڈالنے نکل آئے۔ ان کو یہ کون سمجھائے کہ پاکستانی عوام صدیوں سے امید کے عادی ہیں۔ جیسے لوڈشیڈنگ کے بعد بجلی آنے کی امید، ویسے ہی ووٹ ڈالنے کے بعد ترقی، امن اور روزگار کی۔ دونوں کا نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے "صبر کرو، اگلی بار شاید بہتر ہو۔”

رپورٹ میں احتیاط سے لکھا گیا کہ "الیکشن میں بہتری کی ضرورت ہے۔” یہ انگریزی سفارتی جملہ ہے۔ اگر اردو میں ترجمہ کریں تو سیدھا مطلب نکلتا ہے”بھائی، یہ الیکشن نہیں تھے، ایک میوزیکل چیئرز کا کھیل تھا۔ جس کا زور چلا وہ بادشاہ، باقی سب تالیاں بجائیں۔”

اب یہ رپورٹ لیک ہوگئی اور سوشل میڈیا میں بحث بھی ہو گی۔ لیکن ہمارے حکمران شاید صرف یہی سوچ رہے ہیں کہ "چلو جی، کامن ویلتھ نے بھی دو تین جملوں میں ڈانٹ دیا، باقی سب تو ٹھیک چل رہا ہے۔”

یعنی ہماری جمہوریت ایک پرانی بس کے ٹائر کی طرح ہے جس کی ہوا کم ہے، پیوند زیادہ ہیں، لیکن ڈرائیور کہتا ہے "چل رہی ہے نا؟ تو چلنے دو۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے