ثقافت یا جبر؟ بچیوں کے اسکارف پر آسٹریا میں نئی بحث

یورپ کے قلب میں واقع آسٹریا صدیوں پر محیط تہذیبی ورثے، فکری آزادی اور فنونِ لطیفہ کی آبیاری کرنے والی ایک شاندار ریاست کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ہابسبرگ سلطنت کے دور سے لے کر جدید جمہوریہ تک، یہ ملک ثقافتی تنوع، موسیقی، فنِ تعمیر، فلسفہ اور تعلیم میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ ویانا کی گلیوں میں بکھری بیتهوون، موزارٹ اور شوبرٹ کی موسیقی کی گونج، آسٹریا کی روح میں علم، احساس اور تخلیق کی آمیزش کو نمایاں کرتی ہے۔

یہاں کے تعلیمی ادارے صرف علم کا سرچشمہ نہیں یہ تو رواداری، تنقیدی سوچ اور انسانی حقوق کی آماجگاہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم، تاریخ کے اس ثقافتی اور فکری پس منظر کے باوجود، آج کا آسٹریا ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ جہاں روایات اور جدیدیت، انفرادیت اور اجتماعیت، آزادی اور قانون کے درمیان توازن تلاش کیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ایک متنازع قانون نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویانا کی مخلوط حکومت نے ایک ایسا قانونی مسودہ پیش کیا ہے، جس کے تحت 14 سال سے کم عمر کی طالبات کے لیے اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا جب مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے ملک میں سماجی انضمام کے سوالات کو سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا۔ اس اقدام کے حق میں دلیل دی جا رہی ہے کہ بچیوں کو کم عمری میں مذہبی یا ثقافتی جبر سے آزاد رکھنا ضروری ہے، تاکہ وہ آزادی سے اپنی شخصیت کو تشکیل دے سکیں۔

آسٹرین وزیر برائے سماجی انضمام، کلاؤڈیا پلاکولم نے اس قانون کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی عمر کی بچیوں پر مذہبی علامات کی پابندی ان کی ذاتی آزادی پر قدغن ہے۔ ان کے مطابق ہیڈ اسکارف کم سن لڑکیوں کے لیے ایک جبر کی علامت بن چکا ہے، جس سے نجات دلا کر انہیں آزاد سوچ اور خود اعتمادی کی راہ پر گامزن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ معاشرتی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کم عمر افراد کو ایسے ماحول میں پرورش دی جائے، جہاں مذہب اور ثقافت کے نام پر کسی بھی قسم کی روایت ان پر تھوپی نہ جائے۔

دوسری جانب، یہ قانونی پیش رفت بین الاقوامی سطح پر ایک نئے مکالمے کو جنم دے چکی ہے۔ خاص طور پر آسٹریا کی مسلم کمیونٹی میں اس بل کو مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم طالبات کو الگ تھلگ کرنے کی ایک کوشش ہے، جو ملک میں سماجی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے بقول مذہبی شناخت کو محدود کرنے کا مطلب فرد کی مکمل شخصیت پر سوالیہ نشان لگانا ہے۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ قانون کے نفاذ کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنے والی طالبات کے خلاف مرحلہ وار اقدامات کیے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر اسکول کی انتظامیہ طالبہ سے بات کرے گی اور والدین کو مطلع کیا جائے گا۔ اگر اس کے باوجود بچی اسکارف پہن کر اسکول آتی ہے، تو معاملہ محکمہ تعلیم کے حکام تک پہنچا دیا جائے گا۔ یہ سلسلہ آگے چل کر والدین کو جرمانے یا حتیٰ کہ سزائے قید تک لے جا سکتا ہے، جو کہ قانون کی سختی اور اس کے ممکنہ سماجی اثرات پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آسٹریا کی وفاقی آئینی عدالت اس نوعیت کے قوانین کو پہلے بھی غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ سن 2020 میں عدالت نے ایک ایسے ہی قانون کو کالعدم قرار دیا تھا، جس میں پرائمری اسکول کی بچیوں پر ہیڈ اسکارف پہننے کی پابندی لگائی گئی تھی۔ اُس وقت عدالت نے واضح کیا تھا کہ یہ قانون صرف مسلم بچیوں کو نشانہ بناتا ہے اور دیگر مذاہب کے بچوں کی مذہبی علامات کو نظر انداز کرتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ قانون امتیازی سلوک پر مبنی ہے اور تعلیم کے مساوی مواقع کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

آج جب حکومت ایک بار پھر ایسی ہی قانون سازی کی کوشش کر رہی ہے تو اس پر قانونی ماہرین، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں عدالت نے اسی اصول پر قانون کو مسترد کیا تھا، تو اب ایسی کسی نئی کوشش کی آئینی حیثیت پر بھی سوالات پیدا ہوں گے۔ اس اقدام سے ملک میں مذہبی اقلیتوں کے اعتماد کو دھچکا لگ سکتا ہے اور یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس پوری صورتحال میں آسٹریا کی سیاسی جماعتوں کے رویے پر بھی نگاہ رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ حکومت تین مختلف نظریاتی رجحانات پر مشتمل ہے، جن میں دائیں بازو کی قدامت پسند پارٹی، بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعت اور ایک ترقی پسند جماعت شامل ہیں۔ ان جماعتوں کے مابین باہمی اتفاق سے زیادہ سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی مقبولیت کی دوڑ نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا زور زیادہ تر علامتی نوعیت کے اقدامات پر ہے، جن سے عوامی سطح پر تاثر قائم کیا جا سکے کہ حکومت ملکی ثقافت و اقدار کی محافظ ہے۔

مسلم کمیونٹی کی نمائندہ تنظیموں نے واضح طور پر اس قانون کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے مسلم بچیاں تعلیمی اداروں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی۔ آسٹرین اسلامک کمیونٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان بچیوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کرے، جو پہلے ہی متعدد سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اسکارف پر پابندی لگانے سے ان کے مسائل میں کمی نہیں آئے گی، بلکہ وہ مزید تنہائی اور اجنبیت کا شکار ہوں گی، جو ان کے تعلیمی سفر اور شخصیت کی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے۔

آسٹریا جیسے ترقی یافتہ اور جمہوری ملک میں مذہبی علامات پر پابندی کے اقدامات آزادیِ اظہار، شخصی آزادی اور تعلیم کے بنیادی اصولوں سے متصادم نظر آتے ہیں۔ بالخصوص جب بات بچیوں کی ہو، تو یہ قدم مزید حساسیت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ یہ عمر سیکھنے، سمجھنے اور ذاتی شناخت بنانے کا دور ہوتا ہے، نہ کہ جبر اور پابندیوں کا۔

یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور شناخت کے بحران کے تناظر میں آسٹریا کا یہ قانون ایک بڑی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مذہب، ثقافت اور قانون کے درمیان کوئی توازن قائم کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ریاست کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی علامت کو محض اس بنیاد پر مسترد کرے کہ وہ اکثریتی سماج کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی؟ یہ سوالات صرف آسٹریا کے لیے ہی نہیں پورے یورپ کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں، جہاں تنوع اور قبولیت کی قدریں ہر دن نئی آزمائشوں سے دوچار ہو رہی ہیں۔

یہ قانونی بحث اس نکتے کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ تعلیم گاہیں کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر وہاں کسی خاص مذہب یا ثقافت سے وابستہ بچوں کو الگ تھلگ کیا جائے، تو یہ نہ صرف ان کی نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ ایک تقسیم شدہ معاشرے کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ لہٰذا، قانون سازی کے عمل میں حساس طبقات کی رائے اور جذبات کا لحاظ رکھنا ناگزیر ہے تاکہ ملک کی سماجی وحدت اور ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔ اس وقت آسٹریا کو ان دونوں میں توازن پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے اگر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تو وہ جبر یا تصادم کے بجائے افہام و تفہیم، مکالمے اور حکمت پر مبنی ہونا چاہیے۔ قرآن کریم کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں (البقرہ: 256)۔ اس آیت کا مفہوم صرف غیر مسلموں کے لیے نہیں بلکہ خود مسلمانوں کے اندرونی معاملات، بالخصوص بچوں کی تربیت میں بھی توازن اور دانائی کا اصول واضح کرتا ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو فطرت سے ہم آہنگ ہے، اور جس کی بنیاد شعور، اخلاق اور علم پر رکھی گئی ہے۔ اسکارف کا تصور اسلام میں محض ایک ظاہری علامت نہیں یہ حیا، خودداری اور روحانی وقار کا مظہر ہے۔ مگر اس کی تعلیم و ترغیب محبت، حکمت اور مثال کے ذریعے دی جانی چاہیے، نہ کہ دباؤ یا سیاسی دباؤ کے ردِعمل میں۔

آسٹریا جیسے مہذب معاشرے میں مسلمان والدین، تعلیمی اداروں اور ریاست کے درمیان ایک ایسا مکالمہ فروغ پانا چاہیے جو بچوں کی بھلائی، ان کے شعور، اور آزادی کے احترام پر مبنی ہو۔ مسلم کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی نئی نسل کو اس انداز میں تعلیم دے کہ وہ اپنی شناخت پر فخر کرے اور ساتھ ہی اس ملک کی زبان، اقدار اور سماجی ڈھانچے کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت بھی رکھے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ حکمت وہ چراغ ہے جس سے دل روشن ہوتے ہیں اور معاشرے سنورتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ تعلیم، مہربانی اور عملی کردار سے دل جیتے، اور یہی طریقہ آج بھی سب سے مؤثر ہے۔ لہٰذا اس مسئلے کا پائیدار حل صرف قانونی فیصلوں میں نہیں، یہ تو باہمی احترام، بین المذاہب مکالمے، اور ایسی تعلیمات کے فروغ میں ہے جو دلوں کو جوڑتی ہیں، توڑتی نہیں۔

ایک ایسا تعلیمی ماحول جو نہ صرف علم دے بلکہ شناخت کا وقار، دوسروں کے عقائد کا احترام اور فکری آزادی بھی سکھائے، دراصل وہی نظام ہے جو ایک خوشحال، مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر آسٹریا اپنی علمی و تہذیبی میراث کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے اور ایک متنوع، متحد اور باوقار مستقبل کی طرف بھی گامزن ہو سکتا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے