انسان کی تنہائی:

ایک شیرنی نے جیسے ہی بچے کو جنا تو اسی وقت اس بچے کو ایک انسان نے اٹھا لیا اور اسے اپنے فارم ہاؤس میں رکھ لیا، جس میں وہ ہاتھی، بلی، کتا، پرندے وغیرہ پال رکھتا تھا۔ شیرنی کا بچہ وہاں اکیلا ہی تھا اور اس کی جنس کا وہاں کوئی اور فرد موجود نہیں تھا۔ اسی وجہ سے وہ فارم ہاؤس کی تمام مخلوقات سے تعلق رکھتا رہا۔

مگر جوں جوں وہ عمر میں بڑھتا گیا، اس نے اپنے آپ کو عمر کے ساتھ ساتھ اجنبی محسوس کرنا شروع کر دیا۔

آخرکار جب سنِ بلوغت تک پہنچا تو وہ بالکل تنہا ہوگیا، کیونکہ وہ جدھر بھی جاتا اور جس ذی روح کے ساتھ بیٹھنے لگتا تو اسے ماحول یہ محسوس کراتا کہ آپ غلط مقام پر آئے ہیں۔ الغرض جتنا وہ تنہا ہونے لگا اتنا ہی اداس ہونے لگا۔

ایک دن فارم ہاؤس کے کسی کونے میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ ایسی کیا بات ہے کہ میں پرندوں کے قریب جاتا ہوں تو وہ وہاں سے اڑ جاتے ہیں، کتے کے قریب جانا چاہوں تو وہ بھی غرانا شروع کر دیتا ہے۔ بہرحال اس سوچ نے اسے اتنا اداس کیا کہ وہ رونے لگا۔ فارم ہاؤس کے مالک نے جب اسے روتے ہوئے دیکھا تو اس کے قریب آیا اور پوچھا کہ کیوں رو رہے ہو؟ شیرنی کے بچے نے اسے اپنا راز بتا دیا کہ اتنی زیادہ مخلوقات کے ہوتے ہوئے بھی میں تنہا ہوں، نہ مجھے کوئی قریب گوارا کرتا ہے اور نہ ہی میرے پاس کوئی آتا ہے۔

فارم ہاؤس کے مالک نے جب یہ سنا تو وہ بھی وہاں سے اٹھ گیا۔ اس پر شیرنی کا بچہ مزید غم زدہ ہوگیا کہ ایک فارم ہاؤس کا مالک تو تھا جس سے امید تھی کہ میرے آنسو دیکھ کر وہ میرے قریب آئے گا اور میری تنہائی دور کرے گا، لیکن اب تو اسے بھی میرے رونے کی علت معلوم ہوگئی، اس لیے وہ بھی دوبارہ میرے قریب کبھی نہیں آئے گا۔ شیرنی کے بچے نے دل میں کہا کہ یہ انسان بھی کیا عجیب شے ہے! جب میرے رونے کی علت معلوم نہیں تھی تو قریب آیا، مگر جیسے ہی علت معلوم ہوئی تو میرے پاس سے اٹھ کر چلا گیا۔ گویا انسان کو تفریح کے لیے محض میرے رونے کی علت چاہیے تھی۔

فارم ہاؤس کے مالک کے رویے نے شیرنی کے بچے کو اس بات پر آمادہ کیا کہ زندہ رہنا ہے تو اکیلے ہی رہنا ہے، اجتماع میں اب رہنے کا امکان ہی نہیں رہا۔ لہٰذا اس نے اکیلے پن پر قناعت شروع کی۔ اچانک شیرنی کے بچے کی آنکھ لگ گئی اور اس نے خواب میں ایک شیر کو دیکھا۔ جیسے ہی اس نے شیر کو دیکھا، شیرنی کا بچہ اس سے بغل گیر ہوا اور اپنے سالوں کی تنہائی کی داستان اسے ایک ہی سانس میں سنا دی۔

جیسے ہی شیرنی کے بچے کی آنکھ کھلی تو کچھ بھی نہ تھا، وہی تنہائی اور سناٹے والا ماحول تھا۔ شیرنی کا بچہ جس نے تنہائی پر قناعت اختیار کی تھی، خواب نے اسے دوبارہ بے چین کر دیا۔ اور چونکہ یہ محض خواب ہی تھا اس لیے وہ بے چین ہی رہا۔

یہی حال عصرِ حاضر کے انسان کا بھی ہے۔ وہ پیدا تو انسان کے ہاں ہوتا ہے مگر پیدا ہوتے ہی ماں کی گود میں ہی معاشرے نے اسے یرغمال بنا لیا ہے۔ نہ وہ خالص معصومیت دیکھتا ہے جو ماں کی گود میں انسان کو نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی وہ لاڈ پیار اسے میسر آتا ہے جو والدین کے سائے میں نصیب ہوتا تھا۔ چونکہ انسان کی فطرت ابتدائی زمانے میں محبت کی متلاشی ہوتی ہے مگر اسے وہ محبت نظر نہیں آتی جس کی اس کی فطرت متقاضی ہوتی ہے، اس لیے وہ فطری طور پر ایسے حالات میں غیر مانوس محسوس کرتا ہے۔

معاشرے میں قدم رکھتے ہی اس کا سامنا ایسے انسانوں سے ہونے لگتا ہے جو وضع قطع کے لحاظ سے تو انسان نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ انسان ہوتے نہیں۔ اس لیے وہ جہاں بھی جاتا ہے اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی جنس کے افراد کے پاس نہیں بلکہ کسی اور جنس کے پاس آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں انسانوں میں رہتے ہوئے بھی انسان آج اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔

انفرادیت کی انتہا یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی اور زمانے میں پیدا ہوا ہوں، موجودہ زمانہ میرا نہیں اور نہ میں موجودہ زمانے کا ہوں۔ اس وجہ سے آہستہ آہستہ انسان ان حالات سے سمجھوتہ کر لیتا ہے اور مان لیتا ہے کہ اگر یہاں رہنا ہے تو اکیلے ہی رہنا ہے۔

اس کے نتیجے میں دو طرح کے نفسیات پیدا ہوتے ہیں:
ایک وہ نفسیات جو تنہائی پر قناعت کرنے لگتے ہیں مگر کہیں نہ کہیں خوابوں میں یا کتابوں میں اپنی جنس کو دیکھتے ہیں جو انہیں دوبارہ بے چین کر دیتی ہے۔

دوسرے قسم کے نفسیات وہ ہیں جو انفرادیت کو اپنا اصل قرار دیتے ہیں اور انہیں اپنے آپ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ان نفسیات کے ساتھ انسان جس شے کو بھی دیکھتا ہے اپنے انفرادی نظر سے دیکھتا ہے؛ جیسے رشتوں کو دیکھتا ہے تو یہ سوچ کر دیکھتا ہے کہ ان کے نبھانے میں میرے لیے کیا فائدہ ہے، دوستی کرتا ہے تو یہ دیکھ کر کرتا ہے کہ اس میں میرا کیا فائدہ ہے۔

یہ نفسیات انسان خود پیدا کرتا ہے اور ان میں اپنے لیے رویے بھی خود متعین کرتا ہے۔ جس طرح انسان ایسے حالات پیدا کرنے میں غلطی کرتا ہے، ویسے ہی وہ ان میں اپنے رویوں کے انتخاب میں بھی غلطی کرتا ہے۔

ایسے حالات میں صرف ایک چیز انسان کو بچا سکتی ہے اور وہ ہے خدا کی راہنمائی میں حالات کی تبدیلی کے لیے اٹھنا اور خدا ہی کی تعلیمات کی روشنی میں رویوں کو متعین کرنا۔ عصرِ حاضر میں بھی انسان جب تک اپنے نفسیات اور حالات کو سدھارنے کے لیے خدا کی طرف رجوع نہیں کرتا، یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے خراب شدہ نفسیات اور بگڑے ہوئے حالات کا تدارک ہو سکے۔

خدائی تعلیم کی پیروی کیے بغیر حالات اور نفسیات مزید بگڑ سکتے ہیں مگر ان کی اصلاح ممکن نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے