دنیا کی تاریخ پر اگر ایک غیر جانبدار نظر ڈالی جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے بارہا اپنی دولت اور طاقت کے زور پر انسانیت کو خوفزدہ کر کے اپنے تجارتی مقاصد حاصل کیے ہیں۔ بیماریوں کا خوف پیدا کرنا، اعداد و شمار میں ہیر پھیر کرنا اور ’’جان بچانے‘‘ کے نام پر ادویات اور ویکسین بیچنا ان کے آزمودہ حربے ہیں۔
مثال کے طور پر 2009 میں سوائن فلو (Swine Flu) کی وبا کے دوران دنیا بھر میں خوف کی ایسی فضا قائم کی گئی کہ ہر طرف صرف ’’ویکسین لگواؤ‘‘ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ یورپ میں بعد میں انکشاف ہوا کہ بیماری اتنی مہلک ثابت نہیں ہوئی جتنی پیش کی گئی تھی، لیکن اس مہم کے نتیجے میں اربوں ڈالر کی ویکسین فروخت ہو گئی۔ بعد ازاں متعدد ممالک، خصوصاً فرانس اور جرمنی میں تحقیقات ہوئیں کہ عالمی اداروں نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے دباؤ میں آ کر خوف پھیلایا۔
اسی طرح 1976 میں امریکا میں ’’سوائن فلو‘‘ کے ہی ایک اور مبینہ خطرے پر لاکھوں افراد کو جلد بازی میں ویکسین لگائی گئی۔ بعد میں پتا چلا کہ بیماری کا پھیلاؤ نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن ویکسین سے کئی افراد فالج (Guillain-Barré Syndrome) کا شکار ہو گئے۔ یہ واقعہ اب نصابی مثال کے طور پر پڑھایا جاتا ہے کہ کیسے خوف اور مہم جوئی نے عوام کو نقصان پہنچایا۔
تیسری مثال 1990 کی دہائی میں ’’اوپیئڈز‘‘ (Opioids) کی ہے، جب امریکا میں کمپنیوں نے درد کش گولیوں کو ’’محفوظ‘‘ اور ’’غیر نشہ آور‘‘ قرار دے کر کروڑوں لوگوں کو ان کا عادی بنا دیا۔ آج یہ بحران امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ہیلتھ اسکیڈل مانا جاتا ہے، جہاں لاکھوں لوگ نشہ آور دواؤں کے استعمال سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان چند مثالوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب بھی کوئی نئی مہم چلتی ہے تو اس کے پیچھے صرف انسانی ہمدردی یا صحت کا تصور نہیں ہوتا، بلکہ ایک بڑی تجارتی منڈی ہوتی ہے جسے دواؤں کی فروخت سے اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچتا ہے۔
پاکستان میں آج کل ’’لڑکیوں کے لیے ویکسین‘‘ کی مہم اسی پس منظر کا تسلسل محسوس ہوتی ہے۔ اچانک اشتہارات کی بھرمار، اسکولوں میں ٹیموں کا جانا، اور والدین کو ڈرایا جانا کہ اگر یہ ویکسین نہ لگوائی تو بچیاں کینسر کا شکار ہو جائیں گی—یہ سب کچھ پہلے سے دیکھے گئے ہتھکنڈوں کی یاد دلاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بچی کو اس ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں، اس پر سائنسی دنیا کے اندر بھی اختلاف موجود ہے، مگر ہمارے ہاں اسے حتمی سچائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صحت عامہ کے دیگر بنیادی مسائل جیسے صاف پانی، غذائیت کی کمی، اور عام انفیکشن تک کنٹرول میں نہیں لائے جا سکے، تو اچانک اس ایک مخصوص ویکسین پر اربوں روپے کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں؟ کیا یہ بھی ایک اور ’’سوائن فلو 2009‘‘ یا ’’امریکہ 1976‘‘ جیسی کہانی نہیں؟
میری رائے میں والدین کو اندھا دھند خوف کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ اپنی بچیوں کو ہر اس مہم سے بچانا چاہیے جس کے پیچھے بڑے کاروباری مفادات چھپے ہوں۔ صحت کے نام پر کاروبار کرنے والے یہ ادارے بارہا بے نقاب ہو چکے ہیں، اور اس ویکسین کی حالیہ مہم بھی کسی بڑی عالمی سازش سے کم نہیں لگتی۔