بندوق کی غیرت، قلم کی بغاوت، قبائلی دشمنی کی سچائی

قبائلی معاشرے میں دشمنی ایک ایسی روایت بن چکی ہے جو اب ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ معمولی اختلافات کو انا کا مسئلہ بنا کر نسلوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی جاتی ہیں۔ یہاں بندوق اٹھانا غیرت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور خاموشی کو کمزوری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ قبائلی ناموس کی وہ فرسودہ تشریحات، جو صدیوں پرانی سوچ کی پیداوار ہیں، آج بھی ہماری زندگیوں پر قابض ہیں ایسی تشریحات جو نہ صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ انسانیت اور رشتوں کو بھی بے دردی سے روند ڈالتی ہیں۔

حق گوئی یہاں سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ جو سچ بولے، وہی نشانے پر آتا ہے۔ جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، اسے خاموش کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جاتا ہے۔ نفرت، دھمکیاں، تشدد اور حملے اُن لوگوں کا مقدر بنا دیے جاتے ہیں جو سچائی کا ساتھ دیتے ہیں۔

مجھے خود بھی بارہا جان لیوا حملوں، فائرنگ، کردار کشی، اور سنگین دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، صرف اس لیے کہ میں نے خاموش رہنے سے انکار کیا۔ مجھ پر بدکرداری کے الزامات لگائے گئے، میرے کردار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی، صرف اس وجہ سے کہ میں نے قلم کو ہتھیار بنایا اور سچ کا علم بلند کیا۔

افسوس اس بات کا ہے کہ میرے اپنے قریبی رشتہ دار میرے وجود، میرے نظریات اور میری آواز سے اس قدر خائف ہیں کہ مجھے ذہنی مریضہ قرار دے کر مستقل کسی ادارے میں قید کرنے کی سازشیں رچاتے ہیں۔ آج بھی یہ سازشیں جاری ہیں، اور ان کا صرف ایک اعتراض ہے کہ میں نے سچ کا ساتھ دیا، حق کی بات کی، اور فرسودہ روایات کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔

لیکن میں واضح کر دینا چاہتی ہوں: یہ سب دھمکیاں، حملے اور الزام تراشیاں میرے حوصلے کو توڑنے کے لیے ناکافی ہیں۔ قسم ہے اللہ رب العزت کی، میں اپنی زندگی کی آخری سانس تک قلم اور زبان کی روشنی سے جہالت، ظلم، اور غیر اسلامی سوچ کے خلاف جنگ جاری رکھوں گی۔

میری جدوجہد کسی فرد کے خلاف نہیں، بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو صدیوں سے انسانیت کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ میری جنگ ان تصورات سے ہے جو عزت کو بندوق سے جوڑتے ہیں اور عورت کی آواز کو گناہ سمجھتے ہیں۔

میرا مقصد صرف ایک ہے معاشرے میں امن، انصاف اور شعور کی روشنی کو ہر دل تک پہنچانا۔ میں چاہتی ہوں کہ آنے والی نسلیں اس زنجیروں میں جکڑے ہوئے معاشرے سے آزاد ہو کر سانس لیں۔ وہ معاشرہ جہاں عزت انسانیت سے جڑی ہو، نہ کہ طاقت اور تشدد سے۔

ان تلخ حالات نے مجھے اس سماجی زہر کو بہت قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع دیا ہے۔ میں نے اس وقت کفن خریدا اور وصیت نامہ لکھا جب میں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے گھر سے قدم باہر رکھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے اس گناہ کا نتیجہ موت بھی ہو سکتی ہے۔ یہ وصیت کالم کا عنوان تھا: "میں باغی ہوں، اور مرتے دم تک باغی ہی رہوں گی”۔ اسی میں میری کہانی بھی درج ہے، اور آخری خواہش بھی۔

کوئی مانے یا نہ مانے بخدا میں نے خوف کو اپنے اوپر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا۔ میرا قلم، میری آواز، اور میرا عزم، ان تمام مظالم اور فرسودہ نظریات کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے۔ اور یہ بغاوت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس سر زمین کی بیٹیاں آزاد فضاؤں میں سانس نہ لے سکیں، جب تک بندوق کی جگہ قلم کو عزت نہ ملے، اور جب تک انسان کو انسانیت کی بنیاد پر عزت نہ دی جائے۔ یہی میرا پیغام ہے۔ یہی میری جدوجہد ہے۔ اور یہی میری زندگی کا مقصد۔

بات کہیں سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچ گئی۔ لیکن شاید یہی زندگی ہے جو حقیقت سے شروع ہو کر بغاوت بن جاتی ہے۔ آئیے اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

ایسے قبائلی معاشروں میں سب سے پہلا اور کربناک نقصان عورت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ وہی ہستی جو زندگی کی بنیاد ہے، دشمنی کی آگ میں جھونک دی جاتی ہے۔ وہ جرم کیے بغیر سزا پاتی ہے ایسی سزا جو صرف جسمانی نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی کو نگل جاتی ہے۔ اسے نہ جینے دیا جاتا ہے، نہ مرنے کا حق دیا جاتا ہے۔ وہ صلح کی قیمت بن جاتی ہے، انتقام کا ذریعہ بنتی ہے اور غیرت کے نام پر قربان کر دی جاتی ہے۔

جب قبائلی تنازع جنم لیتا ہے تو وہ اکثر زمین، پانی یا کسی معمولی تکرار سے شروع ہوتا ہے۔ مگر انا اور جھوٹی غیرت جب شامل ہو جائے تو یہ چھوٹا سا اختلاف تباہی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے تنازعات میں مرد خونریزی سے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ عورتیں ان کے فیصلوں کا سب سے بھاری بوجھ اٹھاتی ہیں۔ وہ صلح کی قیمت بنتی ہیں، اپنی مرضی اور خوابوں سے محروم کر دی جاتی ہیں۔ نہ صرف ان کا مستقبل چھن جاتا ہے بلکہ خاندان کے باقی افراد بھی خوف، شرمندگی اور بے بسی میں جکڑے جاتے ہیں۔ والدین کے دل پر وہ داغ عمر بھر رہتا ہے کہ ان کی بیٹی کو دوسروں کے گناہوں کا تاوان بننا پڑا۔ بہن بھائی خود کو گناہگار سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ کر سکے۔

اور وہ لڑکی، جو مکمل طور پر بے گناہ ہوتی ہے، اندر ہی اندر خود کو الزام دیتی رہتی ہے۔ وہ خود سے سوال کرتی ہے، مگر جواب کبھی نہیں ملتا۔ دشمنی کی یہ آگ صرف ایک گھر نہیں، پورے معاشرے کو جلا دیتی ہے۔ یہ محض ایک رسم نہیں ایسی زنجیر ہے جو نسل در نسل عورت کو جکڑے رکھتی ہے۔

قبائلی جرگہ جسے بظاہر انصاف کا ذریعہ مانا جاتا ہے، درحقیقت عورت کے لیے ایسا شکنجہ ہے جو اس کے وجود کو ختم کر دیتا ہے۔ یہاں فیصلے عقل اور عدل سے نہیں، عمر، مرتبے اور مفادات کی بنیاد پر سنائے جاتے ہیں۔ لڑکی کو دشمنی کے عوض سونپ دینا ایسا عمل ہے جس میں انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ وانی یا سوارا جیسی رسمیں عورت کی مرضی، خوشی اور اختیار کو مکمل نظرانداز کر دیتی ہیں۔ جرگہ میں بیٹھے بزرگ ایسے فیصلے کرتے ہیں جیسے وہ انسانوں کی نہیں، مال مویشیوں کی خرید و فروخت کر رہے ہوں۔ معصوم بچیوں کو ایسے بندھنوں میں باندھ دیا جاتا ہے جن کی وہ نہ سمجھ رکھتی ہیں نہ تیاری۔ انہیں سچ بولنے کا حق نہیں دیا جاتا، کیونکہ ان کی حیثیت پہلے ہی طے کر دی گئی ہوتی ہے۔ جرگہ میں عورت کی رائے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی؛ صرف فیصلہ سننے اور ماننے کا حکم ہوتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتی ہے کہ آخر اسے کس گناہ کی سزا دی گئی۔ یہ فیصلے انصاف کے نام پر ظلم کو قانونی حیثیت دیتے ہیں۔ یہاں رحم اور انسانیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

جب ایک لڑکی بطور وانی یا سوارا کسی گھر میں جاتی ہے، تو وہ گھر اس کے لیے پناہ نہیں، اذیت گاہ بن جاتا ہے۔ وہاں اسے نہ بیٹی مانا جاتا ہے، نہ بہو، بلکہ دشمن کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ ہر بات میں اسے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ مسکرائے تو چالاکی، خاموش رہے تو سازش، اور بولے تو گستاخی کا الزام لگتا ہے۔ اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ ہر دن اس کی وفاداری کو آزمایا جاتا ہے، جیسے وہ انسان نہیں، کوئی مشتبہ مجرم ہو۔ وہ اجنبیوں کے درمیان اجنبی بن کر رہتی ہے، جہاں نہ کوئی اس کا درد سمجھتا ہے، نہ سنے جانے کی امید ہوتی ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے چیخے، روئے، کچھ کہے، لیکن زبان ساتھ نہیں دیتی۔ وہ سیکھ لیتی ہے کہ یہاں خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ذات ایک سائے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسا سایہ جو دکھائی تو دیتا ہے، مگر جسے کوئی اپنا نہیں سمجھتا۔

اس ظلم کا دائرہ صرف جذبات یا رشتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی مار لڑکی کے تعلیمی اور ذہنی مستقبل تک جا پہنچتی ہے۔ اسکول، قلم، کتابیں سب کچھ چھن جاتا ہے، جیسے وہ کبھی اس کا حق ہی نہ تھا۔ خواب دیکھنا اس کے لیے جرم بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اندر کی آواز کو مار کر، دوسروں کی توقعات پر زندہ رہنے لگتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ ایک ایسی قید میں چلی جاتی ہے جس کے دروازے پر روایت کا قفل لگا ہوتا ہے۔ نہ وہ اپنی مرضی سے جی سکتی ہے، نہ کچھ چاہنے کا حق رکھتی ہے۔ اس کا بچپن، اس کی جوانی اور اس کی آزادی سب کچھ ماضی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کے اردگرد کی دنیا تبدیل ہوتی رہتی ہے، لیکن اس کی حالت جوں کی توں رہتی ہے۔

اس کی ازدواجی زندگی بھی کربناک حقیقت بن جاتی ہے، جہاں اسے شریک حیات کی نہیں، دشمن کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ شوہر اگر چاہے تو اسے قبول کرتا ہے، ورنہ طعنے، حقارت اور لاتعلقی اس کے مقدر میں ہوتی ہے۔ محبت اور عزت کا تصور اس رشتے سے خارج ہوتا ہے۔ اسے ہر دن یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ قابلِ اعتبار ہے، لیکن اس کی ہر کوشش کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ خود کو اس رشتے میں مکمل جھونک دیتی ہے، مگر کبھی بھی مقام حاصل نہیں کر پاتی۔ مار پیٹ، تحقیر، اور جذباتی زیادتی اس کے روزمرہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نہ وہ اپنے دکھ کسی سے بانٹ سکتی ہے، نہ کسی سے شکوہ کر سکتی ہے۔ اس کے میکے والے بے بس ہوتے ہیں، اور سسرال والے بے رحم۔ وہ لڑکی ایک ایسی زندگی جینے پر مجبور ہوتی ہے جس میں سانس تو ہوتی ہے، مگر زندگی نہیں۔

یہ ظلم محض کسی ایک فرد کی زیادتی نہیں، یہ تو ایک پورے نظام کی خاموش تائید ہے۔ جرگہ، خاندان، معاشرتی ڈھانچے سب کسی نہ کسی شکل میں اس جرم کے معاون ہیں۔ جب کوئی عورت بولنے کی ہمت کرتی ہے تو اسے خاموش کرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون اگرچہ موجود ہے، مگر اس کا اطلاق کمزور اور سست ہے۔ قبائلی علاقوں میں ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں، اور موجود بھی ہوں تو بااثر افراد کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ پولیس انصاف دلانے کے بجائے ظلم پر پردہ ڈالنے میں ملوث دکھائی دیتی ہے۔ عدالتیں صرف اس وقت متحرک ہوتی ہیں جب معاملہ میڈیا پر چھا جائے یا عوامی دباؤ بڑھے۔ جو عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، اسے سماجی تنہائی، بدنامی اور جان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر کچھ خواتین، ان تمام خطرات کے باوجود، ڈٹ جاتی ہیں۔ ان کے قدم لڑکھڑاتے ضرور ہیں، لیکن پیچھے نہیں ہٹتے۔ وہ معاشرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ظلم کے خلاف سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان کی یہ جرات نہ صرف مظلوموں کی امید بنتی ہے بلکہ ظلم کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیتی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جو خواب نہیں، روشنی بن کر ابھرتی ہیں۔ ان کی پکار گونج بن کر رہتی ہے جو خامشی کو چیر دیتی ہے۔ لیکن ان چند آوازوں سے تبدیلی کی رفتار سست رہے گی، جب تک معاشرہ مجموعی طور پر جاگ نہ جائے۔

دشمنی، جرگہ، اور عورتوں کی قربانی جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے صرف تقریریں اور بیانات کافی نہیں ہیں۔ ہمیں عملی میدان میں اترنا ہوگا۔ ہر گھر، ہر گاؤں، ہر تعلیمی ادارے تک تعلیم کو پہنچانا ناگزیر ہے، اور وہ بھی ایسی تعلیم جو شعور، برابری اور احترام سکھائے۔ لڑکیوں کو محفوظ، معیاری، اور مسلسل تعلیم دینا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ جرگوں اور فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔ ریاستی اداروں کو قبائلی علاقوں میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے فیصلوں کے خلاف فوری کارروائی کرنی ہوگی جو عورت کی تذلیل کا سبب بنتے ہیں۔ میڈیا کو یہ معاملہ وقتی شہ سرخی نہیں، مستقل مسئلہ سمجھ کر اجاگر کرنا ہوگا۔ مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو ایسے رواجوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا جو انسانیت کی تضحیک کرتے ہیں۔ جب تک عورت کو صرف کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک کوئی بھی قانون اس کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکے گا۔ ہمیں سوچ کی وہ جڑیں کاٹنی ہوں گی جو عورت کو قربانی کا آلہ سمجھتی ہیں۔ معاشرے میں اصل انقلاب تب آئے گا جب عورت کو مظلوم نہیں، بااختیار اور فیصلہ ساز مانا جائے گا۔ یہی وہ قدم ہے جو ہمیں ایک منصف اور مہذب قوم بنا سکتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف قبائلی یا دیہی علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں دشمن داری، تعصب اور جہالت سے آزاد فضا میں سانس لیں، تو ہمیں روایتوں کے ان خولوں کو توڑنا ہوگا جو انسانیت کا دم گھونٹ رہے ہیں۔ عورت کو وہ مقام دینا ہوگا جو صدیوں سے اس سے چھینا گیا ہے۔ جب تک عورت کو اس کی انفرادی شناخت، اختیار اور رائے کا حق نہیں ملے گا، ہم کسی حقیقی ترقی کا تصور نہیں کر سکتے۔ انصاف تبھی ممکن ہے جب ہر شہری خواہ وہ عورت ہو یا مرد برابر کا حق دار ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل طاقت طاقتور آواز میں نہیں، بلکہ منصف سوچ میں ہوتی ہے۔ بندوقوں سے مسائل اور دشمنیاں بڑھتی ہیں، لیکن قلم اور شعور سے سلجھتی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو یہ ظلم مزید کئی نسلوں کی زندگیوں کو تباہ کرتا رہے گا۔ لیکن اگر آج ہم کھڑے ہو جائیں، متحد ہو جائیں، اور بولنا شروع کریں تو کل کا دن بدل سکتا ہے۔ ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکتے ہیں جہاں عورت صرف قربانی نہیں، وقار، عدل اور روشنی کی علامت ہو۔ تبھی ہمارا کل محفوظ ہوگا، اور ہماری پہچان حقیقی معنوں میں باوقار بنے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے