روایتی ہتھیار اور اٹل ایٹمی deterrence میں فرق ہی دراصل اطاعت اور خودمختاری کا ہے۔
قطر پر اسرائیلی حملے اور دوحہ کانفرنس کے کمزور اعلامیے کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ خطہ ٹوٹے سہارے پر چل رہا ہے، یعنی امریکہ جو بظاہر عربوں کی سکیورٹی کا ضامن تھا، اسی نے ہی نقب لگا دی ہے، لیکن سعودی عربیہ نے پاکستان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر کے اسے ایسا میزائل بنا دیا جو افق پر اڑتا نظر آ رہا ہے۔
17 ستمبر 2025 کو سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اسٹریٹیجک معاہدہ طے پایا۔ یہ محض اعلامیہ نہیں بلکہ پابند معاہدہ ہے جس کی روح سے "کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا”۔ یہ ابہام سے وضاحت کی طرف اور محض الفاظ سے ایٹمی deterrence کی روشنی کی طرف ایک قدم ہے۔
(یاد رہے چین اور ترکی اس حوالے سے پہلے ہی یہ موقف اپنا چکے ہیں کہ پاکستان پر حملہ ان ممالک پر حملہ تصور ہوگا)
9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک انتباہی الارم تھا، جس نے ابہام کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی اور سعودی پاکستانی سمجھوتے کو پردے سے نکال کر منظرِ عام پر لے آیا۔
واضح deterrence کی ضرورت اب محض سیاسی سہولت نہیں رہی بلکہ قومی خودمختاری کا سوال بن گئی۔ اور یہ تیز رفتار فیصلہ سعودی قیادت کی بصیرت کے بغیر ممکن نہ تھا، جس نے امریکی دغا بازی کو پہچانتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا۔
ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک بار پھر ایسے خطے میں فوری فیصلے کا مفہوم بدل دیا ہے جو ہمیشہ انتظار کا عادی رہا۔
دونوں اسلامی ممالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔
یہ ایک جامع معاہدہ ہے جس میں تمام عسکری وسائل شامل ہیں۔ چونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، مطلب واضح ہے کہ سعودی عرب ایٹمی deterrence یعنی اس چھتری کا حصہ ہے جس کے حوالے سے نوے کی دہائی سے ہی مغربی رپورٹس ذکر کرتی رہی ہیں۔
اسرائیل جو بغیر ناپے تولے حملے کا عادی ہے، اب بالواسطہ ایٹمی deterrence کے امکان کا سامنا کرنے جا رہا ہے۔ اگرچہ ایران کو تشویش ہو سکتی ہے (جو ٹیکنیکلی ہونی نہیں چاہیے کیونکہ ایران اسرائیل کے حالیہ قضیے میں پاکستان عملی کردار ادا کر چکا ہے)
اس معاہدے کے بعد سب سے زیادہ مشکل میں واشنگٹن ہو گا، انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ اب وہ سعودی عرب کی سلامتی کا اکیلا محافظ نہیں بلکہ سعودی سلامتی کی تہہ در تہہ پالیسی کا صرف ایک جزو ہے، جس میں مغربی شراکتیں، مشرقی مفادات اور اسلامی ایشیائی دائرہ شامل ہے۔
مملکت کی سلامتی (جس کا ضامن جزوی طور پر پاکستان تھا) دہائیوں تک بغیر کسی معاہدے کی پابندی کے رہی ہے، مگر اب سعودی سمجھتے ہیں منظرنامہ بدل چکا ہے۔ اب سلامتی ہتھیاروں سے ہے، صرف وعدوں سے نہیں۔
روایتی ہتھیار اور ایٹمی طاقت deterrence کا فرق ہی اصل خودمختاری کا معیار ہے۔
سعودی عرب کے لیے ہندوستان کے حوالے سے توازن رکھنا یقیناً مشکل ہو گا۔ اگرچہ مملکت کی پالیسی ہندوستان کو یقین دلاتی ہے کہ اس کے ساتھ تعلقات پہلے سے مضبوط ہیں، مگر اسی وقت ایسا معاہدہ بھی کرتا ہے جو کسی بھی پاک بھارت جنگ کو سعودی معاملہ بنا دے گا۔
یہ ایسے ہے جیسے دو مخالف گھوڑوں پر ایک ساتھ سواری کی جائے، مگر سعودی یقین رکھتے ہوں کہ اسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
ترکی کے لیے بھی راہ ہموار ہو چکی ہے کہ وہ خلیج میں مزید اثر و رسوخ، اپنی عسکری صنعتوں کے لیے مارکیٹ اور اسرائیل کے مقابل توازن کو قائم کرے۔ یہ واضح ہے باقی خلیجی ممالک ریاض کے دروازے سے ہی داخل ہو کر اپنی پوزیشن طے کریں گے۔
پاکستان کی طاقت صرف ایٹمی قوت ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے پاس ایک بڑی روایتی فوج، وسیع جنگی تجربہ اور سعودی عرب کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعاون ہے۔ ہزاروں سعودی فوجی پاکستان میں تربیت لے چکے ہیں، پاکستانی افواج مملکت میں تعینات رہیں، اور لاکھوں پاکستانی خلیج میں معاشی و سماجی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ 
ایٹمی طاقت deterrence چھتری ضرور فراہم کرتی ہے لیکن اصل کردار اس عسکری، انٹیلیجنس، سماجی اور معاشی امتزاج میں ہے۔
جہاں تک "عرب نیٹو” کی تجویز کا تعلق ہے، وہ صرف کاغذوں پر اچھی لگتی تھی۔ بغیر ایٹمی چھتری، بغیر قیادت اور بغیر مالی ڈھانچے کے، وہ عربی بیوروکریسی اور باہمی بداعتمادی میں دفن ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس، ریاض اسلام آباد معاہدہ عملی، فوری اور فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔
صرف پاکستان ہی کیوں، کوئی بڑا عرب یا اسلامی اتحاد کیوں نہیں؟ اس لیے کہ ریاض نے رفتار اور معیار دونوں کو ترجیح دی۔ دس دارالحکومتوں کے اتفاق کا انتظار ممکن نہیں تھا، اور نہ ہی سیاسی بیانات کافی تھے۔ سعودی عرب نے ایک معیاری چھتری چاہی اور یہ بھی چاہا کہ فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہو، نہ کہ کسی دھندلے اور غیر یقینی اتحاد کے۔
اس معاہدے سے پیغام بالکل واضح ہے:
دونوں ممالک مشترکہ دفاعی پالیسی اپنائیں گے۔
دشمنوں کے لیے، سعودی سلامتی کی آزمائش اب آسان نہیں۔
اتحادیوں کے لیے، معاہدے میں شامل ہونے کے لیے فل وقت دروازہ کھلا ہے، جو ہمیشہ نہیں ہو گا۔
عوام کے لیے، تہہ در تہہ سلامتی اب ایک پالیسی ہے، نعرہ نہیں۔
یہ سمجھوتہ ایک نیام میں چھپی ہوئی تلوار تھا، دوحہ پر بمباری نے اس نیام کو توڑ دیا۔ اب ریاض نے وہ تلوار کھلے عام اٹھا لی ہے۔ دشمن سمجھ لیں کہ خاموشی اب پالیسی نہیں، بلکہ ایٹمی deterrence ایک اعلان ہے جس کے پیچھے ایک طوفان چھپا ہے۔