17 ستمبر 2025 کو ممتاز پشتون دانشور، انسانی حقوق کے علمبردار اور سابق سینیٹر جناب فرحت اللہ بابر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اس نشست میں پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد، ڈاکٹر ضیاء الرحمان بلوچ اور میں، اقبال حسین افکار شریک تھے۔
بابر صاحب نے ہماری آمد پر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور گرمجوشی سے استقبال فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کا باقاعدہ شعبہ قائم ہے، جہاں مختلف مادری زبانوں کے محققین ایک ہی چھت تلے تحقیق و تدریس میں مصروف ہیں۔
گفتگو کے دوران بابر صاحب نے ڈاکٹر عابد اور ڈاکٹر ضیاء بلوچ سے ان کے تحقیقی کاموں کے بارے میں سوالات کیے۔ ڈاکٹر ضیاء بلوچ نے بتایا کہ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع پشتو اور بلوچی زبانوں کے باہمی اشتراکات ہیں۔ ان کے مطابق پشتو، بلوچی اور کردی زبانیں ایک دوسرے سے قریب تر ہیں کیونکہ یہ سب ایرانی آریائی زبانوں کے سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں۔
بابر صاحب نے ڈاکٹر عبداللہ جان عابد سے پوچھا کہ کیا اجمل خٹک نے اردو میں بھی شاعری کی ہے؟ ڈاکٹر عابد نے جواب دیا کہ جی ہاں، اجمل خٹک صاحب کی اردو شاعری مجاہد بریلوی نے "جلاوطنی کی شاعری” کے عنوان سے شائع کی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی اپنی ایک مفصل کتاب بھی اجمل خٹک کی شخصیت، فن، صحافت اور سیاست پر لکھی گئی ہے، جس میں چپٹر اجمل صاحب کی جلاوطن کی شاعری پر ہے ،جو فی الحال آؤٹ آف پرنٹ ہے لیکن دوبارہ اشاعت کے بعد بابر صاحب کو بطور تحفہ پیش کی جائے گی۔
بابر صاحب نے کہا: "آپ لوگ اپنی زبان اور ادب کے لیے نہایت عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں۔” انہوں نے ڈاکٹر عابد کے تحقیقی کاموں، خصوصاً اردو زبان میں "پشو ادبِ”کے تاریخ اور صدر خان خٹک کی "اعجاز نامہ” کی بھی تعریف کی۔
اسی دوران بابر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہا: "ڈاکٹر صاحب تو میرا کلی وال ہے خویشکی، تو خویشکی ہیں۔” ہم نے جواب دیا کہ ہاں پورا نوشہرہ ضلع سیاست، ادب اور صحافت کے پورے خیبرپختونخوا میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر محترمہ ڈاکٹر خالدہ نسیم کا بھی ذکر آیا، جو انگریزی زبان میں پشتون شاعرہ ہیں۔ انہوں نے خان عبدالغنی خان کے کلام کا انگریزی ترجمہ "Echoes from the Mountains” کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کیا ہے، جس کی رونمائی کی تقریب ان شاء اللہ اسلام آباد ہی میں منعقد ہو گی۔ بابر صاحب نے ڈاکٹر خالدہ نسیم کی اس کاوش کو بے حد سراہا اور کہا: "اس ترجمے کے ذریعے دنیا کو ہمارے اس نابغۂ روزگار شاعر کے فکر و فلسفے سے آگاہی ملے گی۔ میں ڈاکٹر خالدہ نسیم کو شاباش دیتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ نایاب کتاب بطور تحفہ پیش کیا ۔
مزید برآں، ڈاکٹر عطاء الرحمان عطا کی تحقیقی تصنیف "اقبال حسین افکار: زندگی اور فن” کا بھی ذکر ہوا۔ بابر صاحب نے کہا کہ انہوں نے اس کتاب کا خلاصہ سنا تھا ڈاکٹر عطاء یہ ایک نہایت محنتی محقق ہے ، ان کا یہ تحقیقی کام قابل ستائش ہیں ۔
جیسا کہ شاعر انور خان دیوانہ نے کہا ہے:
"حالات کی مجبوری بری بلا ہے،
ورنہ کس نے چھوڑا ہے یار کا دامن۔”
ہم تینوں کی دلی خواہش تھی کہ اس علمی و ادبی شخصیت کے ساتھ مزید وقت گزارے، مگر افسوس کہ ڈاکٹر عابد کو ڈین صاحب کی طرف سے فوری آنے کی کال آ گئی اور ہمیں بابر صاحب سے اجازت لے کر روانہ ہونا پڑا۔