پاک سعودیہ حالیہ معاہدہ

اس بات سے ہمیں نہایت خوشی ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی وقعت عطا کی کہ کوئی دوسرا ملک اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا ہے۔ ہماری یہ خوشی اس وقت اور بھی دوبالا ہوئی جب یہ سوچا کہ ہمارا ملک بیت اللہ کی سیکورٹی کے فرائض بھی سرانجام دے گا، جس کی سیکورٹی ہم سب مسلمانوں پر فرض ہے، مگر پوری امت میں یہ سعادت ہمارے حصے میں آئی۔ معاہدے کا یہ پہلو اتنا خوش آئند اور دلکش ہے کہ اس کی کشش صرف میرے لیے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے باعثِ مسرت ہے۔

مگر اس حوالے سے بحیثیت مسلمان، بحیثیت ایک پاکستانی اور بحیثیت پختون تینوں لحاظ سے ہمارے کچھ سوالات ہیں۔

بحیثیت مسلمان ہمارا سوال یہ ہے کہ پاک سعودیہ کا یہ معاہدہ بحیثیت امت مسلمہ کے افراد کا ہوا ہے یا اس کے پیچھے امت مسلمہ کی سوچ کے علاوہ کوئی اور سوچ ہے؟ اگر یہ معاہدہ امت مسلمہ کے تناظر میں نہیں ہے تو کم از کم میرے لیے یہ زیادہ خوشی کی بات اس لیے نہیں ہے کیونکہ ایسے معاہدے تو ممالک کے مابین آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔ اور اگر یہ معاہدہ پاک سعودیہ نے اس وجہ سے کیا ہے کہ ہم دونوں امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور امت کے درمیان ایسے معاہدے ہونے چاہییں، تو اس صورت میں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا غزہ کے مظلومین امت مسلمہ کا حصہ نہیں؟ کیا ان دونوں ممالک نے اس معاہدے میں یہ ذکر کیا ہے کہ ہم عملاً غزہ کے مظلومین کا مقدمہ لڑیں گے؟

اگر معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر کیا اس کا یہ مفہوم ممکن نہیں کہ سعودی عرب اپنے اوپر اسرائیل کے ممکنہ حملے کے لیے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو پیسوں کے عوض استعمال کرنا چاہتا ہے؟ یعنی اپنے خون بہنے کے محض خدشے کو بنیاد بنا کر معاہدے تو ہو رہے ہیں مگر لاکھوں فلسطینیوں کا جو خون عملاً بہہ رہا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

ہمارا دوسرا سوال حکمرانوں سے بحیثیت پاکستانی یہ ہے کہ اگر پاکستان دفاعی لحاظ سے اتنا مضبوط ہے (جو کہ نہایت خوشی کی بات ہے) کہ وہ کسی دوسرے ملک کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے، اور وہ بھی عالمی طاقتوں کے مقابلے میں، تو اسی تناسب کے ساتھ اسے معاشی طور پر بھی مضبوط ہونا چاہیے تھا۔ اس سوال کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے دفاع کو معاشی مضبوطی کے لیے کمپرومائز کیا جاتا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب ہمیں اپنے دفاع کے حوالے سے اطمینان حاصل ہو گیا، تو اس کے بعد تو پہلے معیشت پر توجہ دی جاتی، پھر دفاع میں اس پوزیشن پر جایا جاتا جہاں ہم دوسروں کے دفاع کے لائق بنتے۔

اسی طرح بحیثیت پاکستانی ہمارا یہ سوال بھی ہے کہ جب پاکستان میں اتنا پوٹینشل ہے (الحمدللہ) تو اب تک حکمران طبقے نے ہمیں اس گلے سڑے نظام سے باہر کیوں نہیں نکالا؟ عالمی سطح پر ہمارے پاسپورٹ کو کیوں اہمیت نہیں دی جاتی؟

اس سے یہ کنفیوژن پیدا نہ ہو کہ یہاں تو حرمین شریفین کی سیکورٹی کا معاملہ ہے اس لیے معاہدہ خوش آئند ہونے کے ساتھ ساتھ تنقید سے بھی مبرا ہے۔ جناب والا! حرمین شریفین کی سیکورٹی کے لیے ہمیں کسی معاہدے کی ضرورت نہیں، وہ ہمارا فرض ہے۔ حرمین شریفین کے تقدس اور حفاظت پر ہماری ہزار جانیں، ماں باپ اور اہل و عیال قربان ہوں۔ حرمین شریفین کا معاملہ سعودی حکمرانوں سے الگ ہے۔

تیسرا سوال بحیثیت پختون، بلوچ اور پاکستانی ہونے کا ہے کہ جب ہمارا ملک دفاعی لحاظ سے اتنا مضبوط ہے کہ عالمی طاقتوں کے مقابلے میں کسی اور ملک کا دفاع کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، دوسرے ملک کی سیکورٹی کا ذمہ لیتا ہے، تو ہم جو اپنے لوگ ہیں، عام دھماکوں اور گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں، ہمیں ایسی سیکورٹی کیوں نہیں ملتی؟ کیا اندرونی امن و امان بیس سالوں میں بھی ایسے ملک کا کوئی لا ینحل مسئلہ ہو سکتا ہے جو دوسرے ممالک کو سیکورٹی دینے کی پوزیشن میں ہو؟ کیا بیس سال سے زیادہ عرصے سے بدامنی کا ہونا اس بات کی غمازی نہیں کرتا کہ ہمارے حالات کی طرف سرے سے توجہ ہی نہیں دی گئی؟

ان سوالات سے کوئی بے جا تنقید مراد نہ لے بلکہ اس کی بنیاد ہمارے ماضی اور حال کے دِگرگُوں حالات ہیں جن سے ہم تمام پاکستانی بالعموم جبکہ پختونخوا اور بلوچستان کے عوام بالخصوص گزر رہے ہیں۔ اس تنقید سے صاحبِ اختیار لوگوں کی توجہ ان حالات کی طرف مبذول کرانا مقصود ہے جو آگ بن کر ہمارے اوپر برس رہے ہیں۔ یہاں ماضی اور حال کے حالات کے ذمہ دار صرف حالیہ حکمران نہیں بلکہ ہر وہ فرد ذمہ دار ہے جس کے پاس اختیار رہا ہے، خواہ ماضی میں رہا ہو یا ابھی صاحبِ اختیار ہو۔

آخر میں عوام کی طرف سے ایک قابلِ افسوس رویے کا ذکر کرتے چلیں۔ جب سے یہ معاہدہ ہوا ہے سوشل میڈیا پر چیف کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں، ان کی تعریف کی جا رہی ہے، اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آج جو عزت پاکستان کو مل رہی ہے وہ صرف چیف صاحب ہی کی وجہ سے مل رہی ہے۔ اس اثنا میں کسی نے ان گمنام سائنسدانوں کا نام تک نہیں لیا جن کے دماغ اور انتھک محنت اس طاقت کے پیچھے ہیں۔ عبدالقدیر خان رحمہ اللہ کی تصویر کسی نے کسی چوک میں آویزاں نہیں کی کہ یہ وہ مردِ قلندر ہے جس کی وجہ سے آج ملک کو اتنی عزت ملی ہے۔

اس سے پہلے پی ٹی آئی والے باجوہ کے گیت گاتے رہے اور آخر میں جب ان سے ناراضگی پیدا ہوئی تو پھر وہی عوام سے کہتے رہے کہ چلو نکلو، باجوہ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی۔حضرات! زیادتی تمہارے ساتھ باجوہ صاحب نے نہیں کی بلکہ تم نے خود چاپلوسی کی انتہا کی تھی جس کا آج تم خمیازہ بھگت رہے ہو۔ وہی کام موجودہ حکمرانوں کے مؤیدین کر رہے ہیں۔ اب کل جب انہیں بھی نکالا جائے گا تو پھر عوام کے سامنے رو رہے ہوں گے کہ دیکھیں جی ہمیں نکالا گیا، آپ ہمارا ساتھ دیں۔

اللہ کے بندو! معاہدہ پاکستانی اور سعودی ریاستوں کے مابین ہوا ہے اور پروجیکٹ چیف صاحب کو کر رہے ہو۔

معاہدہ ریاستوں کے مابین ہوا ہے جبکہ کریڈٹ سارا کا سارا ایک بندے کو دیا جا رہا ہے۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چائیے کہ آزاد قومیں اصولوں کی بنیاد پر لوگوں کو کریڈٹ دیتی ہیں، جبکہ اصولوں کے مطابق کریڈٹ ہر اس شخص کو جاتا ہے جس نے کام میں حصہ لیا ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے