پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون اور مشترکہ دفاع کو مستحکم بنانے کی کوشش ہے۔ ڈان اور الجزیرہ جیسے معتبر ذرائع کی رپورٹنگ کے مطابق، اس معاہدے کی روح یہی ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ کاغذ پر یہ الفاظ طاقتور دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے پس منظر میں کئی ایسے پہلو پوشیدہ ہیں جن پر کھلے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی یہ نزدیکی آگے چل کر کن نئے تقاضوں کو جنم دے گی؟ خصوصاً اسرائیل کے معاملے میں، جہاں دونوں ممالک کی پالیسیاں ایک دوسرے کے متوازی نہیں بلکہ متضاد نظر آتی ہیں۔ پاکستان آج بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اسے اپنی قومی بیانیے میں ایک دشمن ریاست قرار دیتا ہے۔ اگر کل کلاں سعودی عرب کی پالیسی اسرائیل کے حوالے سے نرم ہوئی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کس سمت جائے گا؟
یہ تشویش محض مفروضہ نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی سعودی دباؤ اور ضرورت کے تحت کئی مرتبہ اپنی سمت بدلتی رہی ہے۔ آج اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور کل کو پاکستان کسی ایسی صورتِ حال کا سامنا کرتا ہے جہاں اسرائیل اس کا براہِ راست یا بالواسطہ حریف ہو، تو کیا سعودی عرب دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کا ساتھ دے گا؟ یا اپنے نئے اتحادی کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے گا؟
اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے۔ پاکستان شاید براہِ راست اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہ کرے، مگر ایک "خاموش پیش رفت” کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت کئی مرحلوں میں سامنے آسکتی ہے:
اسرائیل کے ساتھ پسِ پردہ انٹیلی جنس یا ٹیکنالوجی تعاون۔
اسرائیل مخالف سخت بیانیے کی جگہ محتاط خاموشی۔
تھنک ٹینکس اور میڈیا میں ایسا ڈسکورس جو عوامی رائے کو نرم کرنے لگے۔
اور بالآخر کسی عالمی بحران کو جواز بنا کر محدود سطح پر تعلقات کا اعلان۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے اسرائیل کی طرف براہِ راست نہیں تو بالواسطہ ایک "خاموش قدم” ضرور بن سکتا ہے۔ اس وقت حکومت یا فوجی قیادت کھل کر اس بحث میں نہیں آ رہی، مگر حقائق یہ ہیں کہ عالمی دباؤ اور خطے کی نئی صف بندیوں کے نتیجے میں پاکستان کو کسی نہ کسی مرحلے پر اس مسئلے کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کو کب تسلیم کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی عوام کو اعتماد میں لیے بغیر، ایک تدریجی عمل کے ذریعے اسرائیل کی طرف بڑھ رہا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو اس کے اثرات صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور عوامی اعتماد پر بھی گہرے ہوں گے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں کاغذ پر کیے گئے معاہدوں کی طاقت اور زمینی حقائق کی کمزوری ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ فی الحال خوش آئند ضرور ہے، مگر یہ سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے:
کیا یہ معاہدہ، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خاموش ابتدا ہے؟