امن کا عالمی دن

بھگوت گیتا میں کرشن, ارجن سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ
جو سب جانداروں کو یکساں نظر سے دیکھے، چاہے وہ دوست ہو یا دشمن، وہی سچا یوگی ہے. ”

"امن کا راستہ فرض کی تکمیل اور باہمی احترام میں ہے. ”

کرشن نے واضح کیا کہ جنگ صرف اس وقت جب ظلم اپنی حدیں پار کر جائے، ورنہ ہر لمحہ امن اور دھرم (انصاف) قائم رکھنا چاہیے.

ایک مرتبہ ایک کسان بدھ کے پاس آیا اور نہایت غصے میں، انتہائی تلخ لہجے میں کہنے لگا کہ تم سادھو لوگ سست ہو، کوئی کام نہیں کرتے، صرف دوسروں پر بوجھ بنتے ہو.

بدھ نے نرم لہجے میں جواب دیا کہ میں بھی کھیتی ہی کرتا ہوں مگر میری کھیتی دل کی زمین پر ہے، میں صبر کے بیج بوتا ہوں، ہمدردی کا پانی دیتا ہوں، امن کی فصل اگاتا ہوں.

بدھ کی انہیں تعلیمات کا اثر تھا کہ کلنگا کی جنگ میں ڈیڑھ لاکھ انسانوں کو قتل کرنے والا اشوک، بدھ مت قبول کرنے کے بعد انسانوں، جانوروں اور درختوں تک کے حقوق کے تحفظ اور امن کا درس دے رہا تھا. یوں بدہیئت اور وحشی اشوک، اشوکِ اعظم بن گیا.

حضرت موسیٰؑ کو ملنے والے "دس احکام” (Ten Commandments) میں سب سے بڑا اصول یہ تھا کہ قتل نہ کیا جائے.

موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں
"اگر تو نے اپنے دشمن کے گدھے کو گمراہ پایا، تو اسے واپس لوٹا دینا؛ اگر تو اپنے دشمن کے جانور کو بھی بوجھ تلے دبا ہوا دیکھے، تو اس کی مدد کرنا۔”
وقت آگے بڑھتا ہے.

رومی سماج حضرت عیسٰی علیہ السلام کے خلاف ہو گیا.
بائبل کے مطابق، سماج نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پکڑ لیا. عیسیٰؑ کو کانٹوں کا تاج پہنایا گیا، برا بھلا کہا گیا، کوڑے مارے گئے،صلیب اٹھانے پر مجبور کیا گیا اور آخرکار صلیب پر لٹکا دیا گیا. عیسٰی علیہ السلام نے سر اٹھایا اور دعا کی کہ خداوند تو انہیں معاف کرنا، یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟

آج وہی صلیب، اڑھائی ارب انسانوں کی علامت بن کر، اُن کے گلے میں، دل کے قریب، لٹک رہی ہے.

وقت کہاں رکتا ہے، پھر آگے بڑھ گیا. عرب کی سرزمین اور 8 ہجری. ایک ایسا لشکر، فاتح کی حیثیت سے شہرِ مکہ میں داخل ہو رہا تھا، جس پر اس شہر کے لوگوں نے آٹھ سال پہلے، اس قدر مظالم ڈھائے، تکالیف دیں کہ وہ اپنے باپ دادا کا شہر چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے. آج وہی لوگ شرمندہ اور خوفزدہ ہو کر کھڑے تھے، لشکر میں سے کچھ آوازیں آ رہی تھیں کہ آج بدلہ لینے کا دن ہے. لیکن ایک آواز آئی کہ نہیں! آج معاف کرنے کا دن ہے. یہ آواز کل کے مظلوم اور آج کے فاتح لشکر کے سربراہ یا امیر، محمد ص رسول اللہ کی آواز تھی. جن کے ہاتھ میں امن کا پرچم تھا.

محمد ص کی اسی تربیت کا اثر تھا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رض نے میدانِ جنگ میں دشمن لشکر کے ایک جری جرنیل پر غلبہ حاصل کر لیا. حضرت علی رض کی تلوار، اُس کی گردن پر تھی. لمحے بھر میں، اُس کا سر تن سے جدا ہو سکتا تھا، اتنے میں اُس شخص نے غصے اور انتقام میں آ کر، اُن کی طرف تھوک دیا. حضرت علی رض کو غصہ آ گیا، جونہی حضرت علی رض کو غصہ آیا، انہوں نے اپنی تلوار اُس کی گردن سے ہٹائی اور پیچھے ہٹ گئے. دشمن حیرت زدہ رہ گیا، اس نے پوچھا:
"آپ نے مجھے قتل کیوں نہ کیا؟ حالانکہ آپ کے پاس پورا موقع تھا۔”

حضرت علیؓ نے جواب دیا:
"میں نے تمہیں اللہ کی خاطر زیر کیا تھا، لیکن جب تم نے میرے چہرے پر تھوکا تو مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر اب میں تمہیں قتل کروں گا تو اس میں میرا ذاتی غصّہ شامل ہو جائے گا.

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا حضرت علی رض کو شیر خدا کے نام سے یاد کرتی ہے . کیوں کہ شجاعت کہتے ہیں عیش اور طیش میں اپنے، بپھرے ہوئے جذبات پر قابو پا لینا.
بابا گرو نانک، کہتے ہیں کہ؛

"ظلم اور جبر انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ہے، اصل بہادری امن قائم کرنا ہے”۔

روز ازل سے لے کر عصر حاضر تک کی تاریخ میں، آج انسانیت جن جن کرداروں کی تعظیم کرتی ہے، تقلید کرتی ہے، اُن میں سے کسی نے بھی، وہ بانیان مذاہب ہوں یا فلسفی، ادیب، سائنسدان ہوں یا سیاست دان، کسی نے بھی ظلم، جبر، بربریت اور وحشت کی حوصلہ افزائی نہیں کی.

انسانیت کی تاریخ انسانی لہو کے گارے سے، دیواریں کھڑی کرنے والوں اور انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانے والوں کو ٹھکرا دیتی ہے اور بہت جلد فراموش بھی کر دیتی ہے.

آج اگر کسی شخص یا گروہ نے ایک طرف ظلم اور جبر کا بازار گرم کر رکھا ہو اور دوسری طرف، انسانیت کے قابل تعظیم اور تقلید کرداروں سے اپنا تعلق بھی جوڑے تو اُس کے متعلق اپنے دل میں یہ سوچ لو کہ وہ ایک مداری ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں.

اپنی 3500 سالہ تاریخ میں، صرف 250 سال سے بھی کم عرصہ امن میں گزارنے والا انسان، 21 ستمبر کو امن کا عالمی دن مناتا ہے. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی انسانی دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ، حالتِ جنگ میں ہے. دنیا مسلسل تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کرہ ارض بائیس ہزار جوہری ہتھیاروں سے اٹا پڑا ہے.

انسانی ذات کے اندر، خوف، لالچ، غصہ اور انا، یہ چار جذبات ایسے ہیں کہ جن کا ظہور، عموماً معاشرے کے سب سے چھوٹے یونٹ، یعنی خاندان سے لے کر، عالمی سطح پر، وحشت، بربریت، سفاکیت اور درندگی کی صورت میں ہوتا ہے. اِن مُظاہروں کا آغاز کرنا تو انسان کے بس میں ہو سکتا ہے ، خاتمے کے حوالے سے یہ سب خود مختار ہوتے ہیں.

آج پوری دنیا کو، تیسری عالمی جنگ کی طرف ہانک کے لے جانے والے چند لوگوں کو کہیں ٹھہر کر نپولین کو سننا ہو گا ،جو کہیں ماضی میں کھڑا چیخ رہا ہے کہ خونریز جنگ کی فتح، شکست سے بھی بدتر ہوا کرتی ہے.

کہیں ٹھہر کر والٹئیر کو بھی یاد کر لینا چاہیے جس نے کہا تھا کہ اگر تم دہشت، وحشت اور بربریت کے میدان کو ایک مرتبہ دیکھ لو جہاں کٹی پھٹی لاشوں کے انبار ہوں، انسانی گوشت کی بُو چار سُو پھیلی ہو، تو تم دوبارہ وہ منظر دیکھنے سے پہلے یہ دعا کرو کہ تمہاری قوتِ بصارت سلب کر لی جائے.

اس لئے اے شریف انسانوں!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے. آؤ تیرہ بخت دنیا میں، فکر کی روشنی کو عام کریں، امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں. جنگ وحشت سے، بربریت سے، امن، تہذیب و ارتقا کے لئے، جنگ مرگ آفریں سیاست سے، امن انسان کی بقا کے لئے، جنگ افلاس اور غلامی سے. امن بہتر نظام کی خاطر، جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے. امن بے بس عوام کی خاطر. جنگ سرمائے کے تسلط سے، امن جمہور کی خوشی کے لئے، جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف، امن، پرُامن زندگی کے لئے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے