چچا ٹرمپ کی حرکتوں اور فیصلوں سے لگتا ہے اس کے مشیر بھی اسحاق ڈار اور خواجہ آصف ہیں۔
چچا ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے دنیا کو حیران کرتے آئے ہیں۔ کبھی دیوار بنانے کے خواب دکھاتے ہیں، کبھی چین پر ٹیکس لگاتے ہیں، اور اب تازہ شوشہ یہ چھوڑا ہے کہ H-1B ورک ویزا کے خواہش مندوں سے سیدھا سو ہزار ڈالر کی فیس وصول کی جائے۔ سو ہزار ڈالر۔۔؟؟
اتنی رقم میں تو ہمارے ہاں ایک عدد کنال کا مکان اور ساتھ دو دفعہ حج بھی آرام سے ہو سکتا ہے۔
چچا ٹرمپ کا جواز یہ ہے کہ اس فیصلے سے امریکی شہریوں کے لیے زیادہ نوکریاں پیدا ہوں گی۔ بظاہر یہ دلیل ٹھیک لگتی ھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی ٹیک کمپنیوں کا دراصل باہر سے آنے والے انجینئرز، ڈاکٹرز اور آئی ٹی کے ماہرین پر انحصار ہے۔ اتنی بھاری فیس بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں تو شاید برداشت کر لیں، لیکن چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیاں اپنے خواب ادھورے چھوڑ کر بیٹھ جائیں گی۔ یوں امریکی معیشت میں ایک خلا پیدا ہوگا ایک نئے بحران رونما ھوگا۔
بھارت اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ دنیا کے سب سے بڑے IT ایکسپورٹر ملک کے لاکھوں نوجوان ہر سال H-1B کے خواب آنکھوں میں سجائے امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔ اب ان خوابوں کی قیمت اچانک سو ہزار ڈالر فی کس ہو گئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ بھارتی نوجوان متبادل منازل ڈھونڈیں گے: یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور کینیڈا جیسے ممالک کی طرف ان کا جھکاؤ مزید بڑھ جائے گا۔
پاکستان کا معاملہ نسبتاً مختلف ہے۔ یہاں سے H-1B کے امیدواروں کی تعداد بھارت کے مقابلے میں کم ہے، مگر جو ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی پروفیشنلز امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، ان کے لیے یہ فیصلہ بجلی بن کر گرا ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ سوچیں کہ اچھا ہی ہوا، ملک سے ٹیلنٹ باہر نہیں جائے گا۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈالرز میں آنے والی ترسیلات زر میں کمی آئے گی، جو ملکی معیشت کے لیے گلوکوز کی حیثیت رکھتی ہیں۔
دیگر ترقی پذیر ممالک، مثلاً فلپائن، ویتنام اور افریقی ریاستیں بھی اس فیصلے سے بچ نہیں سکیں گی۔ امریکہ کی ہیلتھ کیئر انڈسٹری میں نرسز اور ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، جو انہی ممالک سے پوری کی جاتی ہے۔ اب جب ویزا حاصل کرنے کے لیے سو ہزار ڈالر دینا لازمی ہوگا تو ان شعبوں میں عملے کی کمی مزید سنگین ہو جائے گی۔
امریکہ میں مقامی سیاست کے تناظر میں چچا ٹرمپ کا یہ فیصلہ یقیناً ووٹرز کو خوش کرنے والا ہے۔ عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ’’دیکھو، ہم نے باہر سے آنے والوں کے لیے دروازے بند کر دیے، اب نوکریاں صرف تمہاری ہیں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکی نوجوان، (اکثریت کے جنرل نالج کا یہ حال ھے انہیں پتا ھی نھیں امریکہ سے باھر بھی کوئی دنیا ھے) وہ تمام خلا پُر کر پائیں گے جو دنیا بھر سے آنے والے ہنرمند چھوڑ جائیں گے؟ یا پھر چند سال بعد یہی کمپنیاں چچا ٹرمپ کی میز پر دستک دے کر کہیں گی: حضور! یا تو یہ فیس کم کریں یا ہماری فیکٹریاں بند ہونے کو ہیں۔
اصل دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کو ہوگا۔ یہ ممالک پہلے ہی ہنر مند افرادی قوت کو خوش آمدید کہنے میں مشہور ہیں۔ اب امریکی دروازے پر "سو ہزار ڈالر” کی تختی دیکھ کر جو لوگ واپس پلٹیں گے، وہ سیدھا انہی ملکوں کا ویزا فارم پُر کریں گے۔ یوں امریکہ کا نقصان سیدھا دوسروں کا منافع بن جائے گا۔
چچا ٹرمپ نے جس نعرے کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے، وہ ہے:
"American Jobs First”
حقیقت میں ہونا یہ ہے کہ
’’American Jobs Last‘‘
کے مترادف ایک بحران کھڑا ہو جائے گا، کیونکہ دنیا کے ٹیلنٹ کو روکنا ایسا ہی ہے جیسے بارش کے آگے چھتری تان کر سمجھ لیا جائے کہ بادل تھم گئے۔
سو ہزار ڈالر کی فیس نے H-1B ویزا کو "امریکی خواب” سے زیادہ "امریکی لاٹری” بنا دیا ہے۔ جس کے پاس رقم ہے وہ ٹکٹ خریدے اور قسمت آزمائے۔ باقی دنیا ہاتھ ملتی رہ جائے اور سوچتی رہے کہ خواب بھی اب ڈالر کے ریٹ پر ملتے ہیں۔
کبھی کبھی زندگی بھی ایسے ہی کھیل کھیلتی ہے۔ جیسے اسپتال میں غلطی سے بچہ بدل کر کسی اور کے ہاتھ میں آ جائے اور وہ بڑا ہو کر چچا ڈونلڈ ٹرمپ نکل آئے۔