قارئین کو بتاتا چلوں کہ فدا صاحب کے حوالے سے سولہ، سترہ سال بعد جو لکھ رہا ہوں اور اس سے پہلے نہیں لکھا اس کی بنیادی وجہ وہ ہے جو ڈاکٹر اسرار رحمہ اللہ،سید مودودی رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے کہ مجھے سید مودودی رحمہ اللہ سے ابتدائی عمر میں جذباتی محبت تھی، مگر ذہنی پختگی کی عمر میں پہنچ کر وہ محبت شعوری بن گئی۔میرے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا اور غالباً جو بندہ بھی انسانوں کی مثبت تربیت کرتا ہے، عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے مربی سے محبت بڑھتی ہے اور آخر میں وہ محبت شعور کی شکل میں تناور درخت کی طرح واضح نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو لوگ انسان کو راستے سے گمراہ کرتے ہیں، وقتی طور پر تو ان کے زیر تربیت فرد کو ایسے لگتا ہے کہ یہ بندہ مجھے شعور دے رہا ہے، مگر جب یہی فرد پختہ عمر کو پہنچتا ہے تو وہ شخص جس نے اسے جوانی میں گمراہی پر ڈالا ہو اور اس کے سامنے گمراہی کو شعور کے طور پر پیش کیا ہو، وہ اسے اپنا دشمن نظر آنے لگتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جو قرآن مجید میں خدا ذوالجلال نے ہمیں سمجھائی ہے کہ: "والعاقبة للمتقین”۔
فدا سعدی صاحب رحمہ اللہ کو خدا نے ایک ایسی صفت سے نوازا تھا جس کا علم مجھے سیرتِ پاک کے مطالعے سے ہوا۔ وہ صفت یہ تھی کہ آپ کا ہر کسی کے ساتھ ایسا رویہ ہوتا کہ اسے محسوس ہونے لگتا کہ میرے ساتھ فدا صاحب کا خاص تعلق ہے۔ یہی مجھے محسوس ہوتا تھا اور میرے ساتھ جو دوست تھے انہیں بھی یہی محسوس ہوتا۔
آپ مجھے کہا کرتے کہ میں تمہارے نانا مولانا عبد الہادی رحمہ اللہ سابق امیر جماعت اسلامی ضلع کرک کا شاگرد ہوں، انہوں نے میری عملی اور تحریکی تربیت کی ہے۔
میں فدا صاحب کے ساتھ جدھر بھی جاتا تو میرا تعارف ایسے ہی کرتے کہ یہ پروفیسر صاحب ہیں (اگرچہ اس وقت میں کچھ بھی نہیں تھا بلکہ محض ایک نوخیز نوجوان تھا) مولانا عبد الہادی مرحوم کے نواسے، جو میرے استاد تھے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد کو کتنی عزت دیتے تھے۔
فدا صاحب کی رحلت کے بعد جب میں نے باقاعدہ مدرسے میں علم کا سفر شروع کیا تو عربی کی جو بھی کتاب اساتذہ کرام پڑھاتے، مجھے محسوس ہوتا کہ یہ میں نے پہلے پڑھ رکھی ہے۔ خصوصاً عربی گرامر اور بول چال تو شاید میں نے کئی بار پڑھا ہوا تھا۔ابھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دراصل یہ وہی بات ہے جو صاحبِ سلوک حضرات فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ مہینوں کا سفر دنوں میں اور سالوں کا سفر مہینوں میں خدا کے فضل سے طے کرا دیتے ہیں۔ اس بات سے میری مراد مروجہ خانقاہی نظامِ اصلاح نہیں بلکہ فدا صاحب رحمہ اللہ کی تربیت کا وہی طریقہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقۂ تربیت کے حوالے سے مرشد مودودی نے فرمایا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تربیت میدانِ جنگ میں کی، بازاروں میں کی اور عملی طور پر حق اور باطل کی کشمکش میں ڈال کر کی۔”
فدا سعدی رحمہ اللہ کے رویے میں خدا پر بے پناہ توکل کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ہفتے کا دن تھا، میں کوہاٹ آ رہا تھا۔ اسی دن ہنگو شہر میں ارکان جماعت کا اجتماع بھی تھا۔ میں نے فدا صاحب سے اجازت چاہی کہ مجھے کوہاٹ جانا ہے اس لیے اجازت دی جائے۔ میری بات کے جواب میں فدا سعدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے بھی کوہاٹ جانا ہے، اجتماع ختم ہو جائے تو ایک ساتھ جائیں گے۔ اس دن اجتماع غیر معمولی طور پر طویل ہوا۔ عصر کے بعد میں نے فدا سعدی رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ سر میں جاؤں تو فرمایا کہ میں نے بھی جانا ہے، پروگرام ختم ہونے دو۔ جب شام ہوئی تو اجتماع ختم ہوا۔ ان دنوں ہنگو کے حالات ایسے تھے کہ شاید یہ تصور ہی ہو سکتا تھا کہ شام کے وقت کوہاٹ جانے کے لیے گاڑی ملے۔ جب ہم اجتماع گاہ سے روڈ کی طرف آنے لگے تو میں نے فدا سعدی رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ سر! کیا گاڑی اس وقت ہمیں مل سکتی ہے؟ میرے اس بات پر آپ تھوڑا کھڑے ہوئے اور جلالی انداز میں فرمانے لگے کہ "خدا سے ابھی لاکھوں روپیہ مانگو!”
فدا صاحب کی اس بات میں اتنا اثر تھا کہ مجھ پر خوف طاری ہوا اور میں یکدم خاموش ہو گیا۔ ہم جیسے ہی روڈ پر پہنچے ایک گاڑی ہمارے سامنے آ کر کھڑی ہوئی، ہمیں ایک لمحہ بھی انتظار نہیں کرنا پڑا۔ مجھے یہ وہی بات محسوس ہوتی ہے جو حدیث میں وارد ہوئی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بہت سے ایسے پراگندہ بالوں والے، غبار آلود اور دو پرانے کپڑوں والے (خستہ حال) لوگ ہیں جنہیں دنیا والے کوئی اہمیت نہیں دیتے، لیکن اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھیں (دعا یا درخواست کے طور پر) تو اللہ ان کی قسم ضرور پوری فرما دیتا ہے۔”
جب ہم گاڑی میں بیٹھے تو تقریباً اندھیرا ہو رہا تھا اور شام کی نماز کا وقت ہم سے نکل رہا تھا۔ لیکن چونکہ ہم اس وقت شیعہ حضرات کے علاقے سے گزر رہے تھے جو کہ اس وقت نہایت حساس علاقہ تھا، فدا صاحب نے ڈرائیور سے وہاں نماز کے لیے رکنے کو کہا مگر ڈرائیور نے علاقے کی بدامنی کا عذر پیش کیا۔ فدا صاحب نے کہا کہ اللہ محافظ ہے، اگر آپ نے گاڑی نہ روکی تو سارے لوگ نماز سے رہ جائیں گے۔ بہرحال ڈرائیور فدا صاحب کے سامنے ہار گیا اور نماز کے لیے گاڑی کھڑی کی۔
فدا سعدی رحمہ اللہ محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سرکردہ رکن تھے۔ جن دنوں میں فدا صاحب امن کمیٹی کے رکن رہے ان میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ فدا صاحب اور کمیٹی کے دیگر ارکان کو تھریٹس تھے۔ اسی وجہ سے لوکل انتظامیہ نے کمیٹی کے ہر رکن کو سیکورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ مگر فدا صاحب سیکورٹی رکھنے کے مؤید نہیں تھے۔ ڈی پی او نے فدا صاحب رحمہ اللہ سے خود کہا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، کمیٹی کے باقی ارکان نے سیکورٹی لے رکھی ہے، آپ کو ہم جو سیکورٹی دے رہے ہیں وہ قبول کریں۔ مگر فدا صاحب نے یہ کہہ کر سیکورٹی لینے سے انکار کیا کہ: "میرا محافظ خدا ہے، اس کے ہوتے ہوئے مجھے کسی محافظ کی حاجت نہیں۔”
کوہاٹ میں کمشنر کے آفس میں ہنگو کی سول انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کا اجلاس تھا جس میں ایم پی اے، ایم این اے، ڈی سی او اور ڈی پی او کے علاوہ علاقے کی عام سماجی شخصیات بھی مدعو تھیں۔ ان سماجی شخصیات میں فدا سعدی رحمہ اللہ بھی تھے۔ یہ واقعہ ڈی سی او کے پی اے نے بیان کیا کہ جیسے ہی میٹنگ شروع ہوئی تو کمشنر نے نہایت نامعقول اور ہتک آمیز زبان میں بولنا شروع کیا۔ عوامی نمائندوں اور ہنگو کی سول انتظامیہ کو گلی سڑی باتیں کیں۔ کمشنر جب تھوڑے وقت کے لیے خاموش ہوئے تو فدا سعدی رحمہ اللہ نے اٹھ کر کمشنر کو مخاطب کیا اور انگریزی زبان میں کہنے لگے: "کیا تمہیں یہ علم نہیں کہ بات کیسے کی جاتی ہے؟ تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تم ہنگو کے معزز عوامی نمائندوں، انتظامیہ اور معزز سماجی شخصیات سے مخاطب ہو۔ کمشنر کی کرسی پر بیٹھ کر اگر تمہیں بولنا نہیں آتا تو آپ اس کرسی کے لائق نہیں ہو۔”
یہ واقعہ بیان کر کے ڈی سی او کے پی اے نے کہا کہ فدا صاحب نے جب کمشنر کو یہ باتیں کہیں تو کمشنر پر عجیب سی حالت طاری ہوئی، جس طرح کوئی شدید دباؤ اور خوف سے دوچار ہو۔ پی اے نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ تمام افسران اور عوامی نمائندے فدا صاحب کی اس گفتگو سے نہایت خوش ہوئے۔
فدا صاحب کی شادی کا واقعہ بھی نہایت دلچسپ ہے جس کی تفصیل تو پوری طرح یاد نہیں، مگر اتنا یاد ہے کہ فدا صاحب کو ان کی والدہ محترمہ نے بٹھا کر پوچھا کہ ہم آپ کے لیے رشتہ مانگنے جاتے ہیں؟ فدا صاحب نے والدہ محترمہ سے کہا کہ آپ میرے لیے رشتہ مانگنے نہ جائیں، میں شادی تب کروں گا جب کوئی خود مجھے رشتہ دینے آجائے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔
فدا صاحب لباس اور وضع قطع سے نہایت سادہ نظر آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بندہ ان سے پہلی مرتبہ ملتا تو اسے احساس تک نہ ہوتا کہ میں اس شخص سے مل رہا ہوں جسے کئی زبانوں پر عبور حاصل ہے، جو ایک بڑی تحریک کی مرکزی شوریٰ کے رکن ہیں، جو عمل کی دنیا کا عصرِ حاضر میں ایک نایاب ہیرا ہے۔ مگر بندہ جتنا جتنا ان کے قریب جاتا تو اسے فدا صاحب کی عظمت کا پتہ چلتا کہ یہ سادہ لباس میں ملبوس، بے تکلفی سے ایک دوسرے کے گلے ملنے والا شخص کتنا بڑا انسان ہے۔ فدا صاحب میں یہ وہی صفت تھی جو واصف صاحب نے کہی کہ "خاص بنو عام رہو”۔ فدا صاحب خاص تھے مگر اپنی سادگی سے انہوں نے اپنے آپ کو عام بنایا تھا۔ دراصل ہمارے معاشرے میں ایسے ہی لوگوں کی کمی ہے جو دور سے عام نظر آتے ہوں اور قریب سے عظیم معلوم ہوتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب کسی کو دور سے دیکھا جائے تو وہ بڑا انسان محسوس ہوتا ہے مگر جب بندہ اس کے قریب جاتا ہے تو اس پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس بندے کی عظمت محض اس وقت تک ہے جب تک اسے قریب سے نہ دیکھا جائے، جیسے ہی کوئی اس کے قریب جاتا ہے تو اس کی عظمت کی قلعی کھل جاتی ہے۔
ایک مرتبہ سابق صوبائی وزیر غنی مرحوم نے از راۓ تفنن فدا صاحب کی موجودگی میں کہا کہ جماعت اسلامی والوں کو امریکہ سے پیسے ملتے ہیں۔ تو فدا سعدی رحمہ اللہ نے کہا کہ ہاں جناب! لینڈ کروزر میں آپ گھومتے ہو اور امریکہ سے پیسے ہمیں ملتے ہیں! اس پر صوبائی وزیر صاحب نے کہا کہ فدا صاحب کو ہم واقعۃً مانتے ہیں، ان کی ایمانداری پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ غنی مرحوم کے حجرے میں غالباً ان کے الیکشن میں پاس ہونے پر مبارک باد دینے گئے اور کھانے پر نہیں بیٹھے، کہا کہ میں یہاں کھانا نہیں کھاتا۔
ایک اور واقعہ یاد آیا، جب شیعہ برادری نے پورے ہنگو بازار کو آگ لگائی اور سارے شہر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس دوران واحد فدا صاحب ہی بازار میں شیعہ برادری کو منع کرنے کے لیے موجود تھے، آپ کے علاوہ کوئی بھی انہیں منع کرنے کے لیے نہیں تھا، سارے لوگ بازار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ایک مرتبہ فدا صاحب کے سامنے جماعت اسلامی پر کسی نے الزام لگایا تو فدا صاحب نے کہا کہ جماعت اسلامی والے ادھر کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے تم بھاگتے ہو۔
اس واقعے میں حکومت وقت نے ان لوگوں کو پیسے دینے کا فیصلہ کیا تھا کہ جس کا جتنا نقصان ہوا ہو، اسے اتنے پیسے دیے جائیں گے۔ اس واقعے میں فدا صاحب کا بازار میں چھوٹا سا کمرہ بھی جھلس گیا تھا۔ لوکل انتظامیہ چاہتی تھی کہ فدا صاحب کو زیادہ پیسے دیے جائیں، مگر فدا صاحب نے کہا کہ میرا صرف چھ سو روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہنگو کے ڈی سی او نے بعد میں کہا تھا کہ مجھے پورے ہنگو میں ایک ہی مسلمان نظر آیا اور وہ فدا صاحب ہیں۔