مشرق وسطیٰ،نئی طاقتوں کا عروج

جب سمندر کی لہریں ساحل کو چھونے کی کوشش میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں، تو وہ نہ صرف پانی کو چھڑکتی ہیں بلکہ گہرائیوں سے راز کھول دیتی ہیں۔ آج مشرق وسطیٰ کی سیاسی کشتیاں بھی ایسے ہی موجوں میں لپٹی ہوئی ہیں، جہاں سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ ایک نئی لہر کی طرح ابھرا ہے، اور چین کا سایہ اس کی گہرائی کو مزید پراسرار بنا رہا ہے۔ یورپی میڈیا میں یہ بحث گرم ہے کہ یہ معاہدہ سعودیہ اور پاکستان کے درمیان ایک سادہ دفاعی بندھن نہیں، بلکہ بیجنگ کی خاموش موجودگی کا اعلان ہے۔

جرمنی کی ڈوئچے ویلے اور برطانیہ کی دی گارڈین جیسے معتبر ذرائع اسے "علاقائی جیو پولیٹیکس میں سنگ میل” قرار دے رہے ہیں، جہاں امریکہ کی سکیورٹی ضمانتیں کمزور پڑنے کے بعد خلیجی ریاستوں کو نئی حکمت عملی کی تلاش ہے۔ یہ معاہدہ، جو 17 ستمبر 2025 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی قیادت کے درمیان طے پایا، نہ صرف دہائیوں پرانی دوستی کو رسمی جامہ پہناتا ہے بلکہ ایٹمی طاقت رکھنے والے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی دفاعی چھتری کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اور اس کی پس منظر میں چین کی موجودگی اتنی واضح ہے کہ یہ "ممکن نہیں کہ بیجنگ غائب ہو” یہی الفاظ یورپی تجزیہ کاروں کے قلم سے نکل رہے ہیں۔

یہ معاہدہ سعودی عرب کی پالیسی کی ایک نئی جہت ہے، جہاں ریاض امریکہ کی بڑھتی ہوئی انحصار پذیری سے تنگ آ چکا ہے۔ اسرائیل کی قطر پر حالیہ حملے نے خلیجی ریاستوں کو جھنجھوڑ دیا، اور اب سعودیہ پاکستان کے ساتھ نہ صرف دفاعی تعاون بلکہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ ہتھیاروں کی پیداوار پر اتفاق کر رہا ہے۔ یہاں چین کا کردار مرکزی ہے؛ پاکستان، جو چین کا "آل ویدر سٹریٹیجک پارٹنر” ہے، بیجنگ کی مدد سے اپنی ایٹمی صلاحیت کو علاقائی سطح پر وسعت دے رہا ہے۔

نئی دہلی کی رپورٹنگ کے مطابق، یہ معاہدہ سعودیہ کو چین کے ہوالانگ ون پریشر وٹر ری ایکٹرز کی فراہمی کا دروازہ کھولتا ہے، جو نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرے گا بلکہ دفاعی خودمختاری کو مضبوط بنائے گا۔ یورپی میڈیا اسے امریکی-چینی کشمکش کی ایک کڑی قرار دیتا ہے، جہاں واشنگٹن کی خلیجی اتحادیوں پر گرفت کمزور ہو رہی ہے۔ الجزیرہ کے تجزیے میں لکھا ہے کہ "یہ معاہدہ خلیج کی پریشانیوں کا عکس ہے، جہاں امریکہ کی ساکھ گھٹ رہی ہے اور نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔”

پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں اب باقاعدہ فریق بننا ایک تاریخی موڑ ہے، جو پاکستان کی عالمی سفارتی جدوجہد کی بدولت ممکن ہوا۔ روایتی طور پر اسلام آباد کی خارجہ پالیسی جنوبی ایشیا تک محدود تھی، مگر اب یہ خلیجی سیاست کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ 2025 میں، جب ایران-اسرائیل تنازعہ نے علاقائی توازن کو ہلا دیا، پاکستان نے سعودیہ کو 3.4 بلین ڈالر کی مالی امداد کا وعدہ دیا، جو ایٹمی تجربات کی بنیاد رکھنے والا تھا۔

چین کی حمایت یہاں کلیدی ہے بیجنگ نے پاکستان کو کشمیر، دہشت گردی اور افغان سرحد پر سفارتی ڈھال فراہم کی ہے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے پانچ سالوں میں پاکستان کے 81 فیصد درآمد شدہ ہتھیار چین سے آئے، جو اب مشرق وسطیٰ کی دفاعی توازن کو تبدیل کر رہے ہیں۔

چین-پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) نہ صرف اقتصادی پل ہے بلکہ اسٹریٹیجک راہداری، جو گوادر سے لے کر خلیج تک چین کی رسائی کو یقینی بناتی ہے۔

اناطولیو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پاکستان کی سفارتی راہ مہربانیوں سے بھری ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی عدم استحکام، امریکی انتظامیہ کی تبدیلی اور چین کی سلامتی تشویشوں نے اسلام آباد کو نئی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ یہ پاکستان کا عروج ہے، جہاں قدیم صوفیانہ فلسفہ "وحدت الوجود” کی طرح، مشرق وسطیٰ کی متنوع قوتوں میں ایک مستقل جگہ بن رہی ہے – چین کی مدد سے۔

دوسری طرف، اسرائیل کی پالیسیاں جلد بازی کی نشانیاں دیتی ہیں، جیسے صحرا میں پانی کی تلاش میں بھاگتا مسافر۔ تل ابیب جانتا ہے کہ امریکہ کی عالمی بالادستی کا دور ختم ہو رہا ہے، اس لیے وہ علاقائی توسیع کی دوڑ میں ہے۔ 2025 میں، جب غزہ کی جنگ نے عالمی توجہ مبذول کی، اسرائیل نے مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو تیز کر دیا، خاص طور پر مشرقی یروشلم کے ای-1 علاقے میں، جو فلسطینی علاقوں کو کاٹنے کا سبب بن رہا ہے۔ الجزیرہ کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیلی جارحیت اور توسیع پسندی برتری کی نشانی نہیں، بلکہ ناگزیر ناکامی کی علامت ہے۔” امریکی عوامی رائے بھی بدل رہی ہے؛ ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ سروے بتاتی ہے کہ زیادہ امریکی غزہ تنازعہ میں اسرائیل کو "حد سے تجاوز” کرنے والا سمجھتے ہیں۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2025 میں حماس کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جو علاقائی تنازعات کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ یہ جلد بازی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اسرائیل اپنی "غنڈہ گردی” کو جاری رکھنے کا موقع دیکھ رہا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ مستقبل میں اسے روکا جائے گا پاکستان اور سعودی معاہدہ کے پیش نظر اور چین کے اتحادیوں کی طرف سے۔

اس منظر نامے کی سب سے دلچسپ جہت بنجامن نیتن یاہو کی چین کے خلاف براہ راست دھمکیاں ہیں، جو ایک ایسے طوفان کی پیش خیمہ معلوم ہوتی ہیں جہاں آسمان اور زمین کی سلطنت ٹکرائیں گی۔ 15 ستمبر 2025 کو، نیتن یاہو نے چین اور قطر کو "سیاسی محاصرہ” کا ذمہ دار ٹھہرایا، الزام لگایا کہ بیجنگ اسرائیل مخالف اے آئی پر مبنی میڈیا مہم چلا رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ "اسرائیل الگ تھلگ ہے، اور ہمیں سپارٹن کی طرح خود کفیل بننا ہوگا”، جبکہ چین کو "غربی پروپیگنڈا” کا حصہ قرار دیا۔ یہ دھمکیاں بلا وجہ نہیں؛ اسرائیل کی معاشی تنہائی اور ہتھیاروں کی پابندیوں کی نئی دھمکیاں اس کی پس منظر ہیں۔

دلچسپ یہ ہے کہ نیتن یاہو کا دعویٰ کہ "اسرائیل کی طاقت اور جدید ہتھیاروں کا دنیا کو اندازہ نہیں”، وہی لفظ ہیں جو بیجنگ دہراتا ہے: "چین کی طاقت کا باقی دنیا کو اندازہ نہیں۔” یہ متوازی بیانات دو عظیم طاقتوں کی نفسیاتی جنگ کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں دونوں اپنی چھپی ہوئی قوت کو ہتھیار بنا رہے ہیں۔

چین کا جواب تیز اور سخت تھا۔ تل ابیب میں چینی سفارت خانے نے بیان جاری کیا کہ "ہم نیتن یاہو کے بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔” گلوبل ٹائمز نے اسے "چین کی دھمکی” کی مغربی روایت قرار دیا، جو بعض قوتوں کی کوشش ہے کہ بیجنگ کو خطرہ دکھایا جائے۔ یہ ردعمل نہ صرف سفارتی ہے بلکہ اسٹریٹیجک؛ ایران-اسرائیل تنازعہ میں چین نے پہلے ہی اسرائیلی حملوں کی مذمت کی تھی، اور اب یہ دھمکیاں بیجنگ کو مزید متحرک کر رہی ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو کی رپورٹ بتاتی ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں اپنی طاقت کی پروجیکشن کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اب تک احتیاط برت رہا ہے مگر نیتن یاہو کی باتیں اس توازن کو بگاڑ سکتی ہیں۔ یہ دھمکیوں کا کھیل بڑے واقعات کی نوید سناتا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی سیاست اب عالمی محراب بن چکی ہے۔

یہ سب کچھ بڑے واقعات کے آغاز کا دور ہے، جہاں تاریخ کی کروٹ بدلنے والی ہے۔ سعودی-پاک معاہدہ، جو چین کی مدد سے ابھرا، پاکستان کو مشرق وسطیٰ کا ستون بنا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کی جلد بازی اور نیتن یاہو کی دھمکیاں ایک نئی سرد جنگ کی بو لاتی ہیں۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں، "تُو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا” – پاکستان اب شاہین کی طرح پرواز بھر رہا ہے، خود انحصاری کی پروازوں پر سوار۔ مگر یہ پرواز تنہا نہیں؛ یہ عالمی توازن کی نئی تشکیل ہے، جہاں امریکہ کا غروب اور چین کا طلوع مشرق وسطیٰ کو نئی روشنی دے گا۔ مستقبل میں، جب یہ لہریں ساحل کو چھوئیں گی، تو ریت پر نئی نقشے ابھریں گے – نقشے جو امن کی امید بھی رکھتے ہیں اور تنازعہ کی چھاؤں بھی۔ تاریخ گواہی دے گی کہ 2025 مشرق وسطیٰ کا سنہری باب تھا، جہاں پرانے سلطنتوں کے خاتمے اور نئی سلطنتوں کے آغاز کا اعلان ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے