نوے ژوند تنظیم کی جانب سے چوتھا امن ایوارڈ، اجمل خٹک کی صد سالہ سالگرہ، پشتون کلچر ڈے اور گرینڈ میوزیکل نائٹ

23 ستمبر 2025 کو اسلام آباد کے نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے آڈیٹوریم میں نوے ژوند یعنی "نئی زندگی” ادبی، ثقافتی و سماجی تنظیم کی جانب سے چوتھے امن ایوارڈ کی رنگارنگ تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام ادب، ثقافت، سماجی خدمت اور پشتون تاریخ کا حسین امتزاج تھا۔

تقریب کا باضابطہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جو چیئرمین نسیم مندوخیل کی کمسن صاحبزادی تانیہ مسکان مندوخیل نے نہایت خوش الحانی سے پیش کی۔

بعدازاں تنظیم کے سینیئر وائس چیئرمین راج مروت نے نہایت خوبصورت انداز میں شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اپنی پراثر نظم "امن” پیش کی، جس نے مجمعے پر گہرا اثر چھوڑا۔

چیئرمین نسیم مندوخیل نے حاضرینِ تقریب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس موقع پر نوے ژوند تنظیم کی کابینہ کے تمام اراکین کو سٹیج پر بلایا اور کہا:

آج کی اس کامیاب تقریب کی کامیابی انہی ساتھیوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

نسیم مندوخیل نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ تنظیم یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے ایک تعلیمی ادارہ قائم کرنے جا رہی ہے۔ اس عظیم مقصد کے لیے انہوں نے تمام سامعین سے تعاون کی اپیل بھی کی۔

تقریب کے دوسرے حصے میں انقلابی شاعر اجمل خٹک بابا کی پیدائش کے 100 سال مکمل ہونے پر خصوصی جشن منایا گیا۔ اس موقع پر کیک کاٹا گیا، ڈاکٹر عالم یوسفزئی نے اجمل خٹک کی اثر انگیز نظم پیش کی اور افراسیاب خٹک نے ان کی کتاب غیرت چغہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجمل خٹک پشتون نوجوانوں کے لیے فکری رہنما تھے۔

نسیم مندوخیل نے اس موقع پر شاعر و صحافی روخان یوسفزئی کے صاحبزادے زریاب خان کے علاج کے لیے مالی معاونت کی اپیل کی۔ اسی مقصد کے لیے روخان یوسفزئی کی کتابوں کا اسٹال بھی لگایا گیا، تاکہ فروخت سے حاصل آمدنی زریاب خان کے علاج پر خرچ ہو۔

پھر ادیبہ روخان یوسفزئی کی نئی کتاب کی رونمائی کی گئی، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔

معروف محقق نورالامین یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پشتو زبان اور اس کا لوک ادب پشتون معاشرے کا اصل روحانی سرمایہ ہے۔ انہوں نے لوک ادب اور پشتون ٹپوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور پشتون کلینڈر کی اشاعت کی تجویز پیش کی۔

ایوارڈز کا مرحلہ تقریب کا سب سے جذباتی حصہ تھا۔

بونیر امن جرگہ کے مشران سید لائق باچا وغیرہ کو "اجمل خٹک امن ایوارڈ” دیا گیا۔

مختلف ادباء، محققین، صحافیوں اور ڈرامہ نگاروں کو "فقیر ایپی ایوارڈ”، "سرور خٹک ایوارڈ”، "باچا خان ایوارڈ” اور "ب ب س امن ایوارڈ” پیش کیے گئے۔

ادبی تنظیموں جیسے "پشتو ادبی سوسائٹی”، "اباسین ادبی ٹولنہ” اور "خوبیندی ادبی لشکر” کو "خان عبدالصمد خان امن ایوارڈ” سے نوازا گیا۔

نمل یونیورسٹی کی پشتون کونسل کے طلباء کو امن میڈل پہنائے گئے۔

چیئرمین کی کمسن بیٹی تانیہ مسکان مندوخیل کو چائلڈ ایمبیسیڈر میڈل سے نوازا گیا۔

صحافی قمر یوسفزئی اور شعیب یوسفزئی کو بھی اعزازات دیے گئے۔

"بشری فاروق، تنظیم کارواں خوالتریری فورم” کی جانب سے نبی کریم ﷺ کے اسمِ مبارک کے میڈلز تقسیم کیے گئے۔

تقریب کے آخر میں موسیقی کا شاندار پروگرام ہوا۔ طیبہ ملک، اجمل عزیز، راج خان مروت، نائم توری اور عظیم خان واطنیار نے پشتو نغمے پیش کیے۔ نوجوانوں نے جوش و جذبے سے روایتی اتن ڈانس بھی پیش کیا۔

آخر میں افراسیاب خٹک نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا:

جو قومیں اپنی تاریخ، ادب اور ثقافت کو زندہ رکھتی ہیں، وہی دنیا میں زندہ رہتی ہیں۔ نوے ژوند نے اس تقریب کے ذریعے پشتون معاشرے کو فکری وحدت دی ہے۔

یوں یہ تقریب صرف ایک ایوارڈ شو نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ثابت ہوئی، جس نے امن، ثقافت اور انسانیت کا پیغام عام کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے