انسانی سماج میں ہر دور کے اندر کچھ لوگ، کچھ دل، کچھ گھر اور کچھ کام ایسے پائے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو یہ کل نظام ہستی برقرار رکھنے کا جواز فراہم کر رہے ہیں۔ یہ کائنات جس سپرٹ کے ساتھ قائم ہے وہ خیر ہے اور شر کے بھی بے شمار صورتیں آزمائش کے طور پر چار دانگ عالم میں موجود ہیں۔ لوگوں سے زندگی میں اللہ تعالیٰ کو خیر کا اہتمام اور شر سے اجتناب مطلوب ہے انسان اگر خیر کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چل رہا ہو تو وہ خالق کائنات کی نظر میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس دستور کے خلاف زندگی بسر کر رہا ہو تو یقین کریں کہ وہ وسیع تناظر میں دیرپا حوالوں سے ایک نامراد وجود ہے۔
مجھے اپنی چالیس سال سے اوپر کی زندگی میں ایسے لوگوں، دلوں، گھروں اور کاموں کو قریب سے دیکھنے اور برتنے کا موقع ملا ہے کہ جن کو میں نے اپنے دل میں نظام ہستی کی برقراری کا ایک بڑا سبب جانا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اگر لوگوں، دلوں، گھروں اور کاموں سے خیر اور خلوص نکل جائیں تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو طبل قیامت بجانے میں پھر کوئی دوسری چیز حائل نہیں ہوگی کیونکہ کائنات کی بساط شر اور فساد کے لیے قطعاً نہیں بچھائی گئی ہے اس کا مقصد خیر ہے، تعمیر ہے، اصلاح ہے، خدمت ہے محبت ہے، خلوص ہے اور مہربانی ہے۔
ایسے ہی گھروں میں سے ایک میری پھوپھی جان کا گھر بھی ہے کہ جہاں خیر اور خلوص دونوں بڑے پیمانے پر موجود ہیں اس گھر میں خدا کی عبادت اور مخلوق خدا پر شفقت ایک بنیادی قدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے بوجوہ اس گھر میں برس ہا برس رہنے کا اتفاق ہوا ہے میں دل کی گہرائی اور روح کی سرشاری سے گواہی دیتا ہوں کہ یہ گھر روئے زمین کے اچھے گھروں میں سے ایک ہے۔ عبادت، نفاست، شرافت، شفقت، مہمان نوازی، ذرہ نوازی، اقربا نوازی، سلیقہ شعاری، لحاظ داری اور باوقار خاموشی نے اس گھر کے مجموعی ماحول کو نہایت آسودہ، باوقار اور پر سکون بنایا ہے۔ میں عینی شاہد کے طور پر شمار نہیں کر سکا ہوں کہ کتنے یتیموں کے سر پر یہاں دست شفقت رکھا گیا ہے، کتنے ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوئی ہیں، کتنے غریبوں کی لگاتار مدد ہو رہی ہے، کتنے بھوکے پیاسے ادھر سیر ہوتے ہیں، کتنے دکھوں کا مداوا اس چار دیواری میں ہوا ہے اور گرد و پیش کی کتنی خوشیوں میں دست تعاون دراز ہوا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی نظر اور کراما کاتبین کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ برکت اس گھر کی فضا میں، کشادگی دسترخوان میں اور شائستگی عمومی رویوں میں اچھی طرح رچی بسی ہیں۔
2004 ء میں مجھے اسلامک یونیورسٹی میں داخلہ تو ملا لیکن ہاسٹل نہ ملا یوں مجھے پھوپھی جان کا گھر اپنا مسکن بنانا پڑا، ڈیڑھ دو سال کا عرصہ میں نے ایسے سکون، آسودگی اور راحت کے ساتھ گزارا کہ گویا ایک دن کا مہمان ہوں۔ میری پھوپھی جان اور تمام کزنز نے مجھے دائمی محبت اور شفقت سے نوازا۔ میں نے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کوئی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا جو میرے عزیزوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔ میں اگر دن میں پانچ مرتبہ بھی باہر نکل کر واپس آتا تو میری پھوپھی جان ایسی محبت، گرم جوشی اور والہانہ انداز سے استقبال کرتی کہ گویا پورے سال کے بعد آیا ہوں۔
شفقت، خلوص اور ہمدردی کے پیکر محترمہ پھوپھی جان وقفے وقفے سے ظاہر کیے بغیر جیب میں جیب خرچ بھی رکھ دیتی تھی۔ صبح کے وقت دودھ کا گلاس، دوپہر کو فروٹ کی پلیٹ اور شام کو قہوے کا کپ اکثر عطا کرتی تھی جب کبھی رغبت نہ ہوتی تو بھی ترغیب دلاتی اور نہایت محبت سے کہتی! عنایت کھایا کریں، ہر وقت پڑھتے رہتے ہو، آپ کو بہتر خوراک کی ضرورت ہے”۔ مجھے اپنی پھوپھی جان کے گھر سے ملنے والا ہر طرح کا سپورٹ میسر نہ آتا تو بلا شبہ میں اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ پاتا۔ میری پڑھائی، نوکری اور آسودگی میں اس گھر کا بڑا ہاتھ ہے۔
محترمہ پھوپھی جان کو دین سے نہ صرف بے انتہا محبت اور عقیدت تھی بلکہ دینی تعلیمات پر پورے خلوص اور اہتمام سے عمل پیرا بھی رہی، دینی مسائل پوچھنا اور سوالات کرنا ان کا مستقل معمول تھا، میرے ساتھ گھنٹوں دینی موضوعات پر تبادلہ خیال کرتی جب کبھی کوئی نئی بات ان کے علم میں آتی تو بے حد خوشی کا اظہار کرتی۔ بلا تفریق انسانوں کی ہر خوشی اور کامیابی پر وہ سرشار ہوتی اور اسی طرح دکھ کے لمحات یا تکلیف کے واقعات پر تڑپ اٹھتی، میں نے زندگی میں اس جیسی انسانی ہمدردی اور خیر خواہی والی کوئی دوسری خاتون میں نہیں دیکھی۔
ان کی سخاوت، شفقت، محبت، خدمت، معاونت اور دعائیں ہر طرح کے حدود و قیود سے ماورا تھیں۔ اللہ اور رسول کی محبت سے سرشار، عبادت الاہی میں مگن اور مخلوق خدا کی انتھک خدمت میں ہر دم مصروف عمل انسان جو دو ہزار چودہ کو دو تین سال کی تکلیف دہ بیماری سے گزر کر اپنے رب کے حضور پہنچ گئی ہیں اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت الفردوس کا باغیچہ بنا دیں۔ میں فرطِ جذبات سے نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت کہہ رہا ہوں کہ اگر ملک بھر میں دس بیس اچھے انسانوں کی فہرست (دینی و دنیاوی خوبیوں کی بنیاد پر) ترتیب دیا جائے تو اس میں میری پھوپھی جان ضرور جگہ پائے گی۔ مجھ سے میرے ایک عزیز نے بھری محفل میں سوال کیا عنایت! تجھے دنیا میں کون سب سے زیادہ عزیز ہے؟ میں نے فوراً جواب دیا مولانا مودودی رحمہ اللہ اور برہ بی چی۔ (پھوپھی جان کو ہم برہ بی چی کے نام سے یاد کرتے تھے)
تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "میرے اوپر جس نے جو بھی احسان کیا میں نے زندگی میں ہی اس کا بدلہ چکایا لیکن ابوبکر صدیق کے احسانات میرے اوپر ایسے ہیں جن کا بدلہ میں چکا نہ سکا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کا بدلہ لوٹائے گا”۔ میری زندگی میں عین یہی مقام پھوپھی جان کو حاصل ہے۔ میری پھوپھی جان کے گھر کا میرے اوپر جو احسانات ہیں حقیقت یہ ہے میرا دل اور روح زندگی کے آخری سانس تک ان کے احساس سے جھکے رہیں گے۔ میں دائمی طور پر دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کو ہمیشہ آسودہ، روشن اور آباد رکھے اور اس کے مکینوں کو دین و دنیا کی تمام تر سعادتوں سے اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ ہمکنار رکھیں۔
یہ گھر درحقیقت ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں رسم و رواج کی خشکی اور تکلفات کا بوجھ نہیں بلکہ اخلاق و محبت کی شادابی ہے۔ یہاں کی فضا میں داخل ہوتے ہی انسان کے اندر موجود بہترین صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ ہر فرد کی ذات اس گھرانی کے لیے ایک عظیم سرمایہ تھی اور ہر مہمان اس گھر کے لیے رحمت کا نزول۔ یہاں کی دیواریں نمازوں کے اہتمام، بچوں کے قہقہوں، علم کے تبادلے اور غمگساری کے سکوت سے گونجتی ہیں۔ یہ وہ پاور ہاؤس ہے جو کہ نہ صرف اپنے مکینوں کو بلکہ ہر آنے والے کو عزت، توقیر اور نیکی کا جذبہ عطا کر کے بھیجتا تھا۔
میری پھوپھی جان کی شخصیت اس گھر کی روح تھیں۔ان کی موجودگی ایسے ہی تھی جیسے کسی باغ میں شبنم کی لطافت اور پھولوں کی مہک یکجا ہو جائے۔ ان کا ہر عمل سنت نبوی ﷺ کی روشنی میں ڈھلا ہوا تھا۔ وہ نہ صرف خود دینی احکامات کی پابند تھیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی نرمی اور حکمت سے راہِ ہدایت دکھاتی تھیں۔ ان کے چہرے کی تروتازگی اور دل کی نرمی ہر کسی کے لیے تسکین کا سامان تھی۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شفا تھی، ان کے ہاتھوں کی عطا میں برکت تھی، اور ان کی دعاؤں میں قبولیت کی امید تھی۔
آج جب کہ میری پیاری پھوپھی جان اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کا قائم کردہ یہ پاور ہاؤس ان کی روحانی وراثت کو تازہ رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بچوں اور دیگر اہل خانہ نے اس مشعل کو بلند رکھا ہے۔ یہ گھر اب بھی اسی طرح خیر و برکت کا مرکز ہے، اسی طرح غریبوں اور مسکینوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہی تو کسی عظیم انسان کی پہچان ہے کہ وہ اپنے جانے کے بعد بھی اپنے نیک اعمال اور بہترین تربیت کی صورت میں ایک روشن ماضی اور تابناک مستقبل چھوڑ جاتا ہے۔ یقیناً یہ ان ہی کے صدقے ہے کہ ان کی اولاد بھی دین و دنیا میں سرخرو ہو رہی ہے۔
ایسے گھر ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔یہ وہ قلعے ہیں جو معاشرتی برائیوں اور مادہ پرستی کے طوفان کے سامنے بند باندھنے کا کام کرتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اردگرد ایسے پاور ہاؤسز کی قدر کریں، ان سے وابستہ لوگوں کا وقار بڑھائیں اور ان کی روشنی کو اپنے اپنے گھروں تک پھیلانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اگر ایسے گھر ختم ہو گئے تو معاشرے کی روحانی بیٹریاں ڈاؤن ہو جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے ہی گھر بنانے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے، جہاں سے خیر کے چشمے پھوٹیں اور جہاں کی برکات پورے معاشرے کو فیض پہنچائیں۔