محمد حماد احمد: ایک سمارٹ، لائق، ذہین، پر اعتماد اور خوش اخلاق کولیگ کا دلنشین تذکرہ

ایک اچھا، سچا، میٹھا اور کھرا دوست دل کی بہار، روح کا پڑوسی، ذہن کی طاقت اور زندگی کے سفر میں اہم مددگار ہوتا ہے۔ ایسا دوست ہی زندگی میں خوشیاں، مسرتیں اور رعایات لاتا ہے۔ دنیا میں سب سے غریب اور مسکین وہ فرد ہوتا ہے جسے کوئی ڈھنگ کا دوست میسر نہیں۔ خاندان کے بعد سماجی زندگی میں سب سے بڑی اور اہم ضرورت مناسب دوست ہی ہے۔ حیرت ہے لوگ اچھی سے اچھی جاب تلاش کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں لیکن وہ اچھا دوست پانے میں اس اہتمام سے کام نہیں لیتے جو فی الحقیقت زندگی کا ایک بڑا اور اہم خانہ بھر دیتا ہے۔

تاجدار کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "دوست، دوست کے دین (فطرت) پر ہوتا ہے، خبردار دوست کے انتخاب میں ضروری احتیاط برتیں”۔ میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے اچھے اور سچے انسانوں کو حلقہ احباب میں شامل کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔ محمد حماد احمد (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا ہیڈکوارٹر، اسلام آباد) میرے گلستان احباب میں ایک ایسا باوقار نام اور کردار ہے جس پر میں بلا شبہ فخر کر رہا ہوں۔ آپ سمارٹ بھی ہے اور لائق بھی، ذہین و فطین بھی ہے اور ایمان دار بھی، حوصلہ مند بھی ہے اور پر اعتماد بھی ہے، خوش اخلاق بھی اور مہربان بھی۔ میں گزشتہ چار برس سے اس کے ساتھ کام کر رہا ہوں لیکن کام نہیں بلکہ کام سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ ایک ایسا فرد واقعی محسن ہے جو آپ کے لیے کام کو بوجھ کی بجائے لطف میں بدل دیں آئیے پہلے محمد حماد احمد کا تعارف کرتے ہیں اور پھر اس کی شخصیت پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں!

"میرا پورا نام محمد حماد احمد ہے۔ 1996 کو اسلام آباد میں پیدا ہوا ہوں”۔

اپنی تعلیم کے بارے میں کہتے ہیں!

"انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے میڈیا اینڈ کمیونکیشنز سٹڈیز میں بی ایس کیا ہے جبکہ اسی سبجیکٹ میں رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے ایم ایس کی ڈگری لی ہے”۔

کھانے پینے کے حوالے سے اپنی خصوصی رغبت کے بارے میں بتاتے ہیں!

"کھانے میں سیور فوڈ سے سچا، پکا اور حقیقی عشق ہے”

اپنے والدین اور خاندان کے بارے میں کچھ یوں لب کشائی کرتے ہیں!

والد اور والدہ الحمداللہ حیات ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پل پل ہمارے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ میرا دن مکمل نہیں ہوتا جب تک میں اپنے والدین سے پورے دن کی روٹین شیئر نہ کر سکوں اور ان کی ہدایات پر غور نہ کر سکوں۔ اللہ پاک میرے والدین کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور انہیں کبھی کسی کا محتاج نہ کریں”۔

وہ مزید کہتے ہیں!

"والدین سمیت بڑی بہن اور بڑے بھائی ہمیشہ سے انتہائی پیار کرتے ہیں۔ ہر آن جائز خواہش پوری کرنے کی بات ہو یا کوئی بھی ماجرہ، میرا ساتھ دینا اور سپورٹ کرنا ہمیشہ سے انکی اولین ترجیح رہی ہے”۔

وہ کہتے ہیں!

"شادی کی خوشی اللہ نے 2022 میں نصیب کی ہے جبکہ بیٹے کی نعمت سے 2023 میں سرفراز ہوا ہوں۔ عزیز از جان بیٹے کا نام محمد اذہان ہے”۔

اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا!

"تاحال محمد حماد کی ایک عدد حاضر سروس بیوی ہے جو کہ ہوم منسٹر کی حیثیت سے قابلِ قدر خدمات سر انجام دے رہی ہیں”۔

کھیل کود کے حوالے سے بتایا!

"کرکٹ دیکھنا اور کھیلنا دونوں بہت ذیادہ پسند ہیں”۔

پیشہ ورانہ خدمات کے بارے میں بتایا!

"وکیل نہ ہونے کے باوجود نادرا کے موقف کو پاکستان انفارمشن کمیشن کورٹ میں رکھنا اور نادرا کا کیس لڑنا میری جاب ڈیوٹیز میں شامل ہے”۔

سیاسی رجحان کے حوالے سے بتایا!

"سیاست میں خاصی دلچسپی رکھتا تھا مگر کچھ برس پہلے تک، ابھی کسی جماعت سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی پر اعتبار، سب چور ہیں، عمران خان خود ایک بہترین انسان ہے مگر اس کے ساتھی سارے کے سارے لٹیرے، چور اور لوٹے ہیں اور اس کے نام اور مقبولیت پر اپنی مکروہ سیاست کر رہے ہیں ہاں مگر، جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ سے کافی متاثر ہوں، کیونکہ اس تنظیم کا ہر ایک کارکن ایک ہی طبیعت کا ہے انتہائی خوش مزاج، خوش اخلاق، باذوق اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق عمل کرنے والے نوجوان ہیں۔ اس لیے جماعت اسلامی کے بارے میں ان دنوں سوچتا ہوں۔ سیاسی حمایت کے لیے یہ بہتر آپشن ہے”۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے بارے میں مزید بتاتے ہیں!

"اگر میں اپنے گزرے ہوئے وقت میں واپس جانا چاہوں تو یونیورسٹی میں اسلامی جمیعتِ طلبہ جوائن کرنا چاہوں گا تاکہ اس تنظیم کی قربت میں رہ کر دین سمیت دنیا میں کامیابی کے لیے انکی سنگت میں رہ سکوں۔ یہ خیال عمر اور تجربے کے باعث آیا ہے”۔

اپنے بہترین دوست کے بارے میں کہا!

میرا بہترین دوست حسن نواز صوفی ہیں۔ جن کا تعلق چیچہ وطنی سے ہے اور جو پاکستان کسٹمز میں اسسٹنٹ ککلٹر کی پوسٹ پر فائز ہیں”۔

زندگی کی سب سے بڑی خواہش کے بارے میں بتایا!

سب سے بڑی خواہش یہ ہے "اللهم اغفرلنا قبل الموت، وارحمنا عند الموت، ولا تعذبنا بعد الموت، ولا تحاسبنا يوم القيامة، انك علي كل شئي قدير”۔

ترجمہ:

"یا الله موت سے پہلے ہماری مغفرت فرما اور موت کے وقت رحم فرما اور موت کے بعد ہمیں عذاب سے بچا اور قیامت والے دن ہم سے حساب نہ لینا بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے”۔

محمد حماد احمد کے ساتھ میرا تعارف 2021 میں اس وقت ہوا جب ہم دونوں کی وزارتِ داخلہ کے میڈیا سیکشن میں ڈیوٹی لگی۔ رفتہ رفتہ تعارف دفتری تعلق میں بدلا اور پھر یہ دفتری تعلق ذاتی دوستی میں، آج محمد حماد احمد میرے اچھے دوستوں میں سے ایک ہے۔ محمد حماد بطورِ کولیگ اور دوست میرے لیے خوشی اور اطمینان کا ذریعہ ہے۔ آپ اخلاق، صلاحیت اور تعاون سمیت بے شمار خوبیوں کی بدولت تعریف کا مستحق ہے۔ کام اور خیالات میں میرے لیے اس کی حمایت، رویے میں مہربانی اور پیشہ ورانہ امور میں اس کی مہارت ایک نعمت جیسی ہے۔ جس لمحے سے ہم نے مل کر کام شروع کیا ہے، وہ میرے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ اس کے غیر معمولی اخلاق میں مجھے حقیقی گرمجوشی اور ہمدردی نظر آتی ہیں۔ جب بھی میں نے اس کی ضرورت محسوس کی تو وہ آسانی سے میسر آئے۔ بہت سارے لوگ شاید اتنے کام نہ کر رہے ہو البتہ وہ خود کو بہت مصروف دکھاتے رہتے ہیں لیکن محمد حماد میں کام کے دوران پُرسکون رہنے کی خوبی بدرجہ اتم موجود ہے، اور مسائل کے دوران ٹینشن لینے کی بجائے وقار اور ذہانت سے حل کی طرف جانے والا اس کا انداز بہت ہی متاثر کن ہے۔ محمد حماد کا فوکس جسمانی طور پر ادھر اُدھر دوڑنے کی بجائے دماغ کے ذریعے کام پر ہوتا ہے اور سمارٹ ورک کا حامی و حامل ہے۔

محمد حماد میرے لیے ایک خاص انسان ہے کیوں؟ اس لیے کہ روزانہ اگر کسی کا دیکھنا آپ کے لیے اطمینان کا باعث بنے، اس سے بات چیت کا دور خوشی کا موجب ٹھہرے، آپ مشورہ طلب کریں اور پل بھر میں خیر خواہانہ اور دانشمندانہ مشورہ سماعت میں محفوظ ہو، آپ کوئی کام بتا دیں اور وہ چند منٹ میں کر کے لوٹا دیں، آپ کوئی مسئلہ ڈسکس کر لیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ حل کی طرف بڑھنا شروع ہو جائے تو یقین کریں وہ بندہ آپ کے لیے اللہ کی جانب سے خاص ہے۔ اس کا ادراک لازم اور قدر و قیمت واجب ہے جو اس معاملے میں لاپرواہی کا مرتکب ٹھہرتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں سود مند اور صحت مند تعلقات کی نعمت سے محروم کر دیتا ہے۔

کام کے دوران مختلف مسائل اور احوال کا پیش آنا ایک ایسا امتحان ہوتا ہے جس سے کسی کی زندگی بھی ماوراء نہیں۔ مختلف ٹاسک اور لوگوں کے درمیان ہموار انداز میں اپنے فرائض منصبی انجام دینا محمد حماد کے ہاں ایک ایسی خوبی ہے جس کا مشاہدہ میں نے گزشتہ چار برس میں ایک دو نہیں، سینکڑوں بار کیا ہے۔ دباؤ آئے لیکن پڑے نہ، مشکل اٹھے لیکن جمے نہ، غصہ پیدا ہو لیکن بھڑکے نہ، کوئی ناپسند تو آئے لیکن توہین گوارا نہ کریں، کوئی سمجھانا مشکل ہو جائے تو آسانی تک خاموشی اختیار کرنا محمد حماد کی شخصیت میں شامل ایسے رنگ و آہنگ ہیں جو کہ نہ صرف خوب نکھرے بلکہ حد درجہ پکے بھی ہیں۔

تہذیب و شائستگی ایک ایسی وصف ہے جو کسی بھی شخص کو سماج کے لیے حد درجہ مرغوب بنا دیتی ہے۔ محمد حماد حقیقی معنوں میں ایک مہذب اور شائستہ نوجوان ہے۔ بات چیت تہذیب سے، کام کاج تہذیب سے، گپ شپ تہذیب سے، کھانا پینا تہذیب سے، اٹھک بیٹھک تہذیب سے، چل چلاؤ تہذیب سے یہاں تک کہ شوخیاں اور شرارتیں بھی تہذیب سے کرنے کا عادی ہے۔ لوگ نہ جانے کن کن خوبیوں کی بدولت لاڈلے بنتے ہیں لیکن میں چشم دید گواہ ہوں کہ محمد حماد صرف اور صرف تہذیب کے طفیل ایک قابل ذکر حلقے کا لاڈلا بن گیا ہے۔ وہ مختلف موقع و محل کے مطابق مجھ سے کبھی کبھی شوخ و شنگ قسم کے تبصروں کا متمنی رہتا ہے اور اس سلسلے میں طرح طرح کے "رنگین” سوالوں کا سہارا بھی لیتا ہے لیکن اسے یہ بھی بخوبی معلوم ہے کہ عنایت کس حد تک شوخ موضوعات پر زبان چلانے کا روا دار ہے اور آگے کا نہیں۔ میرے حدود و قیود کا نہ صرف وہ ادراک رکھتا ہے بلکہ اس کی پاسداری بھی یقینی بناتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں ایک ذہانت و فطانت بھی ہے۔ انسان زندگی میں 75 فیصد خوشیاں اور کامیابیاں ذہانت ہی کے طفیل پا لیتے ہیں اور ذہانت ایک ایسا خزانہ ہے جس میں زندگی کے بے شمار مسائل کے حل پڑے ہوتے ہیں۔ میں گزشتہ چار سالہ قریبی رفاقت میں محمد حماد کے جس اہم خوبی کا علی وجہ البصیرت قائل ہوا ہوں وہ ذہانت ہے۔ وہ اللہ پر ایمان اور خاندان پر اعتماد کے بعد سب سے زیادہ انحصار اپنی خدا داد صلاحیت پر کر رہا ہے اور نتیجتاً کامیاب ہو رہا ہے۔ وہ ہر چیلنج اور مسئلے کو ضرورت پڑنے پر اپنی ذہانت کے سامنے لا کر رکھتا ہے، پھر کچھ دیر کے لیے توقف کرتا ہے اور پھر مختلف دورانیوں کے اندر چیلنج قابو میں آیا ہوتا ہے جبکہ مسئلہ حل کے پاس کھڑا مسکرا رہا ہوتا ہے عین اسی وقت محمد حماد فاتحانہ مسکراہٹوں سے اپنے رب کا شکر بجا لاتا ہے۔ میرے علم میں کوئی ایسا چیلنج یا مسئلہ نہیں جس سے محمد حماد کی ذہانت بے بس آ چکی ہو وہ حکمت کے تحت توقف ضرور کرتا ہے لیکن چیلنج یا مسئلہ چھوڑ چھاڑ کر الگ کبھی نہیں ہوتا۔

معیاری لباس و پوشاک نہ صرف شخصیت کا ایک لازمی حصہ ہے بلکہ یہ اعلی ذوق کا آئینہ دار بھی ہے۔ محمد حماد میرے ان احباب میں سے ایک ہے جو حد درجہ خوش لباس واقع ہوا ہے۔ لباس کے معیار سے لے کر رنگوں کے انتخاب تک محمد حماد کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ہر موسم اور ہر دن کے لیے اس نے جو ترتیب قائم کر رکھی ہے وہ صرف، وہ جاری رکھ سکتا ہے ہر کسی کے بس میں وہ نہیں ہوتی۔ بہترین لباس و پوشاک کے ساتھ ساتھ محمد حماد کی طبیعت بھی بے انتہا نفاست لی ہوئی ہے۔ خوشگواری اور خوش اطواری کا ایک ایسا ہالہ انہوں نے اپنی شخصیت کے گرد و پیش سے کھینچا ہے جو ہمیشہ ان کے متعلقین کے لیے راحت کا باعث بنتا ہے۔

کھانے پینے سے متعلق ہماری رغبتیں بھی ایک دوسرے سے کافی قریب ہیں مثلاً ہم سیور فوڈ اور قہوے کو حد درجہ مرغوب رکھتے ہیں، وقت بہ وقت اور موقع بہ موقع ایک دوسری کی قیادت میں سیور فوڈ سے لطف اندوز ہونے کے لیے جاتے رہتے ہیں جبکہ قہوہ بھی ایک دو بار روزانہ ٹیبل تک پہنچتا ہے۔ محمد حماد چونکہ مختلف عوارض کا شکار رہا ہے اس لیے کھانے پینے سے متعلق ایک محتاط پیمانہ ذہن میں کہیں نصب کیا ہوا ہے جس میں مناسب معیار پر کبھی کمپرومائز نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی بیسیار خوری روا رکھی جاتی ہے۔ کھانے پینے سے محمد حماد ضرورت کی تحت بس لطف اندوز ہو رہا ہے اور بس۔

دو کولیگز میں سب سے بڑی خوبی قلب و نظر کی ہم آہنگی اور خلوص ہے۔ یہ اہم آہنگی اور خلوص ہی ہیں جو کہ نہ صرف دونوں کے تعلقات کار کو خوش گوار اور جذبات کو نیک شگون بنا دیتے ہیں بلکہ اس سے ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے انجام دینا بھی ممکن ہوتا ہے۔ ہم دونوں کی خوش نصیںی ہے کہ گزشتہ چار برسوں سے ہمارا تعلق اس قدر مضبوط بنیادوں پر استوار ہوا ہے کہ اس میں پل بھر کے لیے بھی کوئی ناگواری در نہیں آئی۔ ہماری کوئی بات اور کوئی کام ایک دوسرے کو کبھی عجیب نہیں لگا۔ ہمارے درمیان انڈرسٹینڈنگ اس درجے کی ہے کہ ہم باہم سنائے بغیر سن لیتے ہیں، بتائے بغیر جان لیتے ہیں اور وضاحت کیے بغیر منشاوں کو معلوم کر لیتے ہیں۔

میری دعا ہے اللہ تعالیٰ محمد حماد احمد اور اس کے خاندان پر اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دراز رکھے اور اسے وہ خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے جن کے لیے اس کے دل میں آرزو موجود ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے