سیاست کا بدلتا سورج: خیبر پختونخوا میں نااہل سیاست اور بیوروکریسی

خیبر پختونخوا کی سیاست کا سورج ایک بار پھر طلوع ہو چکا ہے، مگر اس بار روشنی کے بجائے آنکھوں کو چُبھتی ہوئی چمک نظر آتی ہے۔ سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کا دوسرا ہفتہ جاری ہے، مگر عوام کو ابھی تک کسی ٹھوس پالیسی، کسی واضح سمت یا کسی حوصلہ افزا وژن کی جھلک نظر نہیں آئی۔ صوبے کے لوگ حیران ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں شور کیوں ہے مگر عوامی ریلیف پر سکوت کیوں چھایا ہوا ہے۔ عوامی امیدوں کا دروازہ پھر ایک بار کھل تو گیا، مگر اس کے پیچھے مصلحتوں کی زنجیریں جھنکار رہی ہیں۔

صوبے میں آجکل ایک نئی اصطلاح زبان زدِ عام ہے ميڈيا پر آج لوگ کہتے ہیں کہ بیوروکریسی آجکل سہیل آفریدی کے گھر کی باندی بنی ہوئی ہے۔ ہر افسر اپنے حصے کا منصوبہ، اپنا روڈ، اپنا اسکول اور اپنا ٹینڈر لے کر خوشی خوشی ان کے دروازے پر پیش کرتا ہے۔ کوئی افسر کہتا ہے، میرے پاس سڑک ہے مگر ابھی ٹینڈر نہیں ہوا، دوسرا کہتا ہے، خيبر ميں پانی نہیں، بورنگ وہاں ہونی چاہیے۔ یہ وہی چاپلوسی کی دنیا ہے جہاں ہر دروازے پر جھکنے سے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں، اور اصول پسندی کو دیوانگی سمجھا جاتا ہے۔

یہ وہی خیبر پختونخوا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں اقتدار ہمیشہ مرکز کے نہیں بلکہ مخلص خدمتگاروں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ مگر افسوس، آج کی سیاست میں مخلصی نہیں، مصلحت ہے اصول نہیں، عہدوں کی دوڑ ہے؛ اور وژن نہیں، چاپلوسی کا شور ہے۔ بیوروکریسی کا جھکاؤ طاقت کے مراکز کی طرف کچھ نیا نہیں، مگر آج یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

سہیل آفریدی کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے، اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ قبائلی عوام نے امن کی خاطر کس قدر قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں خاندانوں نے ہجرت کی، سینکڑوں بازار اجڑ گئے، مزدوروں کی روزی ختم ہوئی، اور اربوں روپے کے کاروبار راکھ بن گئے۔ سوات سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان، درازندہ، درابن اور دہانہ سر تک آج بھی بدامنی کی چھاؤں ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں امن کی بحالی اور ترقی کا سفر ساتھ ساتھ چلنا چاہیے، مگر تاحال صرف وعدے اور نعروں کی گرد اُڑ رہی ہے۔

اگر وزیر اعلیٰ واقعی مخلص ہیں، تو انہیں اپنے اقتدار کی بنیاد ترقیاتی اسکیموں سے زیادہ امن کے قیام پر رکھنی چاہیے۔ کیونکہ جب تک امن نہیں ہوگا، نہ اسکول آباد ہوں گے، نہ اسپتال چلیں گے، نہ بازاروں میں زندگی کی چہل پہل لوٹے گی۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب پرانے نعروں پر نہیں بلکہ امن، تعلیم، صحت اور روزگار پر یقین رکھتے ہیں۔

سی پیک سے لے کر جنوبی اضلاع تک، حکومت کے پاس ترقی کے بے شمار مواقع ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، درازندہ، درابن اور بلوچستان متصل سرحدی پٹی بيروزگاری اور بدامنی سے تباه حال ہیں۔اگر وہاں کے لوگوں کو صرف وعدے ملیں اور عملی کام نہ ہوں، تو یہ صوبے کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ عوام اب صرف تقریریں نہیں چاہتے، بلکہ ایسے منصوبے چاہتے ہیں جن سے ان کے گھروں میں خوشحالی آئے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سہیل آفریدی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی ٹیم کا انتخاب ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی کابینہ میں ایسے افراد شامل کریں جو صوبے اور عوام سے مخلص ہوں، چاپلوس نہ ہوں، اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جن حکمرانوں نے چاپلوسوں کو قریب رکھا، وہ خود اپنے اقتدار کے قبرستان کے معمار بنے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ میں یہ سب باتیں کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں کہہ رہا۔ بلکہ یہ تحریر ایک آئینہ ہے جو میں وزير اعلی خيبر پختونخوا کے سامنے رکھ رہا ہوں، تاکہ وہ اس میں اپنی حکومت کی پہلی جھلک دیکھ سکیں۔ اگر وہ چاہیں تو اس آئینے میں اپنی خامیاں بھی دیکھ سکتے ہیں، اور اصلاح کی گنجائش بھی۔

سیاست دراصل ایک ذمہ داری ہے، مگر آج یہ ذمہ داری طاقت کا کھیل بن چکی ہے۔ جو جتنا بڑا چاپلوس ہے، وہ اتنا ہی قریب سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی اقدار، نظریات اور اصول اب صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں اب ضمیر کی نہیں، مفاد کی زبان بولی جاتی ہے۔

یہ منظر نیا نہیں۔ پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور کے ادوار میں بھی یہی حال تھا۔ بیوروکریسی طاقت کے ساتھ کھڑی ہوتی رہی، اور عوام بے بسی سے تماشہ دیکھتی رہی۔ گویا خیبر پختونخوا کا ہر وزیر اعلیٰ اپنے علاقے کو مرکز سمجھتا ہے، اور باقی صوبہ صرف نقشے پر ایک دھندلا سایہ رہ جاتا ہے۔

جناب سہیل آفریدی کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کا سورج ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہتا۔ یہ چمکتا بھی ہے اور ڈوبتا بھی ہے۔ جو آج روشنی میں نہا رہا ہے، کل اسی دھوپ سے جھلس بھی سکتا ہے۔ اقتدار کا اصل حسن انصاف، اعتدال اور خدمت میں ہے، نہ کہ چاپلوسوں کے ہجوم میں۔

یہاں امیر حیدر خان ہوتی کا ذکر ضروری ہے۔ وہ شاید خیبر پختونخوا کے چند مدبر اور بردبار رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے دور میں پورے صوبے میں یونیورسٹیاں، کالجز اور اسکول قائم کیے۔ اُن کی حکومت نے بہت تعمیراتی کام کیے، مگر خاموشی اور وقار کے ساتھ۔ حزبِ اختلاف سے اختلاف ضرور رکھا، مگر عزت اور اصولوں کے دائرے میں۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ اُن کے دور کو یاد کرتے ہیں۔ کیونکہ اُس وقت سیاست میں ظرف تھا، شرافت تھی، اور سب سے بڑھ کر اصول تھے۔ آج وہی سیاست وقتی مفادات، گروہی دباؤ اور چاپلوسوں کے نرغے میں آچکی ہے۔

اگر سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ اُن کا نام بھی عزت سے لیا جائے، تو انہیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے لیے آئے ہیں، نہ کہ مفاد پرستوں کے لیے۔ تاریخ ہمیشہ اُن ہاتھوں کو یاد رکھتی ہے جو خدمت کرتے ہیں، نہ کہ اُن زبانوں کو جو چاپلوسی میں مصروف رہتی ہیں۔

بیوروکریسی کے لیے بھی اب وقت ہے کہ وہ عوامی مفاد کو ذاتی تعلقات پر ترجیح دے۔ صوبہ اُس وقت آگے بڑھے گا جب فیصلے میرٹ پر ہوں گے، نہ کہ چاپلوسی کی بنیاد پر۔

خیبر پختونخوا کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایمانداری، برداشت، اور امن کی ہے۔ اگر موجودہ حکومت یہ تین ستون مضبوط کر لے، تو عوام خود بخود ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ورنہ اقتدار کا یہ تیسرا دور شاید ان کا آخری دور ثابت ہو۔ کیونکہ عوام اب نعروں سے نہیں بہلتی وہ امن، تعلیم، اسپتال، روزگار اور خوشحالی چاہتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے