اکادمی ادبیات پاکستان کے ہفتہ وار سلسلے "چائے، باتیں اور کتابیں” کی 60ویں غیر رسمی نشست بدھ،22 اکتوبر 2025 کو منعقد ہوئی ۔
اکادمی کے ناظم اور مدیر اعلیٰ جناب محمد عاصم بٹ نے شرکا کا پرتپاک استقبال کیا۔ نشست میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ان شعرا، ادبا اور اہل قلم نے بھرپور شرکت کی جو پوٹھوہاری زبان سے وابستہ ہیں۔ مقررین نے پوٹھوہاری شاعری اور نثر کے فنی و جمالیاتی پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ پوٹھوہاری ادب نہ صرف اس خطے کی تہذیب کا عکاس ہے بلکہ اس کے ذریعے مقامی ثقافت اور روایات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا کام بھی ہو رہا ہے۔ معروف ادیب عزیز ملک کا خصوصی تذکرہ کیا گیا، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ ممتاز مفتی جیسے اردو کے بڑے ادیب اپنی نثری تخلیقات عزیز ملک کو دکھایا کرتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پوٹھوہاری زبان کے ادیب اردو ادب پر بھی اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔
نشست میں مقررین نے خطہ پوٹھوہار کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اگرچہ یہ علاقہ مختلف ادوار میں فاتحین کی گزرگاہ رہا، لیکن یہاں کی تہذیب، ثقافت اور زبان نے مقامی لوگوں کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کے سہارے اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پوٹھوہاری زبان کے ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ محفل کے اختتام پر شعرا نے پوٹھوہاری زبان میں کلام پیش کیا، جس سے محفل کا رنگ مزید نکھر آیا اور حاضرین نے بھرپور داد دی۔
نشست کے دوران شرکا نے جناب محمد عاصم بٹ سے گزارش کی کہ وہ ان کی اجتماعی درخواست صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان، ڈاکٹر نجیبہ عارف تک پہنچائیں کہ اکادمی کی لائبریری میں پوٹھوہاری زبان میں لکھی گئی کتب کے لیے علیحدہ سیکشن قائم کیا جائے، تاکہ اس زبان میں موجود علمی و ادبی سرمایہ باقاعدہ طور پر محفوظ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی شرکا نے مطالبہ کیا کہ اکادمی کی جانب سے پوٹھوہاری زبان میں تخلیق کرنے والے ادبا و شعرا کے لیے ایک باقاعدہ ایوارڈ کا اجرا بھی کیا جائے۔
اس نشست میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں جناب عاصم بٹ، محترمہ شمسہ نورین، جناب شریف شاد، جناب فرزند علی ہاشمی، جناب فرید زاہد، جناب ظہیر چوہدری، جناب اقبال حسین افکار، محترمہ سعدیہ بتول پیرزادہ، جناب اختر عثمان، محترمہ سبین یونس، محترمہ خیر النسا خیری، جناب جمیل مغل, ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی، جناب عطا شیخ، جناب منیر فیاض اور جناب احسان بلوچ شامل تھے۔