لوک ورثہ کا دس روزہ میلہ اور اٹھارویں ترمیم کی روشنی میں صوبوں کے حقوق

اسلام آباد کے دامنِ کہسار میں واقع لوک ورثہ پاکستان کی ثقافتی پہچان اور تہذیبی روح کا مرکز ہے۔ 1974ء میں قائم ہونے والا یہ ادارہ دراصل اُس خواب کی تعبیر تھا جو پاکستان کے بانیانِ ثقافت نے دیکھا تھا ایک ایسا ملک جہاں زبانوں، روایات اور فنون کا رنگ نہ ماند پڑے بلکہ نسل در نسل منتقل ہو۔ لوک ورثہ کو 1970ء کی دہائی میں وزارتِ ثقافت کے تحت قائم کیا گیا اور بعد میں اسے ایک خودمختار ادارے کی حیثیت دی گئی تاکہ یہ ہر صوبے کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھ سکے۔

ابتدائی دور میں لوک ورثہ کے ماہرین نے پاکستان کے طول و عرض کا سفر کیا۔ انہوں نے وادیٔ سوات سے لے کر مکران کے ساحل تک، تھر کے ریگزاروں سے لے کر ہنزہ کی وادیوں تک، مقامی موسیقی، لوک کہانیاں، زبانیں، ساز، اور دستکاریوں کا مواد جمع کیا۔ انہی کاوشوں کے نتیجے میں آج لوک ورثہ کے میوزیم میں ہزاروں نایاب اشیاء، ساز، لباس، اور تاریخی نوادرات موجود ہیں۔ یہ صرف ایک میوزیم نہیں، بلکہ پاکستان کی روح کا مظہر ہے۔

لوک ورثہ کا مقصد صرف ثقافت کی نمائش نہیں بلکہ اس کا تحفظ اور ترویج بھی ہے۔ اس ادارے نے ریسرچ، دستاویزی فلم سازی، اور لوک موسیقی کے آرکائیوز قائم کیے ہیں۔ یہاں لوک اسٹوڈیو میں پرانے لوک گیت ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور نوجوان فنکاروں کو تربیت دی جاتی ہے۔ لوک ورثہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پاکستان کے عوامی فنون کو ایک قومی پلیٹ فارم دیا، جہاں بلوچ، سندھی، پشتون، سرائیکی، پنجابی، کشمیری، شینا، بلتی، براہوی، اور بلوچی آوازیں اکٹھی سنائی دیتی ہیں۔

ہر سال منعقد ہونے والا لوک میلہ دراصل اسی فکری جدوجہد کا تسلسل ہے۔ یہ میلہ پاکستان کی ثقافتی یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ اس سال کا دس روزہ میلہ بھی شاندار انداز میں شروع ہو چکا ہے۔ چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے فنکار اپنے روایتی لباس، موسیقی، رقص اور کھانوں کے ذریعے اپنی تہذیبی شناخت پیش کر رہے ہیں۔ اسلام آباد ان دنوں ایک مصور کی کینوس کی طرح رنگوں سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔

بلوچستان کا پشتون اتنڑ روايتی ثقافتی رقص، بلوچی کڑھائی، خیبرپختونخوا کے روایتی چپلی کباب، سندھ کی آئینہ کاری، پنجاب کی دھمال اور گلگت بلتستان کی لوک موسیقی نے اس میلے کو ایک قومی منظرنامہ بنا دیا ہے۔ خواتین مصوروں اور ہنرمندوں کے اسٹالز پر ہاتھ سے بنے قالین، مٹی کے برتن، دکان داروں کے لہجے میں اپنی دھرتی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ہر چہرے پر خوشی اور فخر نمایاں ہے گویا پورا پاکستان ایک پلیٹ فارم پر اپنی ثقافتی وحدت کا جشن منا رہا ہو۔

تاہم اس جشن کے بیچ ایک فکری سوال بھی ابھرتا ہے۔ جب وفاقی دارالحکومت میں سب صوبے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو کیا اقتدار کے ایوانوں میں بھی انہیں اسی طرح کی نمائندگی حاصل ہے؟ لوک ورثہ کے اسٹیج پر تو ہر صوبے کی آواز گونجتی ہے، لیکن پالیسی سازی کے ایوانوں میں اکثر یہی آوازیں دب جاتی ہیں۔ یہ تضاد اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کې ثقافتی یکجہتی کے ساتھ ساتھ آئینی توازن بھی درکار ہے۔

2010ء میں منظور ہونے والی اٹھارویں آئینی ترمیم نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں انقلاب برپا کیا۔ اس کے ذریعے تعلیم، صحت، ثقافت، زراعت اور فلاحی امور میں صوبوں کو خودمختاری ملی۔ صوبائی اسمبلیاں اب اپنے فیصلے خود کر سکتی تھیں۔ لیکن بدقسمتی سے پندرہ سال بعد بھی یہ خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ وفاق اب بھی کئی معاملات میں صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔

چھوٹے صوبوں کا یہ گلہ بجا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم آج بھی ایک خواب ہے۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل، خیبرپختونخوا کی معدنی دولت، سندھ کے ساحلی ذرائع اور گلگت بلتستان کے پانی کے ذخائر سے سب سے زیادہ فائدہ مرکز کو پہنچتا ہے جبکہ ان علاقوں کی عوام بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں۔ یہی احساسِ محرومی قومی وحدت کے لیے سب سے بڑا مسئله ہے۔

وفاقی حکومت اگر واقعی قومی یکجہتی چاہتی ہے تو اسے ثقافت کی طرح اقتدار بھی بانٹنا ہو گا۔ لوک ورثہ کے میلے میں سب کے رنگ شامل ہیں، مگر اگر اقتدار کے رنگ ایک ہی صوبے تک محدود رہے تو یہ خوبصورتی ماند پڑ جائے گی۔ وفاقی پاکستان تب ہی مضبوط ہو گا جب ہر صوبہ اپنے وسائل پر اختیار رکھے گا۔

اب جبکہ بعض حلقے ستائیسویں ترمیم کی بات کر رہے ہیں جو دوبارہ وفاقی اختیارات کو بڑھانے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے تو یہ چھوٹے صوبوں کے لیے تشویش ناک ہے۔ یہ عمل اگر شروع ہوا تو نہ صرف سیاسی توازن متاثر ہو گا بلکہ قوموں میں بیگانگی بھی بڑھے گی۔ آئین کے ساتھ بار بار تجربے قومی یکجہتی کے لیے زہر ثابت ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام ہمیشہ یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ان کے ساتھ آئینی انصاف کیا جائے۔ صرف میلوں، کانفرنسوں اور ثقافتی تقریبات سے محرومی ختم نہیں ہو سکتی۔ جب تک وفاق اپنے رویوں میں عملی تبدیلی نہیں لاتا تب تک لوک ورثہ کا یہ جشن ادھورا رہے گا۔ رنگ ہوں گے، نغمے ہوں گے، مگر دلوں میں بے چینی برقرار رہے گی۔

لوک ورثہ کا پیغام یہ ہے کہ پاکستان ایک گلدستہ ہے جس کے ہر پھول کو برابر پانی ملنا چاہیے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر سب ایک ہی فيڈريشن کا حصه ہیں۔ اگر ایک عضو زخمی ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح صوبوں میں محرومی وفاق کے وجود کو کمزور کرتی ہے۔

اب وقت ہے کہ وفاقی حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے۔ اٹھارویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ صوبوں کے مالیاتی کمیشن فعال ہوں اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت لائی جائے۔ صرف اس صورت میں وفاق مضبوط اور عوام مطمئن ہوں گے۔

لوک ورثہ کا دس روزہ میلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پاکستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ جس طرح یہاں مختلف ثقافتیں ایک ساتھ جلوہ گر ہیں اسی طرح سیاسی نظام میں بھی توازن اور احترام لازم ہے۔ جب مرکز اور صوبے باہمی اعتماد سے کام کریں گے تب ہی پاکستان کا چہرہ مکمل اور روشن ہو گا۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت لوک ورثہ کے اس پیغام کو آئینی سطح پر عملی جامہ پہنائے۔ اگر لوک ورثہ کی طرح ہر صوبے کو برابری کے مواقع دیے جائیں تو نہ صرف یہ میلوں کی رونق بڑھے گی بلکہ پاکستان بھی حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، متوازن اور خوشحال ریاست بنے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے