علی بابا تاج صرف شاعر نہیں تھے، وہ زندگی سے بھرپور ایک انسان تھے، دوست، بھائی، سکالر اور محبت کرنے والا شخص۔ وہ بیدل کے عاشق تھے ، آزاد نظم کے شاعر تھے . وہی لکھتے تھے جو محسوس کرتے تھے ، وہی کہتے تھے جو سوچتے تھے ، دل جو کہتا تھا ، وہی کرتے تھے . ان کی نظمیں میری گلیوں محلوں کی چلتی زندگی کی مانند تھیں . ان کے اشعار دلوں میں اترتے تھے اور ان کی شخصیت بھی اتنی ہی متاثر کن تھی۔

عرصہ پہلے کوئٹہ کی ایک سرد شام میں عامر رانا صاحب کے ساتھ ان سے ملاقات ہوئی تھی اور پھر اس کے بعد زندگی یوں جمی کی تھمی نہیں . یہ ناممکن تھا کہ وہ اسلام آباد آئیں اور ہم سے نہ ملیں اور میں کوئٹہ جاؤں اور ان سے ملاقات نہ ہو . کراچی ، کوئٹہ ، لاہور اور اسلام آباد میں کئی ملاقاتیں ہوئیں . وہ رابطہ رکھنے ہمیں ہمیشہ پہل کرتے تھے .
کوئٹہ جب بھی جانا ہوتا ، ان کے حصار میں رہتا .ایک دور میں ہزار ہ کیمونٹی کے افراد کا گھروں سے نکلنا ہی موت کا پیمانہ بن گیا تھا . معروف شخصیت ہونے کی وجہ سے انہیں سیکورٹی کے شدید مسائل تھے لیکن وہ منہ پر رومال لپیٹ کر آتے اور کوئٹہ پریس کلب سے اپنی بائیک پر ساتھ بٹھا کر لے جاتے .میں نے ان کے ساتھ بہت سفر کیے، کبھی ان کی بائیک پر اور کبھی پیدل…کوئٹہ میں مری آباد کی پہاڑیوں پر ہم کئی کئی گھنٹے بیٹھا کرتے، باتیں کرتے، ان کی شاعری سنتا۔ وہ ایک وسیع النظر، وسیع المشرب اور انتہائی حساس انسان تھے۔
سردیاں ان کا پسندیدہ موسم تھا۔ وہ کہتے تھے، “سردیوں کی شامیں کتنی اچھی ہوتی ہیں، لمبی گپ شپ چلتی ہے، مونگ پھلی کھاتے ہیں، قہوہ پیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئٹہ اپنا اپنا سا لگتا تھا .وہ کوئٹہ میں مکمل میزبان کے قالب میں ڈھل جاتے تھے . تعلق کا مان اور احترام کرنا جانتے تھے . ہماری کئی موضوعات پر لمبی گفتگو چلتی تھی ”ایک روز میں نے ان سے کہا کہ مجھے فارسی سکھائیں۔ انہوں نے کہا، “بس دس دن کے لیےآپ میرے گھر رہیں، میں آپ کو فارسی سکھا دوں گا۔ اور ساتھ میں حافظ ، بیدل اور دیگر شعرا کا کلام بھی پڑھاؤں گا۔”یہ وعدہ اب صرف یاد بن کر رہ گیا ہے۔ اس بار جولائی میں ہماری آخری بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی . وہ مجھے کہیں لے جانے پر اصرار کر رہے تھے لیکن میں نے کہا کہ نیکسٹ ٹائم آپ کے ساتھ چلوں گا .

آج شام گھر میں پروفیسر طاہر ملک صاحب ، اعظم خان صاحب اور چوہدر ی خالد عمر صاحب بیٹھے ہوئے تھے . ہم گپ شپ لگا رہے تھے کہ ہمارے دوست ابراہیم چنگیزی صاحب کا فون آگیا . مجھ سے فون مس ہوگیا تو ان کا میسج آیا کہ علی بابا تاج صاحب کا آغا خان اسپتال کراچی میں ابھی ابھی انتقال ہو گیا ہے . یوں لگا جیسے دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔ سانس رک سی گئی ہو . ایک بھرپور انسان، جو ہمیشہ دوستوں کے لیے فکرمند رہتا تھا، اب ہم سے جدا ہو گیا۔
حافظ حسین احمد صاحب کے انتقال پر علی بابا تاج صاحب نے مجھے فون کیا ، کہنے لگے ، میں تو آپ کے ساتھ ہی ان سے ملا تھا ، آپ کا گہرا تعلق تھا ، اس لیے آپ سے ہی تعزیت کرتا ہوں .آج شام مرحوم حافظ حسین احمد صاحب کے صاحبزادے ظفر احمد بلوچ کے ساتھ فون پر بات ہو رہی تھی . اپنی طبیعت کی وجہ سے میرے لیے کوئٹہ کا سفر کرنا مشکل ہو گیا ہے . میں نے بھائی ظفر بلوچ سے کہا کہ جلد کوئٹہ آؤں گا ، علی بابا تاج صاحب کا مہینہ پہلے آپریشن ہوا تھا ، میں نے ان سے کہا تھا کہ نومبر دسمبر میں چکر لگاؤں گا . سوچا کہ حافظ صاحب کے گھر جاؤں گا ، علی بابا تاج کی عیادت کروں گا . کوئٹہ میں دوستوں کے ساتھ پورا ہفتہ گزاروں گا . علی بابا تاج کے ساتھ مری آباد کی ٹھنڈی شاموں میں کسی ریستوران میں بیٹھ کر باتیں کروں گا لیکن علی بابا کو اپنی کہانی ختم کرنے کی جلدی تھی .. زندگی سے بڑا کوئی فریب، فراڈ ، دھوکا اور دغا نہیں .

علی بابا تاج کا ایک ہی بیٹا ہے ثاقب ، بہت لاڈلا اور پیارا سا بچہ ، اسلام آباد آتے تو اسے ہمارے ہاں چھوڑ جاتے تھے .بیٹا مجھے معاف کرنا ، آپ سے بات کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں .
واٹس ایپ کھولا ، علی بابا تاج کی آواز سننے کے لیے ، پرانے میسج پڑھنے شروع کیے . لطیفے ، نظمیں ، قصے … علی بابا کے ساتھ سب چلتا تھا . جولائی 2020 کے ایک میسج پر رک گیا . علی بابا تاج نے یہ نظم مجھے بھیجی تھی .
فقط اعلان ہوتا ہے
کہانی ختم ہوتی ہے
کہانی یاد رکھنے کو
تکلف کون کرتا ہے
ابھی ملنا مقدر میں
نجانے کون لکھے گا
ابھی شمعیں جلانے کا
ارادہ کون کرتا ہے
کہ قصہ کون سنتا ہے
کسے فرصت زمانے میں
نہ ہو جب خود فسانے میں
محبت کون کرتا ہے
کہانی کون بنتا ہے
کسے پروا کہ رہتی ہے
کہانی تا قیامت بھی
اگر کہہ دیں محبت میں
دھڑکتے دل کے افسانے
کہیں گے بے دلی سے یہ
دلوں میں دھڑکنیں کیسی
کہ ہر دھڑکن کو سننے کو
سہارا کون بنتا ہے
گوارا کون کرتا ہے
ذرا سا وقت دینے کو
کہانی کون سنتا ہے
نیا اک دور آیا ہے
پرانا کون رہتا ہے
کہانی خود بدلتی ہے
فقط اعلان ہوتا ہے
کہانی ختم ہوتی ہے
علی بابا تاج، شاعر، دوست اور بھائی ،،، جسے اپنی کہانی ختم کرنے کی جلدی تھی لیکن علی بابا کی کہانی ختم نہیں ہوئی . ایک روز بیٹھے ہوئے میں نے علی بابا تاج سے کہا کہ مجھے ہزارہ قبرستان جانا ہے. وہ ہمیں لے گئے . میں ، عامر رانا صاحب اور ثاقب ہمارے ساتھ تھے . ثاقب مجھے قبرستان میں ساتھ لے کر گھوم رہا تھا . عجیب و غریب قسم کا قبرستان ہے جہاں سو سو لاشیں ایک روز میں دفن کی گئی ہیں . قبرستان میں اگر بتیوں کی خوشبو ہے ، پھولوں کی چادریں قبروں پر پڑی ہیں . شام ہوتے ہی موم بتیاں جلنا شروع ہو جاتی ہیں . اس قبرستان میں ڈر نہیں لگتا . ماؤں کے چاک سینے یہاں چھلنی پڑے ہیں .
اس قبرستان میں کسی قبر کے پاس ماں بیٹھی اپنی ممتا کا ماتم کر رہی ہے ، کہیں جوان بہن بیٹھی روٹھے بھائی کو منا رہی ہے ، یہاں بیٹی خالی آنکھوں سے مٹی کی ڈھیری کو دیکھ رہی ہے .وہاں بیوہ بیٹھی اپنے ارمانوں کا نوحہ پڑھ رہی ہے . گھروں سے کڑیل جوان نکلے تھے اور وا پس لاشیں آئیں . فسادیوں نے گھر برباد کرنے چاہے تھے ، ماؤں نے قبرستان آباد کر لیے .
مری آباد میں ہزارہ کیمونٹی کے مرد جب کام کاج کے لیے گھروں سے باہر نکلتے ہیں تو ان کی عورتیں اپنے پیاروں کے پاس قبرستان آ جاتی ہیں . شام کو ان کے مرد گھروں کو لوٹتے ہیں تو غموں سے چور یہ قافلے بھی گھروں کی جانب پلٹتے ہیں .
اس قبرستان کے ساتھ ایک رشتہ میرا بھی ہے . ہمارا ایک دوست فرحان بھی تھا . علمدار روڈ پر دھماکہ ہوا تو فرحان رضاکار بن کر گیا تھا لیکن اس دوران دوسرا دھماکہ ہو گیا . اسلام آباد میں بیٹھ کر ہمارے ساتھ منصوبے بنانے والا فرحان چلا گیا . میں جب بھی مری آباد گیا ، قبرستان ضرور گیا . فرحان کی قبر کچھ دیر کھڑا رہا . اس بار جاؤں گا تو ایک نئی قبر بھی میرا انتظار کر رہی ہوگی .