وقت کی قدر و قیمت: زندگی کو بامقصد بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ

زندگی کے دریا میں وقت ایک تیز بہاؤ کی مانند ہے جو کسی کے انتظار میں نہیں ٹھہرتا۔ لمحے آنکھ جھپکتے ہی دنوں، مہینوں اور برسوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ انسان کو اس کے گزرنے کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ ماضی کے کھوئے ہوئے مواقع پر نظر ڈالتا ہے۔ افسوس اُس وقت بےکار ہوتا ہے جب وقت ہاتھ سے پھسل چکا ہو۔ یہی لمحے جب ضائع ہوجاتے ہیں تو انسان کے پاس صرف حسرت باقی رہ جاتی ہے۔ اگر ہم نے زندگی کے قیمتی اوقات کو سنبھالنا سیکھ لیا تو یہی وقت ہماری کامیابی کا زینہ بن سکتا ہے۔ وقت کی قدر کرنا دراصل زندگی کی قدر کرنا ہے کیونکہ وقت ہی زندگی کی اصل متاع ہے۔

اسی طرح کبھی ٹھہریے لمحہ بھر کو سوچیے کہ اگر ہمیں کچھ دن ایسے مل جائیں جن میں کوئی ذمہ داری نہ ہو، کوئی مصروفیت نہ ہو، محض فرصت ہی فرصت ہو تو ہم ان دنوں کو کیسے گزارنا چاہیں گے؟ کیا نیند کے سپرد کر دیں گے؟ یا مطالعہ، سیر و تفریح، رشتہ داروں سے ملاقات یا کسی نئے ہنر کی مشق میں صرف کریں گے؟ انسان کے پاس جو وقت ہے وہی اس کا اصل سرمایہ ہے اور جس نے اس سرمائے کو سنبھال لیا اُس نے زندگی کی بازی جیت لی۔ فرصت کے لمحات دراصل خود کو نکھارنے اور اپنی روح کو تازگی دینے کے مواقع ہیں۔ اگر ہم ان قیمتی گھڑیوں کو بے مقصد مصروفیات کی نذر کر دیتے ہیں تو ہم اپنی ہی کامیابی کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔

اسی طرح فرصت کے لمحات ہمیں اپنی ذات کو بہتر بنانے کا موقع دیتے ہیں۔ انسان اگر فارغ وقت کو مثبت سرگرمیوں میں صرف کرے تو اس کا دل و دماغ دونوں تازہ دم رہتے ہیں۔ کچھ نیا سیکھنا، مطالعہ کرنا، عبادت یا ہنر کی مشق یہ ایسے کام ہیں جو ذہنی آسودگی اور روحانی اطمینان بخشتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ سیکھ لیا کہ فارغ وقت کو کس طرح بامقصد بنانا ہے تو ہماری زندگی میں خوشی، نظم و ضبط اور تسکین خود بخود پیدا ہوگی۔

اسی طرح دن کے آغاز کو عبادت، دعا اور منصوبہ بندی کے ساتھ شروع کیا جائے تو دن بھر کے کام بآسانی نمٹ سکتے ہیں۔ صبح ہی صبح اپنی ترجیحات طے کرنا وقت کے مطابق کاموں کو تقسیم کرنا اور ان پر نظر رکھنا کامیابی کی کلید ہے۔ اگر اس دوران کبھی کاہلی یا سستی آڑے آئے تو فوراً خود کو متنبہ کریں۔ خود احتسابی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو درست سمت میں رکھتا ہے۔ جب ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں تو زندگی میں نہ صرف نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے اس میں مقصد کا شعور بھی جاگ اٹھتا ہے۔

اسی طرح ٹال مٹول ایک خاموش دشمن ہے جو کامیابی کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ چھوٹے کاموں کو مؤخر کرتے رہنا آخرکار ایک بڑے بوجھ میں بدل جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ جو کام فوری کرنے کے ہیں اُنہیں فوراً نمٹا دیا جائے۔ وقت کو منظم کرنے والا شخص اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھاتا ہے بلکہ اپنی پسند کے کاموں کے لئے بھی وقت نکال لیتا ہے۔ وقت کا انتظام دراصل ذہنی سکون اور اطمینان کا انتظام ہے۔

اسی طرح موبائل فون اور سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کے سب سے بڑے وقت خور بن چکے ہیں۔ گھنٹوں اسکرین پر غیر ضروری مشغولیات میں کھو جانا ہمیں اپنے اصل مقاصد سے دور لے جاتا ہے۔ اگر ہم ان کے لئے مخصوص وقت مقرر کر لیں تو باقی وقت کو زیادہ قیمتی کاموں میں صرف کیا جاسکتا ہے۔ مطالعہ، ورزش، تلاوت، عبادت، دن بھر کے کام کاج، خیر کے کاموں میں پیش پیش انا یا اہلِ خانہ کے ساتھ گفتگو یہ سب وہ کام ہیں جو دل کو سکون دیتے ہیں۔ جدید دنیا میں موبائل پر قابو پانا خود پر قابو پانے کے مترادف ہے۔

اسی طرح گھر گرہستی کی مصروفیات رکھنے والی خواتین عموماً سمجھتی ہیں کہ اضافی کام کرنا ممکن نہیں ہے مگر یہ صرف ایک عادت کا فریب ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جنہوں نے گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ علم و فن کے میدانوں میں نام پیدا کیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنے فارغ وقت کو قیمتی بنایا۔ فرصت کے اوقات بھی عمر کا حصہ ہیں اگر ان میں ہم کچھ نیا نہ سیکھیں تو وہ لمحے ضائع سمجھے جائیں گے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ فارغ وقت کو سودمند اور بامقصد بنایا جائے۔

اسی طرح ذہنی اور روحانی سکون کے لیے خواتین کے لیے چند معمولات اختیار کرنا بے حد مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ روزانہ خود سے مثبت جملے کہنا، اچھی باتیں لکھ کر محفوظ رکھنا، اپنے خیالات کا تجزیہ کرنا کہ وہ تعمیر کر رہے ہیں یا تنزلی یہ سب عادتیں انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہیں۔ نیکی کے چھوٹے چھوٹے قدم جیسے کسی کی مدد کرنا یا مسکراہٹ بانٹنا دل کو وسیع کرتے ہیں۔ منفی سوچوں پر قابو پانے کی مشق زندگی میں روشنی بھر دیتی ہے۔

اسی طرح زندگی میں کامیابی صرف علم حاصل کرنے سے نہیں ہوتی ہے اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ خیالات اگر مثبت ہوں تو عمل بھی روشن ہوتا ہے۔ خواتین جب اپنے ذہن کو امید اور عمل سے منور کرتی ہیں تو وہ خود بھی خوش رہتی ہیں اور اپنے ماحول کو بھی مثبت بناتی ہیں۔ دل کو غم، مایوسی اور منفی سوچوں سے خالی کر کے اسے محبت، نیکی اور بھلائی سے بھر لینا ہی اصل کامیابی ہے۔

اسی طرح زندگی کا سفر صبر، حوصلے اور ارادے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہر عورت کے اندر یہ قوت موجود ہے کہ وہ اپنی سوچ کو بدل کر اپنی دنیا بدل دے۔ جو دل اُمید اور بھروسے سے لبریز ہو، وہ ہر اندھیرے میں روشنی تلاش کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے وقت کی قدر کرنے، اپنی سوچ کو روشن رکھنے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی توفیق دے۔ زندگی جب نظم و مقصد سے جڑتی ہے تو خوشگوار بن جاتی ہے، اور یہی وقت کی اصل جیت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے