اتوار کے دن تو اکثر میں کچھ نہ کچھ لکھا کرتا ہوں پچھلے اتوار کو بھی یہی ارادہ تھا کہ ایک مضمون مکمل کرلوں مگر لکھتے لکھتے قلم نے جیسے مجھ سے بغاوت کر دی۔ میں چونکہ مبتدی ہوں اس لیے تحریر لکھنا میرے لیے کسی ریاضت سے کم نہیں الفاظ کبھی جملے سے ناراض ہو جاتے ہیں کبھی خیال مفہوم کے ساتھ خفا۔ خیر بڑی مشکل سے مضمون مکمل ہوا لیکن چند سطریں ابھی باقی تھیں کہ رات گئے میرے موبائل پر پیغامات کی بارش شروع ہوگئی۔ بعض دوستوں نے محبت بھری شکایت کی کہ آپ کا مضمون ابھی تک ہم تک کیوں نہیں پہنچا؟
کچھ نے فرمایا کہ "آپ کے مضامین سے تو ہمیں اپنی آئی ٹی کے لحاظ سے اور ڈیجیٹل دنیا کے بارے میں خاصی آگاہی ملتی ہے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے تو اتوار کو طے کر لیا ہے کہ آپ کا مضمون ضرور پڑھا کریں گے!
یہ سن کر دل میں وہی خوشی جاگی جو کسی نوآموز درویش کو اپنے مرشد کی مسکراہٹ دیکھ کر محسوس ہوتی ہے میں نے شکر ادا کیا کہ مجھ جیسے مبتدی کے الفاظ میں بھی کچھ ایسی تاثیر باقی ہے جو پڑھنے والے کے دل کو چُھو سکے۔ دوستوں کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت سے چند لمحے نکال کر میرے افکار کو عزت بخشی۔ تب دل نے کہا لکھنا چاہیے مسلسل لکھنا چاہیے۔ شاید لکھنے کی مشق ہی روح کے زنگ کو دور کرتی ہے۔ دعا کیجیے کہ یہ سلسلہ جاری رہے اور میں لفظوں کے اس سفر میں کچھ کہنے کے قابل ہو جاؤں۔
خیر انہی پیغامات میں کچھ ایسے بھی تھے جو ذرا سنجیدہ نوعیت کے تھے۔ چند احباب نے گلہ کیا کہ "ہماری فیس بک آئی ڈی بار بار بند ہو جاتی ہے یا بلاک کر دی جاتی ہے، آخر وجہ کیا ہے؟
اب یہ سوال بھی ایسا ہے جیسے کوئی درویش پوچھے کہ دل کیوں ٹوٹ جاتا ہے؟ سبب تو ظاہر میں کچھ اور ہوتا ہے، مگر اصل وجہ کہیں اور۔
سو آج کا یہ مضمون اسی بارے میں ہے فیس بک، یہ نیلی دنیا جس نے ہمیں دیواروں کے اس پار کے انسانوں سے جوڑ دیا اور پھر کبھی کبھی انہی رشتوں کو تماشہ بھی بنا دیا۔
فیس بک، یا جدید دنیا کا "دیوانِ عام” جہاں ہر شخص اپنی بات اپنی تصویر اپنا حال حتیٰ کہ اپنے خواب تک شائع کرتا ہے۔ 2004 میں مارک زکربرگ نامی ایک نوجوان نے جب یہ پلیٹ فارم بنایا، تب شاید اس نے نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن یہ آدھی دنیا کا آئینہ بن جائے گا۔ یہاں اب صرف دوست نہیں ملتے بلکہ تجارت، علم، سیاست، مذہب، مزاح سب کے سب ایک اسکرین میں سمٹ آئے ہیں۔
مگر ہر دنیا کے کچھ اصول ہوتے ہیں، اور فیس بک کی بھی اپنی شریعت ہے۔ بعض اوقات ہمیں اپنی "آئی ڈی” کی بندش پر غصہ آتا ہے، مگر دراصل ہم خود وہ اصول توڑ چکے ہوتے ہیں جو اس نیلی دیوار کے پیچھے قائم ہیں۔
مثلاً اگر کوئی صاحب کسی دوسرے پر طعن و تشنیع کرے نفرت انگیز بات لکھے یا مذہب و قوم کے نام پر کسی کو نشانہ بنائے تو فیس بک کے دربان یعنی اس کے خودکار محافظ فوراً متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان کا کام ہے امن قائم رکھنا چاہے کوئی ناراض ہی کیوں نہ ہو۔
اسی طرح کوئی صاحب اگر غلط معلومات جعلی خبروں یا کسی کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانے والا مواد شائع کرے تو سمجھ لیجیے کہ فیس بک کا عملِ احتساب شروع ہو گیا۔
یہاں برہنگی فحاشی نفرت، تشدد، یا دوسروں کی تحقیر کی کوئی گنجائش نہیں اگرچہ دنیا میں آزادیِ اظہار ایک نعمت ہے، مگر ہر نعمت کی اپنی حد بھی ہوتی ہے۔ جیسے دانا کہتے ہیں
حُسن جب حد سے گزر جائے تو فتنہ بن جاتا ہے، اور آزادی جب ضبط سے خالی ہو تو فساد پیدا کرتی ہے۔
کچھ دوست تو مذاق میں کہتے ہیں بھئی ہماری پوسٹ تو بس ہلکی سی تھی، پھر بھی بلاک ہو گئی!
تو صاحبو، فیس بک کو یہ ہلکی سی باتیں بھی بھاری لگتی ہیں کیوں کہ ان کے نتیجے میں کسی کی دل آزاری یا کسی گروہ کی تضحیک ہو سکتی ہے۔
اسی طرح جعلی اکاؤنٹس، نقالی، یا دوسروں کی شناخت استعمال کرنا بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی درویش بن کر چوریاں کرے ظاہراً روحانی، باطناً شیطانی۔
کچھ چیزیں اس پلیٹ فارم پر ممنوعہ ہیں مثلاً اسلحہ کی خرید و فروخت منشیات، انسانی اعضاء یا خطرناک اشیاء کا کاروبار گویا فیس بک نے ایک مجازی منڈی تو قائم کی، مگر اس میں ناجائز سودا کرنے کی اجازت نہیں دی۔
اور اگر کوئی شخص بار بار ان اصولوں کو توڑے، تو فیس بک اس کے لیے توبہ کا دربھی بند کر دیتا ہے یعنی اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے معطل۔ اس مقام پر یاد آتا ہے مولانا روم کا ایک مصرعہ:
چون خطا دیدی، توبہ کن، ورنہ خفا گردد نگاہِ دوست.
یعنی جب غلطی کا احساس ہو جائے، فوراً باز آ جاؤ، ورنہ محبوب کی نگاہ ناراض ہو جائے گی۔
فیس بک بھی کچھ ایسا ہی ہے ایک دنیا، ایک دربار جہاں اظہار کی اجازت ہے، مگر آدابِ مجلس لازم ہیں۔ جو ان آداب سے غافل ہوا اسے خاموشی کی سزا ملی۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ فیس بک محض ایک پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے۔ اگر ہم اس میں نفرت دکھائیں گے تو وہی لوٹے گی، اگر ہم محبت بانٹیں گے تو وہی پھول بن کر لوٹے گی۔
اور جہاں تک میرے ان دوستوں کا تعلق ہے جن کی آئی ڈی بند ہو جاتی ہے تو حضور، سبب یہی ہے کہ نیلی دنیا بھی ضبط چاہتی ہے۔
یہاں لفظوں کا وزن تول کر بولنا پڑتا ہے۔
کیونکہ یہاں کلک سے زیادہ کردار دیکھا جاتا ہے۔
ان شاءاللہ اگر ہم اپنے قلم، اپنے خیال اور اپنے رویّے کو ادب، محبت اور سچائی میں ڈھال لیں، تو فیس بک کیا دنیا کی کوئی بھی دیوار ہمارے سامنے رکاوٹ نہیں بنے گی۔