بلوچستان جو کہ "پشتون بلوچ صوبہ” ہے، اپنی مٹی میں ہزاروں سال کی تاریخ، تہذیب اور داستانیں سموئے ہوئے ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں سیب کی خوشبو، پہاڑوں کی خاموشی، اور لوگوں کی سادگی ایک الگ ہی رنگ رکھتی ہے۔ مگر افسوس کہ یہاں کی زمین پر تعلیم کے چراغ ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئے۔ خصوصاً فائن آرٹس، ادب، ثقافت اور تخلیقی علوم کو اکثر غیرضروری سمجھا گیا، حالانکہ یہی وہ فنون ہیں جو انسانیت کو نرم خو کرتے ہیں، دلوں کو جوڑتے ہیں، اور قوموں میں احساسِ جمال پیدا کرتے ہیں۔بلوچستان میں تعلیم کی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ آج بھی بلوچستان کے کئی اضلاع میں بیٹیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم ایک خواب ہے۔ لیکن جو خواب دیکھے جاتے ہیں وہی حقیقت بنتے ہیں۔ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ نے اس خواب کو حقیقت کا رنگ دیا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیم بلکہ فنونِ لطیفہ کے فروغ میں ایک سنگِ میل بن چکا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والی لڑکیاں آج بلوچستان کی شناخت بن رہی ہیں، اور ان میں دو نام خاص طور پر نمایاں ہیں عمّارہ پانیزئی اور مینه عصمت اللہ پانیزئی۔
فن صرف رنگوں اور لکیروں کا کھیل نہیں ہوتا یہ دراصل احساسات کی وہ زبان ہے جو لفظوں سے زیادہ گہرائی رکھتی ہے۔ جس معاشرے میں فن اور ثقافت کو جگہ دی جاتی ہے وہاں سوچ میں وسعت، رویوں میں نرمی، اور دلوں میں انسانیت پیدا ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق کھولیں تو نظر آتا ہے کہ جہاں فن کو دبایا گیا وہاں شدت پسندی اور بدامنی نے جنم لیا۔ اسپین کے "انکویزیشن” سے لے کر افغانستان کے طالبان دور تک ہر جگہ فن کے دشمنی نے امن کو قتل کیا۔
جب ہم بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال پر نظر ڈالتے ہیں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ روزانہ کہیں نہ کہیں دہشت گردی کا کوئی نیا واقعہ، کوئی ناحق خون، کوئی برباد خواب سننے کو ملتا ہے۔ اگر وقت پر حکمرانوں نے بلوچستان کی تعلیم اور فنون پر توجہ دی ہوتی، تو آج یہی نوجوان بندوق نہیں، برش اٹھاتے۔ وہ انسانیت کے خدمت گزار ہوتے نہ کہ نفرت کے سوداگر۔ ایک پینٹنگ اگر دل بدل سکتی ہے تو ایک گولی ايک جان ليتی ہے۔ بلوچستان کو آج تعلیم اور آرٹ کی ضرورت ہے نہ کہ بندوق اور بم کی۔
بلوچستان کے نناوے فيصد تعليم يافته قصبے خانوزئی کی فضا میں عمّارہ پانیزئی اور مینه عصمت اللہ پانیزئی نے اپنے فن سے نہ صرف رنگ بکھیرے بلکہ اپنی قوم کی عورتوں کو حوصلہ بھی دیا کہ وہ بھی تخلیق کرسکتی ہیں، سوچ سکتی ہیں اور اپنے خوبصورت ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتی ہیں۔ دونوں نے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی، اور اسلام آباد کے لوک ورثہ کے دس روزہ ثقافتی میلے میں اپنی پینٹنگز کے ذریعے ہزاروں دل جیت لیے۔
عمّارہ پانیزئی نے اپنے تھیسس میں ایک منفرد تجربہ کیا۔ انہوں نے آرکیٹیکچر یعنی انسانی تعمیرات کو بیڈز (موتیوں) کے ساتھ جوڑ کر ایک خوبصورت بصری موازنہ تخلیق کیا۔ وہ دکھاتی ہیں کہ انسان کا بنایا ہوا حسن عارضی ہوتا ہے، جبکہ قدرت کا بنایا ہوا حسن ابدی اور دائمی۔ یہ خیال فلسفیانہ بھی ہے اور جمالیاتی بھی۔ ان کے برش کی حرکت میں شعور ہے، رنگوں میں نظم ہے، اور تصور میں فکری گہرائی۔
عمّارہ پانیزئی صرف پینٹنگ تک محدود نہیں۔ وہ اسکیچنگ، لینڈ اسکیپ آرٹ، اور کيلگرافی میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔ ان کی پینٹنگز میں بلوچستان کی مٹی، کوئٹہ کی خاموش شامیں، اور پشتون عورت کے وقار بھرے احساسات جھلکتے ہیں۔ لوک ورثہ میں جب انہوں نے اپنی پینٹنگز پہلی بار عوام کے سامنے رکھیں تو ناظرین نے نہ صرف انہیں سراہا بلکہ بلوچستان کے آرٹ کے بارے میں اپنا تاثر بھی بدل لیا۔
دوسری باصلاحیت فنکارہ مینه عصمت اللہ پانیزئی کا تعلق بهی تاریخی قصبے خانوزئی سے ہے۔ وہ بھی سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے اپنے تھیسس کے لیے پشتو کی مشہور لوک داستان "آدم خان اور درخانئ” کا انتخاب کیا۔ ان کی پانچ پینٹنگز پر مشتمل سیریز دراصل محبت، قربانی اور ثقافت کی تصویری تشریح ہے۔
مینه نے اس داستان کو ایسے رنگوں میں بیان کیا ہے جن میں احساسات کی گرمی اور جدائی کا درد جھلکتا ہے۔ ان کی ہر پینٹنگ کہانی کے ایک باب کی نمائندگی کرتی ہے۔ کہیں آدم خان کے جذبے کی شدت، کہیں درخانئ کی حیا اور محبت کی جھلک اور کہیں سماج کی دیواریں جو دو محبت کرنے والے دلوں کے درمیان حائل رہیں۔ یہ کام نہ صرف فنی لحاظ سے بلند ہے بلکہ ادبی اور ثقافتی طور پر بھی ایک علامت بن چکا ہے۔
مینه عصمت اللہ پانیزئی نے ، کيلگرافی ، فیبرک پینٹنگ، اسکلپچر اور اسکیچنگ میں بھی اپنی صلاحیت منوائی ہے۔ انہوں نے بلوچستان بھر کے NAB کے تحت مقابلے میں کيليگرافی میں دوسری پوزیشن حاصل کی جو کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ان کا فن پشتون ثقافت کی روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک پل ہے جہاں پرانا رنگ نیا معنی اختیار کرتا ہے۔
یہ دونوں مصورات اس بات کی زندہ دلیل ہیں کہ اگر بیٹیوں کو موقع دیا جائے تو وہ تعلیمی میدان ہی نہیں بلکہ تخلیقی دنیا میں بھی معجزے کر سکتی ہیں۔ ان کے فن پارے صرف آرٹ نہیں بلکہ پیغام ہیں.
امن، محبت، خودشناسی اور ثقافتی فخر کے پیغام۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آرٹ ایک معاشرتی علاج ہے۔ جس معاشرے میں فن کو جگہ نہیں ملتی وہاں احساسات دب جاتے ہیں، سوچ جامد ہوجاتی ہے اور تشدد بڑھتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں میں برش دیتے ہیں وہ دراصل اپنے معاشرے کو بندوق سے بچاتے ہیں۔
ہر ماں باپ، ہر بھائی، اور ہر استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے ٹیلنٹ کے اظہار کا موقع دیں۔ اگر بلوچستان کی پہاڑیوں میں یہ دو بیٹیاں فن کے چراغ روشن کر سکتی ہیں تو پورا صوبہ علم اور جمال کا مینار بن سکتا ہے۔
بلوچستان کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جناب داؤد ترین نے ہمیشہ ايسے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کی قیادت میں ہر سال لوک ورثہ کے ثقافتی میلے میں بلوچستان کے نمائندے اپنا فن، لباس، موسیقی اور ثقافت لے کر شریک ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق: “یہ میلوں میں شرکت صرف نمائندگی نہیں، شناخت کی حفاظت ہے۔”
یہ دونوں نوجوان مصور لڑکیاں عمّارہ اور مینه صرف فنکار نہیں بلکہ ثقافت کی سفیر ہیں۔ ان کے ہاتھوں کے رنگ پشتون عورت کی قوتِ تخلیق کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو بند لفظوں کے بجائے بولتے رنگ تخلیق کرتی ہے۔
بلوچستان کا مستقبل انہی رنگوں، انہی تخلیقات اور انہی ہنرمند ہاتھوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے ان کا ساتھ دیا تو یہ فنکارائیں اپنے علاقے کے لیے ایک نیا جمالیاتی باب رقم کریں گی۔
میری چھوٹی بیٹی تانیا مسکان جو صرف سات سال کی ہے “نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم” کی چائلڈ ایمبیسیڈر ہے اور پریپ کلاس میں پڑھتی ہے۔ اُسے بھی ڈرائنگ اور رنگوں سے بے پناہ لگاؤ ہے۔ جب بھی میں اُسے ہوم ورک کروا ليتا ہوں تو وہ ساتھ ہی اپنی ڈرائنگ کی کاپی نکالتی ہے جو میں نے خاص اُس کے کہنے پر اسکول کے نصاب سے الگ اس کو خرید کر دی ہے۔ اُس میں وہ رنگ برنگی چیزیں بناتی ہے، کارٹون، پھول، آسمان، اور خوبصورت منظر۔ جب وہ اپنا کام مجھے دکھاتی ہے تو میں اُس کی تعریف کرتا ہوں، اُس کا حوصلہ بڑھاتا ہوں۔ ایک دن اُس نے ایک کارٹون صحیح نہ بنایا تو میں نے اُس کی مدد کی تب اُس نے مسکرا کر کہا: “اچھا بابا، اب سمجھ آئی مجھے ڈرائنگ کیوں پسند ہے؟ کیونکہ میرے بابا بھی تو آرٹسٹ ہیں!” تو میں سوچتا ہوں اگر ہر باپ اپنی بیٹی کو اسی طرح حوصلہ دے، اُس پر یقین کرے اور اُس کے خوابوں کا ساتھ دے تو ہر بیٹی خانوزئی کی عمّارہ پانیزئی اور مینه عصمت الله پانیزئی کی طرح اپنے قوم، اپنے وطن اور اپنی ثقافت کا نام روشن کرے گی۔