آہ! آج دل بے حد بوجھل ہے۔ خبر سنی تو جیسے سانس رک گئی۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے جانے کی خبر نے روح تک کو زخمی کر دیا۔
ان کی باتیں میرے لیے امید کی وہ نرم پھوار تھیں جو زندگی کے صحرائے غم میں مجھے سنبھالے رکھتی تھیں۔
جب دنیا کی تلخ حقیقتیں سامنے آتی، چہروں پر سجی بناوٹی مسکراہٹیں اپنا رنگ کھو بیٹھیں،اور دلوں میں چھپی نفرتوں کا زہر آشکار ہوتا تھا،تب مجھے خود پر ترس آنے لگتے تھی۔
مگرمجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کیونکہ وقت کے تیزی ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل جاتی تھی۔ اب آنکھوں میں صرف آنسو رہ گئے ہیں اور دل میں ایک خالی پن۔
آج میری طبیعت ویسے ہی ناساز تھی۔
پوری رات درد اور بےچینی میں گزری۔
صبح جب سوشل میڈیا پر یہ المناک خبر دیکھی کہ ڈاکٹر صاحبہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئیں۔تو دل جیسے چھلنی ہو گیا۔
میں بہت روئی، مگر رونے سے دل کا بوجھ کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گئی۔
ان کی وہ باتیں، وہ اندازِ گفتگو، وہ شفقت سب یاد آنے لگے۔
جن الفاظ نے مجھے جینے کا حوصلہ دیا، آج وہی لب خاموش ہو گئے۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا سے میری کئی پروگراموں میں ملاقاتیں ہوئیں۔
کتنی باوقار، بردبار اور صابر خاتون تھیں وہ!ہر ایک سے محبت، نرمی اور خلوص کے ساتھ پیش آتیں تھی۔
ان کی موجودگی میں علم بھی خوشبو بن جاتا اور گفتگو عبادت جیسے سکون دے جاتی تھی۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا پاکستان کی علمی و ادبی دنیا کی وہ درخشاں شخصیت تھیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، اخلاق، زبان اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے وقف کی۔وہ 1937ء میں لاہور میں پیدا ہوئیں، ایک ایسے گھرانے میں جہاں تعلیم، تہذیب اور سماجی خدمت کی روایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بچپن ہی سے وہ مطالعے، تحقیق اور گفتگو میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، پھر لاہور کالج برائے خواتین سے بی اے آنرز کیا۔بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری لی۔ تعلیم سے ان کی وابستگی صرف کتابوں تک محدود نہ رہی بلکہ وہ تحقیق اور تجزیے کے میدان میں بھی نمایاں رہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ امریکہ گئیں، جہاں یونیورسٹی آف ہوائی (University of Hawaiʻi at Mānoa) سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کی تحقیق کا مرکز برصغیر کی سماجی و ثقافتی تاریخ تھی، خصوصاً عورت کے مقام اور معاشرتی ڈھانچے میں اس کے کردار پر۔ وطن واپس آ کر انہوں نے تدریس کو اپنا مشن بنایا۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں تدریس شروع کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔ بعد ازاں فورمین کرسچن کالج لاہور میں پروفیسر ایمرٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر عارفہ کا تدریسی انداز نہایت دلنشین اور فکر انگیز تھا۔وہ محض نصاب نہیں پڑھاتیں بلکہ شاگردوں میں سوچنے اور سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرتیں۔ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک باشعور، مہذب اور اخلاقی معاشرہ تشکیل دینا تھا۔ وہ کہا کرتی تھیں:
> “علم تب بامعنی ہوتا ہے جب وہ انسان کو بہتر بنائے، ورنہ وہ محض معلومات کا بوجھ ہے۔”
اردو زبان سے ان کی محبت مثالی تھی۔ وہ زبان کو قوم کی شناخت قرار دیتی تھیں اور اکثر کہتی تھیں کہ “اردو ہماری تہذیبی روح ہے، جس کے بغیر ہم اپنی پہچان کھو دیتے ہیں۔” انہوں نے اردو کے فروغ، خصوصاً نوجوان نسل میں اس کے استعمال اور فہم کو عام کرنے کے لیے متعدد لیکچرز، سیمینارز اور مضامین لکھے۔ ان کی تقریریں نہ صرف علم بلکہ کردار سازی کا درس دیتی تھیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نے سماجی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کی چیئرپرسن رہیں، جہاں انہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم، اور سماجی انصاف کے حوالے سے اہم پالیسی سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ہمیشہ اعتدال، اخلاق اور رواداری کی بات کی اور مذہب و سیاست کے نام پر انتہا پسندی کی شدید مخالفت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ “سماج اس وقت ترقی کرتا ہے جب مرد و عورت دونوں برابر کے مواقع پائیں۔”
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی شرافت اور متانت تھی۔ گفتگو میں نرمی، لہجے میں وقار اور سوچ میں گہرائی ان کی پہچان تھی۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کا ذریعہ سمجھتی تھیں۔ یہی وصف انہیں ایک عظیم استاد، دانشور اور انسان دوست شخصیت بناتا ہے۔
اپنی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے متعدد اعزازات دیے گئے۔ وہ مختلف قومی اداروں کی رکن بھی رہیں اور کئی بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کا شمار ان چند خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے علم و اخلاق کے ذریعے معاشرے میں اپنی جگہ بنائی، نہ کہ شہرت یا عہدے کے ذریعے۔
زندگی کے آخری برسوں میں بھی وہ مسلسل متحرک رہیں۔ میڈیا پر ان کی علمی گفتگوؤں نے ہزاروں نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کیا۔ان کی باتوں میں ماضی کا فہم،حال کا شعور اور مستقبل کی امید جھلکتی تھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ “تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو جہالت، نفرت اور تعصب کے اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔”
10 نومبر 2025ء کو یہ علم و دانش کا چراغ بجھ گیا۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کراچی میں مختصر علالت کے بعد وفات پا گئیں۔ ان کی رحلت پر ملک بھر کے علمی، ادبی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ انہیں لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ان کے شاگرد، مداح اور ہم عصر شخصیات ان کی علمی و اخلاقی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی زندگی ایک درس ہے ۔علم کا، کردار کا، اور انسان دوستی کا۔ وہ ہمیں یہ سکھا گئیں کہ اگر انسان علم کے ساتھ نرمی، شعور کے ساتھ اخلاق، اور زبان کے ساتھ محبت رکھے تو وہ معاشرے میں روشنی پھیلا سکتا ہے۔ ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی، کیونکہ علم و کردار کی خوشبو کبھی ختم نہیں ہوتی۔