2024ء میں چین کی ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی نے عالمی سوشل میڈیا پر "چائنا ٹریول” کے نام سے ایک وائرل رجحان کو جنم دیا، جس میں غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے چین کا رُخ کیا اور اپنے سفر کے مشاہدات یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر شیئر کیے، جس میں چین کی جدید رونقوں کی جھلک واضح نظر آئی۔ صرف یوٹیوب پر، "چائنا ٹریول” کے ٹیگ والے ویڈیوز کے ایک کروڑ سے زائد ویوز ریکارڈ ہوئے۔
برطانوی ٹریول ولاگرز ریان نے چین کے سفر کے دوران 40 سے زائد ویڈیوز پوسٹ کیں۔ ان ویڈیوز کے عنوانوں میں اکثر "حیران کن”، "ناقابل یقین” اور "چین کی حقیقت” جیسے کلیدی الفاظ شامل ہیں، جو غیر ملکی سیاحوں کے اس احساسِ حیرت کو ظاہر کرتے ہیں جب انہوں نے چین کی جدیدیت اور روایت کے امتزاج کو دیکھا۔
تیز رفتار ریل کے جدید نیٹ ورک، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظاموں کے ہر جگہ دستیاب ہونے، اور ملک کی ثروت مند ثقافتی ورثے اور متنوع کھانوں تک — یہ ٹریول ولاگز نہ صرف چین میں سیاحت کو بڑھا رہے ہیں، بلکہ وہ عالمی منظر نامے پر چین کے دوستانہ اور اپنانیت سے بھرپور ر وریے اور دوستی کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔
"چائنا ٹریول” کا یہ عروج چین کے ان عوامل کی وجہ سے ہے جس میں چین نے کھلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے افراد کو انتہائی خوبصورت اور دلکشن طریقے سے خوش آمدید کہا ۔اس رجحان کے پس پردہ امیگریشن انتظام، سروس کی فراہمی اور صارف کے تجربے میں جدتوں کی ایک لہر ہے۔ چودھویں پنج سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین نے سفر اور کسٹم سروسز کے لیے ایک کثیر الجہتی، موثر نظام تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے، اور ایسی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں جنہوں نے چین آنے کی سہولت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
اول: امیگریشن انتظام میں چین نے مسلسل ویزا فری "سرکل آف فرینڈز” کو وسیع کیا اور داخلے کی پالیسیوں کو بہتر بنایا۔ جون 2025 تک چین نے 47 ممالک کو یکطرفہ ویزا فری سہولت دی، 29 ممالک کے ساتھ باہمی ویزا فری معاہدے کیے ہیں، اور 240 گھنٹے کی ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی کے تحت اہل ممالک کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے۔ان اقدامات نے چین میں سیاحت کو مضبوط کیا ہے۔ نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں 1.36 کروڑ غیر ملکی سیاح ویزا فری سہولت کے تحت چین میں داخل ہوئے۔ جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 53.9 فیصد زیادہ ہیں۔
دوم: سروس کی فراہمی میں، ڈیپارچر پر ٹیکس ریفنڈ ماڈل کی اپ گریڈ جیسی بہتر خدمات نے بھی سیاحت کے حوالے سے بہترین کردار اد ا کیا ہے ۔ اپریل میں اسٹیٹ ٹیکس ایڈمنسٹریشن نے خریداری پر ٹیکس ریفنڈ کی نئی پالیسی نافذ کی، جس کے تحت غیر ملکی سیاح چین میں خریداری کے موقع پر فوری ٹیکس واپسی حاصل کر سکتے ہیں۔
اگست کے آخر تک چین میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے ٹیکس ریفنڈ اسٹورز کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر گئی، اور ٹیکس ریفنڈ لینے والے سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 247.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹیکس ریفنڈ والی اشیاء کی فروخت اور کل ریفنڈ کی رقم میں بالترتیب 97.5 فیصد اور 96.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اقدامات سیاحت کیلئے کس قدر سود مند ثابت ہوئے۔
تیسرے نمبر پر، صارفین کے تجربے میں موبائل ادائیگیوں کی راہ میں حائل دیرینہ رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں۔ مارچ 2024 میں چینی کونسل آف اسٹیٹ نے ادائیگیوں تک رسائی بہتر بنانے کے رہنما اصول جاری کیے، جس میں غیر ملکی صارفین کے لیے ایک ٹرانزیکشن کی حد بڑھا کر 5,000 ڈالر تک کر دی گئی۔
پیپلز بینک آف چائنہ کی شینزین برانچ کے مطابق، صرف شینزین میں، 2025 کی پہلی سہ ماہی میں غیر ملکی شہریوں کی 85.88 ملین نان کیش ادائیگیوں کی مالیت 11.81 ارب یوآن (تقریباً 1.65 ارب امریکی ڈالر) رہی، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بالترتیب 29 فیصد اور 35 فیصد کا اضافہ ہے۔ یہ اضافہ زیادہ تر سپر مارکیٹ خریداری اور کیفے ٹیریا کے شعبوں میں دیکھنے میں آیا۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ غیر ملکی صارفین کی خرچ کرنے کی صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چین میں سیاحوں کی آمد میں واضح بہتری کا یہ سلسلہ معاون پالیسیوں کے نفاذ کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب، ادارہ جاتی سطح پر کھلے پن میں اضافے کے ساتھ، سیاحوں کی آمد کی صنعت محض معاشی فوائد سے آگے اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل بن چکی ہے۔
چین تنظیمی ہم آہنگی، ثقافتی تبادلے اور صنعتی تعاون میں ہم آہنگی کو آگے بڑھاتے ہوئے سہولیاتی اقدامات کو بہتر بناتا رہے گا، اور سیاحوں کی آمد کو عوامی تعلقات کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کو گہرا کرنے کا ذریعہ بنائے گا۔
مقبولِ عام ٹریول ولاگز سے لے کر لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کے چین کو براہِ راست دیکھنے اور تجربہ کرنے تک، ’چائنہ ٹریول‘ کی ہر کہانی کے پیچھے ایک گہری داستان چھپی ہے۔ یہ ایک زیادہ کھلے، پراعتماد اور جڑے ہوئے چین کی داستان ہے، جو عالمی نظامِ حکمرانی میں زیادہ جان ڈال رہی ہے۔