جس علاقے کے لوگ اپنی ثقافت اور فنون لطیفہ سے محبت کرتے ہیں وہاں امن اور خوشی کی فضا میں موسیقی، رقص اور میلوں کی رونق معاشرے میں امید پیدا کرتی ہے۔ مقامی ثقافت کی ترویج نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتیں بڑھاتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی قائم رکھتی ہے۔ فنون لطیفہ کے ذریعے نوجوان اپنے جذبات اور تخلیقی توانائی کو مثبت طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ جب لوگ فنون لطیفہ میں مشغول ہوتے ہیں، تو وہ تشدد اور شدت پسندی سے دور رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ثقافتی میلوں اور سرگرمیوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
جہاں معاشرہ فنون لطیفہ سے دور ہو وہاں ایک خلا پیدا ہوتا ہے جو اکثر شدت پسندی اور دہشت گردی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ دنیا کے کئی مطالعے بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ثقافتی سرگرمیوں کی کمی معاشرتی انتشار میں اضافہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن قائم رکھنے کے لیے فنون لطیفہ کی ترویج لازمی ہے۔
پاکستان میں لوک ورثہ کا دس روزہ میلہ بھی یہی کردار ادا کرتا ہے۔ اس میلے کے ذریعے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی ثقافت کے ساتھ جڑے رہتے ہیں اور فنون لطیفہ کے ذریعے اپنی شناخت قائم رکھتے ہیں۔ یہ میلہ امن اور محبت کی بڑی علامت بن چکا ہے جہاں لوگ اپنے ثقافتی ورثے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
میلے میں پاکستان کے تمام صوبوں کے پويلين موجود ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے پويلين میں سندھی، سرائیکی اور پنجابی ثقافت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پويلين اپنی انفرادیت کی بنا پر نمایاں ہیں۔ بلوچستان میں پشتون، بلوچی، براہوی اور ہزارگی ثقافتیں دکھائی دیتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پشتون، ہندکو، سرائیکی، چترالی، توروالی اور کوہستانی ثقافتیں نظر آتی ہیں۔ ہر پويلين اپنے صوبے کی ثقافت اور فنون لطیفہ کو اجاگر کرتا ہے جس سے پاکستان کے مختلف ثقافتی رنگ منظر عام پر آتے ہیں۔
بلوچستان پويلين کی خصوصیت یہ ہے کہ صوبہ ہر لحاظ سے پسماندہ رہا ہے اور اسلام آباد سے فاصلے کی وجہ سے محدود وسائل دستیاب ہیں لیکن کلچر ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر داؤد ترین نے اپنی محنت اور لگن سے کم وسائل میں بھی اعلی معیار کے انتظامات کیے۔ انہوں نے اپنے صوبے کے حقیقی فنکاروں اور ثقافتی کارکنوں کو میلے میں شریک کیا۔ ڈاکٹر داؤد ترین کی محنت اور لگن کی بدولت بلوچستان پويلين ایک روشن اور فعال پويلين کے طور پر نمایاں ہے۔
ڈاکٹر داؤد ترین کی قیادت میں بلوچستان پويلين بہت فعال ہے اور روزانہ ہزاروں لوگ یہاں سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ لوگ فنکاروں کی روایتی اور ثقافتی کارکردگی دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر پینٹنگز ، دستکاری ، موسیقی اور رقص میں بلوچی اور پشتون ثقافت کی جھلکیاں دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ یہاں نوجوان اور بزرگ سب ایک ساتھ فنون لطيفہ میں حصہ لے کر جشن مناتے ہیں۔
میں نے خود بلوچستان نائٹ کی خوبصورتی اور انفرادیت کا مشاہدہ کیا۔ اس میں پشتون نمائندگی کے لئے اسٹيج پر میں نے کمپيرنگ کی اور حاضرین کو بتایا کہ بلوچستان صوبہ پشتون اور بلوچ دونوں کی مشترکہ پہچان اور صوبہ ہے۔ یہاں بلوچ، براہوی، پشتون اور ہزاره سب رہتے ہیں، لیکن عوام اکثر صرف بلوچ کے تصور کے تحت سوچتے ہیں۔ حقیقت میں بلوچستان کی ثقافتی رنگینی بہت وسیع اور متنوع ہے۔
بلوچ قوم کی خوبصورت ثقافت اور روایات ہیں مگر بلوچستان نائٹ صرف بلوچ ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ پشتون، براہوی اور ہزاره ثقافتوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ میں نے حاضرین کو یقین دلایا کہ جو لوگ بلوچستان نائٹ دیکھیں تو اس میں وہ پشتون نائٹ بھی دیکھیں گے کیونکہ یہاں ہر ایک ثقافت کی مکمل عکاسی ہوتی ہے۔
میں نیشنل ہیریٹیج اور قومی ورثہ ڈپارٹمنٹ اور لوک ورثہ کے منتظمین سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات پر تھوڑا غور و تحقیق کریں کہ صرف بلوچستان صوبے کے نام کی بنیاد پر "بلوچ نائٹ” کہنا درست نہیں ہے، کیونکہ بلوچستان دو بڑی قومیتوں، پشتونوں اور بلوچوں کا مشترکہ صوبہ ہے۔ دونوں قوموں کی اپنی خوبصورت زبان، ثقافت اور روایات ہیں، لہٰذا صرف "بلوچ نائٹ” کہنا ناانصافی کے زُمرے میں آتا ہے۔
پشتون قوم اپنی الگ شناخت رکھتی ہے مگر جب "ون یونٹ” ٹوٹا تو بدقسمتی سے پشتونوں کو بلوچستان میں شامل کیا گیا اور اس طرح یہ صوبہ تشکیل پایا۔ اگر پشتونوں کی آبادی شامل نہ ہوتی تو بلوچستان صوبہ بن ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ اُس وقت بلوچ آبادی صوبہ بنانے کے معیار پر پوری نہیں اُترتی تھی اور گزشتہ 55 برسوں سے پشتون یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ "جنوبی پشتونخوا” کے نام سے انہیں الگ صوبہ دیا جائے تاکہ ان کی قومی شناخت محفوظ رہ سکے۔
چونکہ لوک میلہ میں ہر صوبے کا ایک نائٹ مخصوص ہوتا ہے جو اُس صوبے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے "بلوچ نائٹ” کے بجائے ایسا نام رکھا جانا چاہیے جس میں پشتونوں کی نمائندگی بھی واضح ہو، کیونکہ پشتون بھی بلوچستان کا اہم اور بنیادی حصہ ہیں۔
8 نومبر 2025 کو جب "بلوچستان نائٹ” منعقد ہوا تھا تو پشتون نوجوان وہاں سے جا رہے تھے مگر میں نے بلوچ اسٹیج سیکرٹری سلام صابر صاحب سے کہا کہ وه اعلان کریں کہ پشتو کمپئرنگ اور پشتو گانے بھی شامل ہیں۔ جب یہ اعلان ہوا تو پشتون نہیں گئے ان کی شرکت اور پشتون روايتی رقص سے پورا پروگرام خوبصورت اور کامیاب بن گیا۔
بلوچستان نائٹ کے انتظامات حمزه گیلانی اور رحیم اللہ کاکڑ نے سنبھالے ہوۓ تھے ۔ انہوں نے خوبصورت انتظامات کیے اور ایک کامیاب پروگرام پیش کیا۔ ان کی محنت کے بغیر یہ میلہ اتنا شاندار اور پراثر نہیں ہو سکتا تھا۔ بچے نوجوان اور بزرگ سب نے اس پويلين میں خوشی کے لمحات گزارے۔ ہر ایک فنکار نے اپنی محنت سے میلے کو روشن کیا اور لوگوں کو اپنی ثقافت کے خوبصورت رنگ دکھائے۔
ڈاکٹر داؤد ترین ستائشی شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کا ٹیم ورک اور فنکاروں کے ساتھ محبت انہیں دیگر لوگوں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ دن بھر پويلين میں موجود رہتے ہیں اور خود ہر پروگرام کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ فنون لطیفہ اور ثقافت کی ترقی یقینی ہو۔ ان کی لگن اور محنت بلوچستان کے ثقافت کی پہچان کو اجاگر کرتی ہے۔
بلوچستان پويلين کی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہاں ایک خوبصورت اسٹیج بنایا گیا ہے جہاں دن بھر فوک موسیقی اور روايتی ثقافتی رقص کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لوگ پشتو اور بلوچی رقص کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسلام آباد میں مقیم بلوچستان کے لوگ یہاں آ کر اپنے ثقافتی رقص بھی پیش کرتے ہیں۔ یہاں ہر عمر کے لوگ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور فنون لطیفہ کے ذریعے امن کا پیغام دیتے ہیں۔
میلے میں آنے والے لوگ ویڈیوز بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں جس سے دنیا کو بلوچستان کی خوبصورت اور امن والی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ یہ ثقافتی ترویج پاکستان کی مثبت پہچان بن رہی ہے اور نوجوان نسل میں فنون لطیفہ کا شوق بڑھا رہی ہے۔
مجموعی طور پر بلوچستان پويلين کامیاب اور نمایاں ہے۔ اگر میری بات مانی جائے تو لوک ورثہ اور بلوچستان کلچر ڈپارٹمنٹ کو ڈاکٹر داؤد ترین کے کام کی تعریف کرنی چاہیے۔ وہ واقعی ایوارڈ کے حقدار ہیں کیونکہ ان کی کوششیں نسل نو کو فنون لطیفہ کی محبت کی طرف راغب کر رہی ہیں۔
میں خصوصی طور پر بلوچستان کلچر، ٹورزم اور آرکائيوز ڈپارٹمنٹ کے پارلیمانی سیکرٹری زرين خان مگسي اور سیکرٹری حمیدالله ناصر کو سراہتا ہوں، جنہوں نے بلوچستان کلچر اور ٹورزم کو سپورٹ کیا اور میلے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی حمایت اور تعاون کے بغیر یہ ثقافتی محفل اتنی کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔
فنون لطیفہ کے فروغ کے بغیر نوجوان نسل بے راہ روی اور شدت پسندی کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ جہاں فنون زندہ ہیں وہاں محبت، خوشی اور امید کی فضا قائم ہوتی ہے۔ میلہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے اور انہیں اپنی ثقافت سے جڑنے کا موقع دیتا ہے۔
بلوچستان پويلين کے خوبصورت اسٹیج ، موسیقی اور رقص نے اس میلے کو عالمی معیار کا بنایا۔ جہاں نوجوان اور بزرگ سب ایک ساتھ اپنے ثقافت کا جشن منا رہے ہیں، جو معاشرتی ہم آہنگی اور امن کی علامت ہے۔
اسی طرح ان کے ٹیم ممبران حمزه گیلانی اور رحیم اللہ کاکڑ بھی ستائش کے مستحق ہیں۔ انہوں نے فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ثقافت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے فعال افسران نہ صرف میلے کو کامیاب بناتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو بھی اپنی ثقافت سے جڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
میں اپنی تنظیم "نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحي تنظیم” کی ایوارڈ کمیٹی کو تجویز دوں گا کہ ڈاکٹر داؤد ترین صاحب کے نام کو ان کی خدمات کی وجہ سے پانچویں امن ایوارڈ میں ضرور شامل کیا جائے۔ ان کے کام کی تعریف اور کوششوں کی حوصلہ افزائی نسل نو کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی اور یہ اقدام نوجوانوں میں فنون لطیفہ اور ثقافت کی محبت کو فروغ دے گا۔
آخر میں یہ کہونگا کہ جہاں فنون لطیفہ زندہ ہیں وہاں امن اور محبت کا ماحول قائم رہتا ہے۔ نوجوان محبت کے گیت گاتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ لیکن جہاں یہ سب ختم ہو جائے وہاں شدت پسندی اور دہشت گردی پھیلتی ہے اور وطن آگ کے شعلوں میں جلتا ہے۔ اس لیے فنون لطیفہ اور ثقافت کی ترویج معاشرتی استحکام اور امن کے لیے لازمی ہے۔