علم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے جو افراد اور معاشروں دونوں کو یکساں طور پر سیراب کرتا ہے۔ طاقت، ترقی، خوشحالی، تہذیب و تمدن اور عالمی اثر اندازی میں علم کو سب سے زیادہ عمل دخل حاصل ہے۔ بقاء و ارتقاء کے مراحل میں علم سب سے پہلے اور باقی تمام چیزیں بعد میں آتی ہیں۔
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ایک بے بدل عالم، مایہ ناز دانشور، آفاقی مفکر اور شرق و غرب کی دانش سے مالا مال انسان تھے۔ ان کا بنیادی میدان معیشت تھا اور وہ زندگی بھر درس و تدریس اور تحقیق و تصنیف سے وابستہ رہے۔ ان کی بصیرت کا دائرہ پوری زندگی پر محیط تھا۔ وہ 11 نومبر 2022 کو امریکہ میں انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔
ان کے علم و فضل کا نظارہ ان کے ایک طویل مضمون سے ہوتا ہے جو ترجمان القرآن لاہور میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اسلامی تناظر میں زندگی کا نہایت بالغ نظری سے جائزہ لیا ہے اور اسے ایمان اور ایمانی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا طاقتور داعیہ پیدا کیا ہے۔
فکری بنیادیں
ایمان کی اہمیت:
آج پوری دنیا میں اللہ پر ایمان زائل یا از حد ضعیف ہو چکا ہے۔دور جدید کا انسان رسمی طور پر خدا کا اقرار کرنے کے باوجود اپنا نظام زندگی خود وضع کرنے پر مصر ہے۔ انسانی ذہن کی نارسائی، کوتاہ بینی اور عدم استقرار نے جدید انسان کو اضطراب وحیرانی میں مبتلا کر رکھا ہے مگر ابھی وہ خدا کی طرف رجوع پر آمادہ نہیں۔
تحریک اسلامی کو ایک ایسی فکر کو سامنے لانا ہے جو انسانیت کو دوبارہ خدا پر سچا ایمان عطا کرنے اور اس کی ہدایت کی طرف واپس لانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
گزشتہ دو سو سال سے چھائی ہوئی تہذیب نے ایمان بالغیب کی جڑیں ہلا دی ہیں اور یقین کو صرف اسی علم تک محدود کر دیا ہے جو حواس کی مدد سے حاصل کیا جا سکے۔ اس تہذیب نے انسان کا منتہائے نظر دنیوی ترقی اور مادی اقتدار تک محدود کر دیا ہے۔ زندگی کے روحانی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا ہے، اور اخلاق کو ان مادی مقاصد کے تابع بنا دیا ہے۔
مسلم دانش وروں کی فکری جہت:
مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ تہذیب حاضر کی مسلسل تربیت میں رہتا ہے اور معاشی اعتبار سے ان قدروں کا زیادہ واضح شعور رکھتا ہے جو تہذیب حاضر نے انسان کو دی ہیں۔یہی طبقہ مسلمان قوموں میں سیاسی برتری کا مالک ہے۔ یہ طبقہ ایمان کے غیر معمولی ضعف کا شکار ہے۔ مسلمان دانش وروں میں ایک معتد بہ تعداد خدا کے وجود، رسالت اور آخرت پر یقین سے محروم ہے یا کم از کم ایسے شک وریب میں مبتلا ہے جو ان کے ایمان کو بے اثر بنا دینے کے لیے کافی ہے۔
مسلم دانش وروں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اسلام کا دائرہ بھی دوسرے مذاہب کی طرح نجی زندگی میں بندہ وخدا کے تعلق تک محدود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قرآن کی تعلیمات اور رسول کی ہدایات، عبادات واخلاق اور عام انسانی تعلقات میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہیں مگر قرآن وسنت کے احکام وقوانین یعنی ’’شریعت‘‘ اپنے زمانے کے لیے تھی، ہمارے زمانے کے لیے نہیں ہے۔
علما ومشائخ کا عمومی رویہ:
ہر مسلمان معاشرے میں ایک طبقہ علما ومشائخ کا بھی ہے جس سے مسلمان عوام خاصا تعلق رکھتے ہیں۔لیکن ان علما ومشائخ کو مسلمان عوام سیاسی اور عام دنیوی امور میں اپنا رہنما نہیں بناتے اور نہ خود علما ومشائخ میں اتنی خود اعتمادی اور اس بات کا حوصلہ ہے کہ وہ ان کی مکمل رہنمائی کریں۔
وہ جدید تہذیب اور مسلمان دانش وروں پر اس کے گہرے اثرات سے بالعموم ناواقف ہیں۔ وہ تہذیب جدید اور اس کے تمدن کی مادی بلندی سے مرعوب ہیں اور اس کو جڑ، بنیاد سے بدل کر اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کا کوئی داعیہ اپنے اندر نہیں پاتے۔
اسلامی تحریکیں اور مسلم معاشرے:
احیاء اسلام کی کوششوں نے عام انسانوں کو مخاطب بنا کر انہیں کفر وشرک اور حیرانی واضطراب سے ایمان کی طرف لانے کی کوشش بھی کم ہی کی ہے۔ان کی بیش تر توجہات مسلمان معاشروں پر مرکوز رہی ہیں۔ اب بھی مسلمان دانش وروں اور ان کے عوام کا حال وہی ہے۔
آج مسلمان دانش وروں میں ایک معتدبہ عنصر موجود ہے جو پورے اسلام کو اختیار کرنے کا عزم رکھتا ہے اور شریعت کو نہ صرف واجب العمل سمجھتا ہے بلکہ قابل عمل سمجھتا ہے اور عصر حاضر میں اسے نافذ کرنے کا عزم بھی رکھتا ہے۔ یہ عنصر، متحرک اور فعال ہے اور متعدد مسلمان معاشروں میں اس نے عوام کے ایک بڑے طبقے کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ لیکن ابھی عوام کی غالب اکثریت کی اس نئی اسلامی قیادت کے ساتھ وابستگی زیادہ تر جذباتی ہے۔
اپنے دانش ور طبقے میں ایمان کی بحالی اور اپنے عوام کو پوری طرح ساتھ لے کر چلنے کے لیے ابھی اسلامی تحریکوں کو بہت کچھ کرنا ہے۔ انہیں عوام میں اسلام کا علم پھیلانے، ان کی اصلاحی اور دینی اصلاح اور ایمانی تربیت کے لیے اپنے پروگراموں کو زیادہ جامع بنانا ہے۔
تحریک اسلامی کے کارکنوں کو نہ صرف عبادات واخلاق میں بلکہ معاملات دنیا بالخصوص معاشی وسائل اور سیاسی طاقت کے برتنے میں نیز اپنی معاشرتی زندگی میں للہیت، ترجیح آخرت اور اخوت، مواساۃ ومرحمت، شورائیت اور مساوات کی اسلامی قدروں کے مطابق اعلیٰ اسلامی کردار کا نمونہ پیش کرنا ہے۔
غور و فکر کی جہتیں:
عصر حاضر میں اسلامی نظام کے قیام کی شرط لازم فکری کام ہے۔ہمارے نزدیک انسانی دنیا میں فیصلہ کن طاقت افکار وتصورات کی طاقت ہے اور جو چیز دور حاضر میں اسلام کو اس کا اصل مقام دوبارہ دلوانے والی ہے، وہ اسلامی افکار وتصورات کی صالحیت اور دوسرے تمام افکار وتصورات کے مقابلے میں اسلام کے نظریہ حیات کا زیادہ معقول وبرتر ہونا ہے۔
ایمان وعقیدہ
شان الوہیت:
فکری کاموں میں سرفہرست اللہ تعالیٰکے وجود، اس کی صفات اور شان الوہیت کی تفہیم کا مسئلہ ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ عصر حاضر کے ائمہ فکر کے اعتراضات وشبہات کا جائزہ لیتے ہوئے اس موضوع پر کام کیا جائے۔
صفات خداوندی کی قرآن کی روشنی میں تفہیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ خدا علیم وخبیر ہے اور وہی غیب کا علم رکھتا ہے مگر علم کے باب میں دور حاضر کا انسان کسی حد کا قائل نہیں اور وہ اس علم وخبر کا بھی مدعی ہے جو ضابطہ حیات وضع کرنے کے لیے درکار ہے۔
منصب رسالت:
الوہیت کے بعد وحی ورسالت کی اہمیت ہے۔مستشرقین نے وحی کے اسلامی تصور کو مجروح کرنے اور رسالت کے حدود کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے جس کا بعض مسلمان دانش وروں نے خاصا اثر لیا ہے۔
وحی ورسالت کے قرآنی تصور کی وضاحت میں عقل انسانی، سائنس اور تاریخ کی رہنمائی کی رسائی کو بھی زیر بحث لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ غیب اور ایمان بالغیب کے موضوع پر سیر حاصل بحث کرنی ہوگی۔
قرآن اور سائنس:
مقام وحی ورسالت کے ضمن میں مذہب اور سائنس،یا زیادہ صحیح الفاظ میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر بھی نئے کام کی ضرورت ہے۔ اس موضوع پر اردو اور عربی میں جو لٹریچر موجود ہے، اس پر زیادہ تر انیسویں صدی کی سائنس کی فکر کی چھاپ پڑی ہے اور وہ افراط وتفریط کا شکار ہے۔
سنت:
منصب رسالت کی تفہیم کے لیے دوسرا اہم کام سنت کی تنقیح کا ہے۔سنت اسلامی قانون کا ماخذ اور قرآن کے پہلو بہ پہلو اسلامی تعلیمات کا منبع ہے۔ اصولی طور پر اس ذخیرہ سے استفادہ میں ماضی کی بحث وتحقیق کو حرف آخر سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق وتدبیر کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔
فقہ
معاصر اسلامی مفکرین کے درمیان دور جدید کی اسلامی قانون سازی میں حجت ہونے یا رہنما بنانے کے لحاظ سے اس فقہی ذخیرے کے مقام کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔اصولی طور پر اللہ نے ہمیں صرف کتاب وسنت کی پابندی کا مکلف بنایا ہے۔ جدید اسلامی قانون سازی میں ہمیں ماضی کے فقہی ذخیرے سے پورا استفادہ کرنا چاہیے لیکن یہ مخصوص زمان و مکان میں انسانی ذہن کی پیداوار ہے جس کی پابندی کی نہ کوئی شرعی اور عقلی دلیل ہے۔
معاشی مسائل
اسلام اور معاشی ترقی:
بہت سے جدید ذہنوں کی اسلام اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں بے دلی یا مخالفت معاشی مسائل سے وابستہ ہے۔بہت سے مسلم دانش ور یہ احسا س رکھتے ہیں کہ بعض اسلامی تعلیمات معاشی ترقی کے لیے ناسازگار ہیں اور اسلام تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے ایجابی طور پر سازگار فضا پیدا نہیں کر سکتا۔
اگر تحریک اسلامی کو نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنے ماہرین معاشیات کا تعاون حاصل کرنا ہے تو ان کی ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے۔ معاشی ترقی کے حقیقی تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اسلام کے حرکی رجحانات کی مخفی قوتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہیے کہ کس طرح وہ معاشی ترقی کے لیے سازگار فضا بناتے ہیں۔
غیر سودی معیشت:
اسلام میں سود کی حرمت اور معاصر معاشی نظاموں میں سود کی کلیدی اہمیت اکثر جدید تعلیم یافتہ افراد کو الجھن میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سود کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کے بعد بنک کاری، نظام زر وکریڈٹ، تجارت خارجہ، بین الاقوامی مالی تعلقات کن بنیادوں پر منظم کیے جا سکیں گے؟
حرمت سود کی حکمتوں کے بیان اور مذکورہ بالا امور کی تنظیم کے لیے متبادل بنیادوں کی وضاحت پر جو کام اب تک کیا گیا ہے، وہ ابتدائی معیار کا ہے۔ مزید تفصیلات پر غور اور متبادل نظام کی فنی وضاحت درکار ہے۔
انشورنس:
صنعتی دور میں انشورنس ایک اہم کاروباری ضرورت ہے۔ان حقائق کے پیش نظر اسلامی معاشرے کے لیے چند بنیادی سوالات غور طلب ہیں۔ انشورنس کا موجودہ نظام سود سے ملوث ہے مگر سود کے بغیر انشورنس کی تنظیم جدید اس سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی مزید تحقیق اور جامع بحث کی ضرورت ہے۔
نظام محاصل:
دور جدید کی اسلامی معیشت کے نظام محاصل پر کسی جامع کام کی ضرورت ہے۔اگرچہ متعدد معاصر فقہا ومفکرین نے مال کی نئی قسموں کے سلسلے میں زکوٰۃ کے وجوب پر روشنی ڈالی ہے، مگر ابھی اس سلسلے کے تمام مسائل کا احاطہ نہیں کیا جا سکا۔
شرعی محاصل اور مزید محاصل، مالیاتی پالیسی اور سماجی تحفظ پر روشنی ڈالتے ہوئے غیر سودی اسلامی معیشت کے پس منظر میں ایک جامع نظام تجویز کیا جائے۔
تحدید نسل:
آج کل کم ترقی یافتہ ممالک کی معاشی پالیسی میں تحدید نسل نے بھی ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر مزید تحقیقی کام کی اور بحث ومذاکرے کے ذریعے موجودہ اختلاف رائے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔