افغانستان کی لڑکی سے یورپ کی باڈی بلڈنگ ملکہ تک: رویا کریمی کا عزم و حوصلہ

عورت ہمیشہ سے قوت، برداشت اور عزم کی علامت رہی ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں اس نے اپنے خوابوں اور شناخت کے لیے جدوجہد کی ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت رہے ہوں۔ کبھی اس نے ظلم کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر راستہ دکھایا، تو کبھی روایات کی زنجیریں توڑ کر خود کو منوایا۔ عورت کا حوصلہ ثابت کرتا ہے کہ اگر وہ کسی مقصد کے حصول کا ارادہ کر لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔

خواتین کی ہمت کی یہی حقیقت ہے کہ وہ مشکلات میں نرمی اور طاقت دونوں کو یکجا کر لیتی ہیں۔ معاشرتی یا روایتی قید میں رہ کر بھی وہ اپنے لیے نئے راستے تراش لیتی ہیں، خوابوں کو حقیقت میں بدلتی ہیں اور دنیا کو باور کراتی ہیں کہ ان کا وجود جذبے اور قوتِ ارادی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

کل رات والدہ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے خبریں دیکھ رہی تھی کہ ایک تصویر اور کہانی میرے سامنے آئی۔ اسے پڑھتے ہوئے رکنا مشکل تھا۔ میں نے فوراً سوچا کہ یہ داستان قارئین کے ساتھ ضرور شیئر کرنی چاہیے۔ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ عورت کا دماغ شگفتہ اور تیز رفتار ہوتا ہے، کئی بار مردوں سے بھی زیادہ باریک بینی اور حکمتِ عملی سے کام لیتا ہے۔ یہی تیز فہمی، حوصلہ اور مضبوط ارادہ خواتین کو غیر معمولی کامیابیوں تک پہنچاتا ہے۔

اسی جذبے کی جیتی جاگتی مثال ہیں رویا کریمی، وہ لڑکی جو کبھی افغانستان کی تنگ اور روایتی گلیوں میں زندگی کے معمولی امکانات تلاش کر رہی تھی اور آج یورپ کے چمکتے اسٹیج پر باڈی بلڈنگ کی ملکہ کہلاتی ہے۔ ان کے جسم پر محنت کے نشانات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ کرسٹل کی چمکدار بکنی میں ان کے مضبوط پٹھے ہر زاویے سے محنت کی کہانی سناتے ہیں۔ سنہرے بال، مہارت سے کیا گیا میک اپ اور پراعتماد مسکراہٹ ان کے ہر قدم کو نمایاں بناتی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ خاتون پندرہ سال قبل افغانستان کی ایک کم عمر ماں تھیں، جن کے خواب محدود تھے اور سماجی رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی تھیں۔

اب رویا کریمی کی عمر تیس برس ہے اور وہ یورپ میں باڈی بلڈنگ کی معتبر شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ اس ہفتے وہ سپین کے شہر بارسلونا میں ہونے والی ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپیئن شپ میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کا یہ سفر محض دو سال پرانا ہے، جب انہوں نے پیشہ ورانہ باڈی بلڈنگ کی شروعات کی۔ ان دنوں کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جب وہ اپنی والدہ اور بیٹے کے ساتھ افغانستان سے فرار ہو کر محفوظ زندگی کی تلاش میں نکلی تھیں۔

افغانستان چھوڑنے کے بعد انہوں نے ناروے میں پناہ لی۔ یہاں انہوں نے نئی زندگی کا آغاز کیا، تعلیم مکمل کی اور نرس بنیں۔ اسی دوران وہ اپنے موجودہ شوہر سے ملیں، جو خود بھی باڈی بلڈر ہیں اور ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رویا بتاتی ہیں کہ باڈی بلڈنگ نے انہیں ذہنی اور سماجی حدود سے آزادی دلائی، وہی حدود جو برسوں تک ان پر مسلط رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جم میں قدم رکھتے وقت وہ ہر بار یاد کرتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب انہیں افغانستان میں ورزش کی اجازت تک نہیں تھی۔

رویا کی زندگی فرسودہ روایات کے خلاف جدوجہد، خود کو پہچان بنانے اور اپنے آبائی ملک کی خواتین کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ افغانستان میں خواتین کی بنیادی آزادیوں کی شدید کمی ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال اور بھی تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں بارہ سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں، خواتین بغیر مرد کے لمبا سفر نہیں کر سکتیں اور عوامی مقامات پر اپنی رائے کا اظہار جرم سمجھا جاتا ہے۔ ان پابندیوں کا اثر نہ صرف روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے بلکہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں، جس سے لاکھوں خواتین بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ یہ معاشرتی اور قانونی رکاوٹیں رویا جیسی خواتین کے خوابوں اور ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

تعلیم کے حوالے سے صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ لڑکیوں کو ابتدائی تعلیم سے روکنا نہ صرف ان کی ذہنی اور فکری نشوونما میں رکاوٹ ہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی ان کے کردار کو محدود کر دیتا ہے۔ اسکول کی غیر موجودگی، کتابوں اور تربیتی مواقع کی کمی اور تعلیمی اداروں تک رسائی نہ ہونا خواتین کو زندگی کے اہم شعبوں میں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ایسے میں ہر کامیاب افغان خاتون جو علم یا پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرتی ہے، معاشرتی بندھنوں کو توڑتی ہے۔ رویا کہتی ہیں کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ افغانستان سے نکل آئیں، لیکن وہاں کی بہت سی خواتین آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

طالبان کی واپسی سے بہت پہلے سنہ 2011 میں رویا نے اپنے شوہر کو چھوڑ کر افغانستان سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کے لیے آزادی کے تقاضے خطرناک تھے، انتہائی مشکل تھا۔ وہ اس دور کی یادوں کو بیان کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہیں۔

ناروے میں ان کے لیے ہر چیز نئی تھی۔ ایک مختلف ثقافت، نئی زبان سیکھنا، نوکری حاصل کرنا اور خاندان کی کفالت کے لیے خود کو منوانا سب بڑے چیلنج تھے۔ ابتدائی دنوں میں مشکلات کا سامنا تھکا دینے والا تھا، لیکن مستقل محنت اور صبر نے انہیں کامیابی کی طرف گامزن کیا۔ نرسنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اوسلو کے ایک ہسپتال میں کام کرنے لگیں اور زندگی کے نئے باب کا آغاز کیا۔

ورزش اور باڈی بلڈنگ کے ذریعے رویا نے نہ صرف اپنے جسم کو مضبوط بنایا بلکہ خود اعتمادی اور خود شناسی کا نیا جہان بھی پایا۔ جم میں ان کی ملاقات اپنے موجودہ شوہر سے ہوئی، جو نہ صرف ان کے ساتھی بلکہ سب سے بڑے حامی بھی ہیں۔ رویا کہتی ہیں کہ شوہر کی حمایت نے انہیں مسابقتی سطح پر قدم رکھنے کی ہمت دی اور یہ باور کرایا کہ اگر مرد عورت کے ساتھ کھڑا ہو تو حیرت انگیز کامیابیاں ممکن ہیں۔

صرف اٹھارہ ماہ قبل انہوں نے نرسنگ کا پیشہ چھوڑ کر باڈی بلڈنگ کو اپنے کیرئیر کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ محض ملازمت یا مالی تحفظ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ آزادی کو اپنانے اور خود کو نئی شناخت دینے کی عکاسی تھا۔ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج وہ حدود تھیں جو معاشرتی اور غیر تحریری اصولوں کے ذریعے خواتین پر مسلط کی گئی تھیں۔ رویا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود کو ان اصولوں کے فریم ورک سے آزاد کریں گی۔

اسٹیج پر بکنی پہننا، کھلے بال رکھنا اور مکمل میک اپ کرنا ان تمام پابندیوں اور سماجی تعصبات کے خلاف ایک جرات مندانہ قدم تھا۔ اس کے نتیجے میں انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں، لیکن رویا نے ان پر کبھی توجہ نہیں دی۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ صرف ظاہری شکل دیکھتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے برسوں کی محنت، صبر اور قربانیاں چھپی ہیں۔

رویا سوشل میڈیا کے ذریعے افغانستان میں خواتین سے رابطہ رکھتی ہیں اور انہیں مضبوط جسمانی صحت، خود اعتمادی اور ذاتی شناخت کے اہم پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔ وہ اب ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپیئن شپ میں حصہ لے رہی ہیں، جو بارسلونا میں شروع ہو رہی ہے۔ گذشتہ برس اپریل میں انہوں نے ’سٹاپریٹ اوپن باڈی بلڈنگ‘ میں سونے کا تمغہ جیتا اور اس کے بعد ’ناروے کلاسک 2024‘ میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی، جس میں سکینڈینیویا بھر کے کھلاڑی شریک ہوئے۔

رویا کہتی ہیں کہ یہ سفر آسان نہیں تھا، بے انتہا مشکلات کا سامنا رہا، لیکن آہستہ آہستہ انہیں کامیابی کے میڈل ملتے گئے۔ ان کے بیٹے اور شوہر ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کے شوہر کمال جلال الدین کہتے ہیں کہ اپنی بیوی کو اسٹیج پر دیکھنا اس خواب کی خوبصورت تکمیل تھی، جو انہوں نے ایک ساتھ دیکھا تھا۔ یہ مقابلہ رویا کے لیے صرف ذاتی کامیابی یا خاندانی فخر کا معاملہ نہیں، بلکہ افغان لڑکیوں اور خواتین کے لیے ایک پیغام ہے، ایک علامت ہے کہ وہ بھی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتی ہیں۔ رویا پوری طرح تیار ہیں، اپنے آپ کو طاقتور محسوس کر رہی ہیں اور امید رکھتی ہیں کہ وہ تاریخ رقم کریں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے