۱۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام "Celebrating Iqbal Across Languages” کے عنوان سے ایک اون لائن بین الاقوامی اقبال سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس خصوصی محفل کا مقصد شاعرِ مشرق علامہ محمداقبال کے افکار اور کلام کے پرتگالی ترجمے کا جشن منانا تھا، جو برازیل کے ڈاکٹر مارکو لوکیس(Dr. Marco Lucchesi)، صدر نیشنل لائبریری، برازیل اور سابق صدر برازیل اکیڈمی اوف لیٹرز نے انجام دیا۔ ڈاکٹر لوکیسی ۲۲زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور پرتگیزی زبان میں اقبال کی فارسی شاعری اور پی ایچ ڈی کے مقالے کے مترجم بھی ہیں۔ اس یادگار بین الاقوامی نشست کی صدارت ڈاکٹر مارکو لوکیسی ہی نے انجام دی ۔
برازیل کے سفیر عزت مآب اولنتھو وییرا (H.E. Mr. Olyntho Vieira) اور پرتگال کے سفیر عزت مآب فریڈرکو سلوا (H.E. Mr. Frederico Silva) نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی جب کہ ایران سے ڈاکٹر وفا یزدان منش (پروفیسر، تہران یونی ورسٹی)اور پاکستان سے پروفیسرڈاکٹر سلیم مظہر(ڈائریکٹر جنرل، ادارۂ فروغ قومی زبان )، ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی(ڈائریکٹر، اقبال اکادمی، لاہور) اور ڈاکٹر جمیل اصغر جامی (ڈین کلیۂ زبان، نمل )شریک گفتگو تھے۔ پروگرام کی نظامت جناب منیر فیاض نے کی ؛ ڈاکٹر شیر علی خان نے تکنیکی معاونت فراہم کی جب کہ اکادمی کی نائب ناظم (اکیڈیمکس) ڈاکٹر بی بی امینہ پروگرام کی منتظم تھیں۔
افتتاحی کلمات صدرنشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اداکیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ محفل ایک خاص موقعے کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ ہم اقبال کے کلام و افکار کے پرتگالی ترجمے کا جشن منا رہے ہیں، جو اقبال کے آفاقی پیغام کو ایک نئی لسانی اور ثقافتی دنیا تک پہنچاتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقبال کا وژن ،خودی کی پہچان، روحانی آزادی اور انسانی وحدت، نسل در نسل لوگوں کے لیے الہام کا سرچشمہ رہا ہے اور یہ ترجمہ اس پیغام کو وقت، جغرافیہ اور ثقافت کی تمام سرحدوں سے آگے لے جا رہا ہے۔ انھوں نے تمام شرکا کو فرداً فرداً خوش آمدید کہا اور اقبال کے افکار کو عالمی سطح پر متعارف کروانے پر ڈاکٹر مارکو لوکیسی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر وفا یزدان منش نے’’اقبال کا تفکرِ روایت و مذہب: تجدد پسندی اور روشن خیالی کے تناظر میں ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی خدمات پر جو تحقیق ہوئی ہے انھوں نے اس کے اہم نکات کو یکجا کرنے کی سعی کی ہے۔ علامہ اقبال کا تفکر مذہب اور روایت کے ساتھ جڑا ہے، مگر وہ رجعت پسند نہیں بلکہ تجدد پسند اور روشن خیال تھے۔ ان کا پیغام ہر دور کے لیے ہے، جو عشق، ایمان، خودی کی بیداری اور مغربی تقلید سے آزاد رہنے سے مشروط ہے۔
ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے کہا کہ میں نے اقبال کے منتخب کلام کا ترجمہ کیا اور میرے لیےیہ ایک نہایت مسرت بخش اور روح پرور تجربہ رہا۔یقیناً ڈاکٹر لوکیسی کے لیے بھی ایسا ہی ہوگا تاہم یہ بھی درست ہے کہ ترجمہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں؛ یہ جذبے، محبت اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔ اقبال کا ترجمہ کرنا ویسا ہی دشوار ہے جیسے ملٹن یا ہومر کا۔ ترجمہ ایک نازک محبوب کی مانند ہے، جو مترجم سے تمام توانائی اور تخیل مانگتا ہے اور یہی زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا واحد پل ہے۔
ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی نے کہا کہ علامہ اقبال کا پیغام کسی ایک خطے تک محدود نہیں ۔ یہ پوری انسانیت کے لیے خودی، آزادی اور روحانی بیداری کا پیغام ہے۔ اقبال نے انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی اور فکری غلامی سے نجات کی دعوت دی۔یہ ہمارے لیے خوشی اور فخر کی بات ہے کہ اقبال کی شاعری اب پرتگالی زبان میں ترجمہ ہو رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی قدم ہے جو برازیلی اور اردو زبان و ثقافت کے درمیان فکری و تہذیبی پل قائم کرے گا۔ جناب مارکو لوکیسی کی علمی کاوش دراصل ایک نئی فکری دنیا کے در وا کر رہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان اور اقبال اکادمی اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اقبال کے افکار کو عالمی سطح پر عام کرنے کی ہر علمی و ادبی کوشش کی بھرپور سرپرستی جاری رکھیں گی۔
ڈاکٹر سلیم مظہرنے صدر نشین اکادمی ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے قابلِ تقلید قرار دیا اور کہا کہ افراد، برادریاں، ریاستیں اور اقوام سب کے درمیان علمی، ثقافتی اور فنون لطیفہ کے تعلقات ہوتے ہیں۔ اگر قومیں اور برادریاں ثقافت اور روایت کے میدان میں باہمی رابطے میں رہیں، تو وہ اپنے تعلقات کو دیگر شعبوں میں بھی مضبوط بنا سکتی ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوں گے اور مسلسل مکالمے کا سبب بنیں گے۔انھوں نے نہ صرف ڈاکٹر لوکیسی کو اس اہم کام پر مبارک باد پیش کی بلکہ انھیں پاکستانی ادبی و لسانی اداروں کے ساتھ اشتراک و تعاون کی دعوت بھی دی۔
پرتگال کے سفیر عزت مآب جناب فریڈرکو سلوانے کہا کہ علامہ اقبال نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عالمی مفکر ہیں۔ اقبال کی شاعری، فلسفہ اور سیاسی فکر نہ صرف اپنے وقت کے لیے بلکہ ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ان کے پیغامات انسانی وقار، خود شناسی، ہمدردی اور انسانی عظمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اقبال کے فلسفیانہ کام اور اسلامی مفکرین کے علوم کے ساتھ تعلق نے پرتگال کی فکری برادری کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کے خیال میں اقبال کا پیغام برداشت، مکالمہ اور بین الثقافتی تبادلوں کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے اور یہ انسانی تہذیبوں کی آزادی اور فکری ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔
برازیل کے سفیر عزت مآب جناب اولینتھو وییرا نے کہا کہ اقبال یقیناً ایک اہم شاعر اور عالمی مفکر ہیں، جنہوں نے فلسفے، شاعری اور انسانی سوچ پر گہرا اثر چھوڑا۔ اقبال کے افکار نے برازیل اور دیگر ممالک میں ادب، فکری مکالمہ اور ثقافت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے پروفیسر مارکو لوکیسی کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے تراجم دونوں ممالک کے درمیان علمی اور ثقافتی روابط کو مستحکم کریں گے ۔
آخر میں صاحبِ تقریب جناب مارکو لوکیسی نے اپنے خطبۂ صدارت میں کہا کہ یہ میرے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف جیسی دانشور، شاعرہ، ادیبہ اور مؤرخ ، جو نہ صرف اپنے وطن میں عزت و احترام کی حامل ہیں بلکہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی پہلی خاتون سربراہ بھی ہیں ، کی جانب سے دعوت موصول ہوئی۔ مجھے آج بھی زندہ رود کا استعارہ یاد ہے ’’ جاوید نامہ‘‘ کی وہ زندہ ندی جو روح، فکر اور کائنات کے درمیان رواں مکالمے کی علامت ہے۔ آج اگرچہ میں مغربی ایمیزون کے شہر پورتو ویلیو میں، سمندر سے دور ہوں، مگر یہاں کے دریا بھی اسی ازلی جذبے اور وجدانی کشش کے مظہر ہیں جو فطرت کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ،ایک ایسی کتاب جو درختوں، ہواؤں اور جنگلات کے اوراق سے بنی ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ شاعری، نغمگی اور روحانیت کی سرزمین رہا ہے ۔ اس کی تہذیبی وراثت، عابدہ پروین کی صدا، صابری برادران کی قوالی اور اقبال کی فکری میراث نے اسے میرے دل کے بہت قریب کر دیا۔ میں نے اردو اور فارسی کے مطالعے کے دوران میں اقبال کو ایک نئے، مگر ازلی دوست کے طور پر دریافت کیا۔ اسی محبت کے اظہار میں، برازیل میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے میں نے لاہور میں اقبال کے مزار پر پھول بھی بھیجے۔
انھوں نے کہا کہ اقبال کی فارسی مابعدالطبیعیات محض ایک علمی مقالہ نہیں بلکہ فکر و شاعری کا ایک نیا نقشہ ہے،جو ہمیں شاعر کے تخلیقی کارخانے تک لے جاتا ہے۔ اس میں وجدان، عقل اور تجربے کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اقبال کا ذہن علتِ فاعلی اور علتِ غائی کے درمیان ایک فکری گردش تخلیق کرتا ہے، جو زمان و مکاں کو روحانی معنویت عطا کرتا ہے۔ وہ تاریخ کو ایک مابعدالطبیعیاتی سفر کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں انسان کو خالق کی تجلی سے روشنی حاصل ہوتی ہے۔
اقبال کے نزدیک ایران فکر و وجدان کا وطن ہے۔ وہ رُومی، سنائی، سعدی، عطار اور حافظ کی روایت سے جڑا ہوا ہے مگر اس کا جھکاؤ رُومی کی صاف، سادہ اور آسمانی روحانیت کی طرف زیادہ ہے۔ اس کے ہاں فارسی شاعری کے استعارے نئے معنوں میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک شاعر محض ناظر نہیں، خالق ہے؛ وہ کائنات کو نئی زبان، نئے شعور اور نئے خواب عطا کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اقبال مغرب و مشرق کے مکالمے کو فکری ہم آہنگی میں بدل دیتا ہے۔ وہ مغرب کے ظاہری مظاہر سے مرعوب نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصل قوت ،علم، سائنس اور تنظیم ، کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ نوجوان نسل کو دعوت دیتا ہے کہ خودی کی بیداری کے ذریعے اپنی اصل کو پہچانے اور اپنی تخلیقی قوت کو بروئے کار لائے۔
“جاوید نامہ”میں سفر کے دوران میں اقبال انسان، روح اور تاریخ کے باہمی رشتے کو نئے معنی دیتا ہے۔ اس کے مکالمے میں نطشے جیسی مغربی شخصیت کو بھی مقام دیا گیا ہے ، جو اقبال کی فکری وسعت اور مکالمے کی قوت کی علامت ہے۔
اقبال کے نزدیک شاعری محض فن نہیں، ایک روحانی عمل ہے ، جو اس دنیا اور ماورائے دنیا کے درمیان ایک جمالیاتی پُل قائم کرتی ہے۔ جیسے دانتے نے زمین کو آسمان سے دیکھا، ویسے ہی اقبال نے انسان کو اس کی روحانی وسعت میں پہچانا۔یوں اقبال ایک زندہ رود کی مانند ہے ، جو مشرق و مغرب کے درمیان بہتا ہوا تہذیبوں، زبانوں اور افکار کو جوڑتا ہے۔ اس کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچا شاعر وہی ہے جو اپنے عشق، تخیل اور وجدان سے انسانیت کے بکھرے ہوئے کناروں کو پھر سے یکجا کر دے۔
یہ بین الاقوامی نشست صدر نشین اکادمی ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ، جس میں فیس بک کے ذریعے بھی سیکڑوں سامعین و حاضرین شریک ہوئے۔ اس محفل نے اقبال کے افکار کو عالمی سطح پر عام کرنے، علمی و ادبی مکالمے کو فروغ دینے اور شاعری، فلسفہ اور تہذیب کے پل قائم کرنے میں بھی ایک تاریخی کردار ادا کیا، جس میں اقبال کے پیغامِ خودی اور عالمی بھائی چارے کو دنیا کے ہر گوشے تک پہنچانے کا عزم مسلسل دہرایا گیا۔