خواتین میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کی وجوہات ؟

وہ ایک خوبصورت، خوش مزاج اور دلاویز آواز والی لڑکی تھی۔ فلمی ہیروئن کی طرح کھانے پینے سے لے کر رہن سہن تک ہر بات میں بے حد محتاط رہتی تھی۔ وہ اپنے بالوں، آنکھوں، چہرے، ہاتھ، پاؤں غرض یہ کہ پوری باڈی کا اس قدر خیال رکھتی کہ اسے دیکھ کر لگتا جیسے زندگی نے اسے صرف نکھارنے کے لیے چُنا ہو۔ یو بے رحم وقت تیزی سے گزر رہا تھا نا جانے پھر ایک دن کچھ ایسا ہوا کہ اس نے اچانک خود پر توجہ دینا چھوڑ دیا۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے اس کی زندگی نے ایک نیا اداس موڑ لیا اور پھر آہستہ آہستہ اس بدلاؤ نے بے شمار عورتوں کی مشترکہ روپ دھار لیا۔

اس حالت میں جب ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ ایسا کیا ہوا تھا تو اس نے بتایا کہ میں نے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا اور آج دیکھوں میں بیماری میں مبتلا ہو چکی ہوں۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے اسے تسلی دی اور کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہمارے رہن سہن میں آنے والی تبدیلیوں نے صحت کے کئی مسائل کو جنم دیا۔ خاص طور پر عورت جو ہمیشہ دوسروں کی خوشیوں کو اپنی خوشی پر ترجیح دیتی ہے سب کے لیے تو وقت نکالتی ہے اور خود کے لیے کبھی نہیں۔ یہی بے اعتنائی اسے اندر سے کمزور کرتی جاتی ہے۔

اگر ہم نظر دوڑائیں تو دنیا کے ہر کونے میں عورت گھر اور اس سے باہر اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے۔ وہ ماں ہے، بچوں کی دیکھ بھال میں نہ دن دیکھتی ہے نہ رات، بیٹی ہے تو وہ والدین اور خاندان کے خواب روشن کرتی ہے، بیوی ہے تو شوہر کے ساتھ وفاداری اور شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے، وہ بہن ہے تو والد اور بھائیوں کا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ غرض یہ کہ ہر رشتے میں قربانی کا ایسا پیکر کہ اپنی آراء کو ہمیشہ نظرانداز کرتی ہے۔ باہر سے چٹان کی طرح مضبوط دکھائی دینے والی یہ عورت اندر سے شیشے کی طرح ٹوٹتی چلی جاتی ہے۔ جمال پر مسکان لیکن دل میں بے سکونی کی ایک بے بس اور خاموش دھڑکن ایسی بے آواز دھڑکن جسے کوئی نہیں سنتا اس کا جسم اور ذہن اسے روز محسوس کرتے ہیں۔

اسی طرح زیادہ مصروفیت کی وجہ سے اپنی ذات کو بھول جانا بیماریوں کی پہلی سیڑھی ہے۔ صبح سے شام تک پھر شام سے اگلی صبح تک ہر ایک کے لیے بھگانا محنت، مشقت اور سب کی فرمائشیں پوری کرنا اس کے دوران خود کے لیے ایک لمحہ بھی نہ نکالنا۔ کھانا بے وقت یا کبھی کھایا اور کبھی پورا دن بھی نہیں کھایا اسی طرح نیند ادھوری، آرام نہ ہونے کے برابر۔ یہی معمولی سی غفلت رفتہ رفتہ جسم میں خون کی کمی پیدا کرتی ہے اور ہارمونز کی خرابی کے ساتھ تھائیرائیڈ اور دل کی بے حد کمزوری جیسی لاعلاج بیماریوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ سچ کہوں تو زندگی کو سنبھالتے سنبھالتے عورت خود سے ہی دور ہو جاتی ہے۔ اسے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محبت کی دیوی ہے۔

اسی طرح ذہنی دباؤ بھی دیمک کی طرح دھیرے دھیرے عورت کو اندر ہی اندر خاموشی سے کھا جاتا ہے۔ روزمرہ کی الجھنیں، اتار چڑھاؤ، رشتوں کی ناگواری، کبھی غم کبھی خوشی، مالی مسائل، مہنگائی کا بحران اور سماجی تقابل یہ سب مسائل مل کر ڈپریشن، بے چینی، نیند کی کمی اور ہارمونز کے بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ وہ سب کے سامنے اطمینان سے مسکراتی ہے اور اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار بکھرتی جا رہی ہوتی ہے۔ اس کے لمبے گنے بال جھڑنے لگتے ہیں، وہ چمکدار، تروتازہ اور پرکشش چہرہ بے وقت مرجھا جاتا ہے وزن میں بے قاعدگی آ جاتی ہے۔ یہ سب اندرونی تھکان کی وہ بدبخت نشانیاں ہیں جو اسے دوائی استعمال کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

اگر ہم پہلے زمانے کی بات کریں تو عورتیں سادہ طرزِ زندگی اور صحت مند غذائیں کھاتی تھیں اب پراسیسڈ فوڈ، چائے کے ساتھ سموسے، پکوڑے، بیکری کی چیزیں، طرح طرح کی کولڈ ڈرنک اور تلی ہوئی اشیاء نے غذائیت کو زندگی سے دور کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے کولیسٹرول اور وٹامن کی کمی عام ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ جسمانی سرگرمی کی کمی نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ پہلے روزمرہ کے کام کاج جھاڑو، پوچا، ہاتھ سے کپڑے دھونا، آٹا گوندھنا، آون کے بجائے چولہے پر کھانا گرم کرنا، پانی بھر کر لانا وغیرہ یہ سب ورزش کے کام دیتے تھے۔ افسوس کہ اب یہ سب کچھ الیکٹرانک مشینوں کے حوالے ہے اور جسم آہستہ آہستہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ صرف آدھا گھنٹہ چہل قدمی بھی صحت کے لیے اللہ تعالیٰ کا معجزہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس بڑی نعمت کو ضائع کرنا اپنے آپ کے ساتھ ظلم ہے۔

اسی طرح نیند کے بے ترتیب اوقات بھی صحت کے دشمن ہیں۔ رات دیر تک موبائل پر سکرول کرنا، ڈرامے دیکھنا اور غیر ضروری دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور مصروفیات جسم کے قدرتی نظام کو بری طرح بگاڑ دیتی ہیں۔ ہارمونل توازن متاثر ہوتا ہے، شدید تھکن محسوس ہوتی ہے اور بے وجہ غصہ کرنے کے ساتھ موڈ غیر مستحکم ہونے لگتا ہے۔ سات سے آٹھ گھنٹے کی پُرسکون نیند جسم کے لیے انتہائی ضروری ہے یہ وہ مرہم بھی ہے جو دن بھر کی تھکن کو پگھلا دیتی ہے۔

آج کے تیز رفتار مقابلے کے دور میں عورت کی سب سے بڑی کمی سکون کی ہے۔ مادّی آسائشیں تو بے انتہا بڑھ گئی ہیں لیکن قدرتی روحانی سکون بہت دور چلا گیا ہے۔ عبادت، اذکار اور اللہ تعالی سے باتیں کرنا اور اس سے گڑگڑا کر دعائیں مانگنا ان سے دوری دل کو بے چین، بے اطمینان اور کمزور کر دیتی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو مرد یا عورت اپنے رب العالمین سے جڑ جائے اس کی اندرونی مسرت و مضبوطی خودبخود لوٹ آتی ہے۔

اسی طرح یہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی خواتین کی صحت پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں۔ کاسمیٹکس، کیمیکل، پلاسٹک، آلودگی یہ سب انسانی جسم کو آہستہ آہستہ زہر کی طرح متاثر کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر، جلدی امراض، بے اولادی، ہارمونز میں تبدیلی کے مسائل اور حتیٰ کہ کینسر بھی اب زیادہ عام ہو گئے ہیں۔ قدرتی اشیاء، صاف ستھرا پانی اور سادہ رہن سہن کے طرزِ زندگی ہی اصل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اسی طرح یہ بہت ضروری ہے کہ عورت ہر ماہ کے شروع میں ہی اپنا طبی معائنہ کروائے تاکہ بروقت مسائل کا پتہ چل سکے اور نقصان سے بچ سکیں۔ اگر آپ کو وزن زیادہ یا کم کرنا ہو تو کسی ماہر ڈائٹیشین سے رہنمائی لیں اور سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے طریقے نہ آزمائیں۔ اس کے ساتھ ہی بری عادت ترک کر دی جائے کہ خود کو کسی اور عورت سے موازنہ کرنا۔ یہ بہت غلط بات ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ اپنی شخصیت سنوارنے پر بھرپور توجہ دی جائے اپنے جسم کے ساتھ ساتھ ذہن کو بھی آرام اور سکون دیا جائے اور چیختی چلاتی ہوئی تھکن کو سنبھالنے کے لیے وقت نکالا جائے۔

خواتین یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ اپنی صحت کو اہمیت دینا خود غرضی یا فیشن نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا ایک بہت ہی خوبصورت طریقہ ہے۔ جب عورت خوش و خرم اور تروتازہ ہوتی ہے تو پورے گھر میں خوشی اور اطمینان ہو جاتا ہے جب وہ بیمار پڑتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی رک سی گئی ہے۔ بخدا اگر عورت تسلی دینے والی اور مضبوط ہو تو بچے، خاندان بلکہ نسلیں محفوظ ہوتی ہیں اور اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ اگر وہ کمزور ہو جائے تو پورا زمانہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔

برائے کرم اپنی صحت کو اولین ترجیح دیں اپنی دلنشین تبسم کو واپس لائیں اور اپنی زندگی کو وہ اہمیت دیں جس کی آپ واقعی حقدار ہیں۔ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں اور دوسروں کی بھرپور مدد کریں اس سے آپ کی دنیا بھی بہتر ہوگی اور آخرت بھی۔ اللہ تعالی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے