موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change) دریائے سندھ کے طاس (Indus Basin) کی ہیئت کو اس تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں کہ پاکستان کے ادارے اس رفتار کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔ 2025 کے مون سون نے اس حقیقت کو انتہائی بے رحمی سے واضح کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ، حکومتِ پاکستان اور متعدد بین الاقوامی رپورٹنگ ایجنسیوں کے تخمینوں کے مطابق، سیلاب نے تقریباً 54 لاکھ ایکڑ رقبے کو زیرِ آب کیا، جس میں تقریباً 30 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی شامل تھی۔
ایک اندازے کے مطابق 6,000 مویشی ہلاک ہوئے اور کم از کم 822 ارب روپے کا زرعی و فوری معاشی نقصان ہوا، جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق مجموعی نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کا تخمینہ 800 سے 1,000 افراد کے درمیان لگایا گیا۔ اگرچہ محکمہ موسمیات (PMD) اور علاقائی موسمیاتی فورمز نے معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی ہفتوں پہلے کر دی تھی، لیکن پاکستان اس بحران میں فرسودہ نہروں، مٹی سے اٹی ہوئی نکاسی کی نالیوں اور ایسے نظامِ حکمرانی کے ساتھ داخل ہوا جو ایک ایسے دریا کے لیے بنایا گیا تھا جو اب اپنے تاریخی رویوں پر قائم نہیں رہا۔
خریف سیزن 2025 کے اختتام پر ابھرنے والا تضاد پاکستان کے آبی بحران کی عکاسی کسی بھی سیاسی بحث سے بہتر انداز میں کرتا ہے۔ مون سون میں 10 سالہ اوسط سے تقریباً 20 فیصد زیادہ پانی کی آمد کے بعد، "ارسا” (IRSA) کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے بڑے آبی ذخائر—تربیلا، منگلا اور چشمہ—30 ستمبر تک اپنی گنجائش کے مطابق بھر چکے تھے اور ان میں تقریباً 13.2 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی موجود تھا۔ اس کے باوجود، چند ہی دنوں کے اندر ارسا نے ربیع سیزن کے لیے 8 فیصد پانی کی کمی کی منظوری دے دی۔ اگرچہ یہ سالوں میں سب سے کم کمی (shortage) تھی، لیکن اصل بات یہ نہیں ہے۔ ڈیموں کا بھرا ہونا اور اسی سانس میں پانی کی کمی کا اعلان کرنا ایک گہری حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: پاکستان کا آبی بحران ہائیڈرولوجیکل (پانی کی دستیابی کا) نہیں، بلکہ انتظامی (Institutional) ہے۔
دریا کے مزاج میں اس تلاطم کے باوجود، ہماری سیاست "مانوس جھگڑوں” کی آسائش میں قید ہے: صوبائی حصے، ارسا کے حساب کتاب، اور 1991 کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے دریائے سندھ کو ایک نئے دور میں دھکیل دیا ہے، لیکن پاکستان دریا کے انتظام و انصرام کے فرسودہ طریقوں کو بدلنے سے انکاری ہے۔ ایشیا میں ایسی ہی مثال تلاش کرتے ہوئے میری نظر "لوئر میکانگ بیسن” (Lower Mekong Basin) پر پڑی جسے ایسے ہی دباؤ، غیر متوقع مون سون، اپ اسٹریم (upstream) ہائیڈرو پاور ڈیمز، زمینی کٹاؤ اور زمین میں نمکیات کے سرایت کرنے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن انہوں نے شعوری طور پر اپنے نظامِ حکمرانی کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے، جو پاکستان نے نہیں کیا۔
میکانگ سے حاصل ہونے والا پہلا اور اہم ترین سبق یہ ہے کہ موسمیاتی لچک (Resilience) پیدا کرنے کا آغاز مشترکہ اور قابلِ اعتماد ڈیٹا سے ہوتا ہے۔ میکانگ ریور کمیشن (MRC) پورے بیسن میں رئیل ٹائم ٹیلی میٹری (خودکار پیمائش)، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، اور مشترکہ تکنیکی تحقیقات کا استعمال کرتا ہے، جس سے حکومتیں شکوک و شبہات کی بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر بات چیت کرتی ہیں۔ وہاں ڈیٹا کوئی سیاسی ہتھیار نہیں، بلکہ ایک مشترکہ بنیاد ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان اب بھی غیر معیاری ٹیلی میٹری، صوبوں کی جانب سے دستی (manual) پیمائش اور سیاسی طور پر متنازعہ اعداد و شمار پر انحصار کرتا ہے۔ جب پنجاب اور سندھ میں اختلاف ہوتا ہے تو ارسا حقیقی وقت کی تصدیق (real-time verification) سے معاملہ حل کرنے کی بجائے اسے ووٹنگ کے ذریعے حل کرتا ہے۔ جب ایک تکنیکی معاملہ سیاسی طور پر طے کیا جائے گا تو ہر اختلاف سیاسی و تکنیکی رنگ اختیار کر لے گا۔ بھرے ہوئے ڈیم اور پانی کی کمی کا بیک وقت اعلان اسی گہری ناکامی کی علامات ہیں۔
میکانگ سے دوسرا سبق پانی کی منصوبہ بندی میں "موسمیاتی اشاروں” (Climate Signals) کا انضمام ہے۔ ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا اپنے آبی ذخائر کے آپریشنز، فصلوں کے کیلنڈر اور سیلابی میدانوں کی زوننگ کو موسمیاتی پیش گوئیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ جیسے جیسے دریا کا مزاج بدل رہا ہے، طرزِ حکمرانی کو بھی بدلنا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان ڈیموں اور بیراجوں کو دہائیوں پرانے ان مینوئلز (Manuals) کے تحت چلا رہا ہے جو ایک مستحکم ہائیڈرولوجیکل دور کے لیے لکھے گئے تھے۔ فصلوں کے اوقات اب بھی یہ فرض کر کے طے کیے جاتے ہیں کہ مون سون پرانے پیٹرن پر چلے گا۔ سیلابی گزرگاہوں پر تجاوزات کا سلسلہ جاری ہے اور "ریور ٹریننگ” (دریا کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا) صرف ردعمل تک محدود ہے۔ صوبائی سیاست معمول کے مطابق طاس کی منطق (Basin Logic) پر حاوی رہتی ہے۔ ایک دریا جو ڈرامائی طور پر بدل چکا ہے، اس کا انتظام وہ ادارے چلا رہے ہیں جو شاید ہی بدلے ہوں۔
تیسرا سبق کارکردگی کے بارے میں ہے۔ جب پاکستان میں پانی کے حصص پر بحث ہو رہی ہوتی ہے، میکانگ ممالک اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر مرکوز ہوتے ہیں۔ ویتنام میں چاول کی پیداوار جو 1970 کی دہائی کے وسط میں 0.8 ٹن فی ایکڑ تھی، آج 2.2 ٹن فی ایکڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ کامیابی زیادہ پانی کی دستیابی سے نہیں، بلکہ کسانوں کی تربیت، توسیعی خدمات، پانی بچانے والی ٹیکنالوجی اور کھیت کی سطح پر جدت سے حاصل ہوئی۔ دوسری طرف پاکستان نااہلی اور فرسودہ فصلوں کے انتخاب کے ذریعے پانی کی بڑی مقدار ضائع کر رہا ہے۔ دریائے سندھ سالانہ تقریباً 140 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی لاتا ہے، مگر اس کا نصف حصہ رساؤ (Seepage)، نمکیات، غیر قانونی چوری اور آبپاشی کے ناقص طریقوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
فصلوں کے انتخاب کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صرف گنا سالانہ 18 ایم اے ایف پانی استعمال کرتا ہے حالانکہ اس میں شوگر کا مواد (recovery) بہت کم ہے اور پانی کی پیداواری صلاحیت (Water productivity) دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ چاول کی فصل مزید 14 ایم اے ایف پانی استعمال کرتی ہے، جہاں کسان زرعی ضرورت سے تقریباً دوگنا پانی لگاتے ہیں، جس سے ہر سیزن میں 3.5 ایم اے ایف سے زیادہ پانی ضائع ہوتا ہے۔ پاکستان کے کسان سالانہ تقریباً 50 ایم اے ایف زیرِ زمین پانی پمپ کرتے ہیں، جس کا بڑا حصہ پنجاب میں ہے، جو زمین کے نیچے گویا ایک "دوسرا سندھ” بہہ رہا ہے۔ بالائی سندھ کی تقریباً نصف زرعی زمین سیم اور تھور (Waterlogging & Salinity) سے متاثر ہے، جو پیداواری صلاحیت کو مسلسل کم کر رہی ہے۔ پاکستان صرف چاول کی برآمدات کے ذریعے ہر سال تقریباً 8.1 ایم اے ایف قیمتی "ورچوئل واٹر” (Virtual Water) بھی برآمد کر دیتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے یہ کمزوریاں پیدا نہیں کیں؛ یہ صرف ان میں شدت لا رہی ہے۔ انڈس بیسن میں پانی ختم نہیں ہو رہا، بلکہ اس میں برداشت اور لچک (Resilience) ختم ہو رہی ہے۔
انتہائی شدید مون سون ہمارے کمزور اور پرانے انفراسٹرکچر کو مغلوب کر دیتا ہے۔ خشک سالی زیرِ زمین پانی کے نکالنے میں تیزی لاتی ہے۔ ہیٹ ویوز فصلوں کی پانی کی طلب بڑھا دیتی ہیں۔ نکاسی کے ناقص نظام اور غیر موثر آبپاشی کے تحت سیم اور تھور تیزی سے پھیلتے ہیں۔ مسئلہ دریا نہیں؛ مسئلہ وہ نظام ہے جو اسے چلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اگر پاکستان موسمیاتی عدم استحکام کی آنے والی دہائیوں میں زندہ رہنا چاہتا ہے، تو اسے ایک نئی "گورننس مائنڈ سیٹ” اپنانی ہوگی جو دنیا کے کامیاب ماڈلز سے متاثر ہو۔ اس کی شروعات پورے بیسن میں "رئیل ٹائم شفافیت” سے ہونی چاہیے—ایسی ٹیلی میٹری جو کام کرے، بہاؤ کی خودکار پیمائش، سیٹلائٹ کے ذریعے فصلوں کی مانیٹرنگ، اور اوپن ڈیش بورڈز جو معلومات کو غیر سیاسی بنا دیں۔ کوئی بھی فیڈریشن (وفاق) مشترکہ سچائی (Shared Truth) کے بغیر ایک غیر مستحکم دریا کا انتظام نہیں چلا سکتی۔ اس کے لیے موسمیاتی ردعمل پر مبنی منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے، جہاں پانی کی تقسیم، ذخائر کے آپریشنز اور فصلوں کے فیصلے تاریخی اوسط کی بجائے موسمیاتی پیش گوئیوں کی بنیاد پر ہوں۔ اتنا ہی اہم صوبائی کارکردگی کو پیمائش کے قابل بنانا ہے، تاکہ کارکردگی، پیداوار اور اصولوں کی پاسداری—نہ کہ سیاسی سودے بازی—پانی کے فیصلوں کی بنیاد بنیں۔ پاکستان کو فیصلہ کن طور پر ان زیادہ پانی پینے والی فصلوں سے دور ہونا پڑے گا جن کا بوجھ دریائے سندھ اب مزید نہیں اٹھا سکتا۔
آج کا سندھ 1991 کا سندھ نہیں ہے۔ یہ زیادہ غیر متوقع، زیادہ متلاطم اور زیادہ خطرناک ہے۔ لوئر میکانگ بیسن نے بہت پہلے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ موسمیاتی لچک وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں سیاست ختم ہوتی ہے—یعنی اداروں، ڈیٹا اور کارکردگی کے ساتھ۔ پاکستان کے پاس اب بھی یہ سبق سیکھنے کا وقت ہے، لیکن یہ مہلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
پاکستان کو درپیش انتخاب صوبوں کے درمیان یا ڈیموں اور نہروں کے درمیان نہیں ہے۔ یہ انتخاب "گورننس میں اصلاحات” اور "موسمیاتی تباہی” کے درمیان ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے دریائے سندھ کو بدل دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی اس کے ساتھ خود کو بدل لے۔
محسن لغاری؛(مصنف سابق سینیٹر، رکنِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سابق وزیرِ آبپاشی پنجاب رہ چکے ہیں.