کیا جماعتِ اسلامی نظام بدل سکتی ہے

ہم لاہور میں مینار پاکستان کے سائے میں موجود ہیں۔ جماعتِ اسلامی کا یہ اجتماع تین روزہ ہے۔ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے بلوچستان، خیبر پختون خوا، پنجاب، سندھ، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سے جماعتِ اسلامی کی کم از کم چار نسلیں جمع ہیں۔ کتنی آرزوئیں، کتنی حسرتیں اور کتنے عزائم… پیشانیوں پر چمک، جذبہ اور امید۔

مینار پاکستان کا کئی سو ایکڑ رقبہ نظام بدلنے کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک عادلانہ، باوقار اور کرپشن سے پاک نظام کی جدوجہد کے عزم کے ساتھ بھرا ہوا ہے۔ نوجوان اور بزرگ بار بار “حافظ! حافظ!” کے نعرے لگا رہے ہیں۔

کنونشن کا ایک طائرانہ جائزہ لینے کے بعد پہلا خیال یہی آتا ہے کہ جماعتِ اسلامی اب ڈیجیٹل بھی ہو گئی ہے اور کارپوریٹ بھی۔

ہم تو ان کالموں میں بارہا زور دیتے رہے ہیں کہ قومی سیاسی پارٹیوں کو اپنے ضلعی کنونشن، پھر صوبائی کنونشن منعقد کرنے چاہییں۔ مندوبین باقاعدہ منتخب کیے جائیں جو قومی کنونشن میں شریک ہو کر ملک کے مالی، معاشی، سماجی اور آئینی مسائل پر تجاویز مرتب کریں۔ ایسے کنونشنوں کے ذریعے سیاسی جماعتیں نہ صرف کارکنوں میں ملک گیر بیداری پیدا کر سکتی ہیں، بلکہ انہی کارکنوں کے ذریعے عوام کی اکثریت کی رائے بھی جان سکتی ہیں۔

ملک عوام کا ہے، وہی اس کے مالک ہیں۔ بین الاقوامی معاہدوں میں شرکت ہو یا آئینی ترمیم، فیصلہ عوام ہی کا ہونا چاہیے۔

جماعتِ اسلامی کے اجتماعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کا، سوشل میڈیا کے عروج کے دور کا، اور حافظ نعیم الرحمن کی امارت کا یہ پہلا اجتماع ہے۔ اس لیے یہ اجتماع سابقہ اجتماعات سے مختلف ہونا چاہیے تھا۔ جدید دور کی تمام ٹیکنیکل ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔

ایک طرف اسے “اجتماعِ عام… بدل دو نظام” کہا جا رہا ہے اور دوسری طرف انگریزی میں “General Convention”۔

ہم ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے مینار پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ منظر دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ مینار پاکستان کے اطراف ہر طرح کی گاڑیاں، رکشے، موٹر سائیکلیں، بسیں اور منی بسیں کھڑی ہیں۔ مہنگی گاڑیاں بھی اور عوامی گاڑیاں بھی۔ ہر طرف پوسٹر آویزاں ہیں جن پر حافظ نعیم الرحمن کی تصویر اور “بدل دو نظام” کا نصب العین ہے۔

مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف عمروں کے پاکستانی ایک جذبے اور ایک اقرار کے ساتھ موجود ہیں۔

اسٹیج کئی فٹ بلند ہے۔ سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک عارضی لفٹ بھی۔ روشنیوں کا سیلاب امڈ رہا ہے۔ کارکن واکی ٹاکی لیے سرگرم ہیں۔ مشاعرے کو بھی “انقلابی” مشاعرہ کہا جا رہا ہے۔ پہلے یہ اصطلاح کامریڈ استعمال کرتے تھے، مگر اب اگر تقریروں، بیانات، نغموں اور انتظامات کو دیکھا جائے تو جماعتِ اسلامی واقعی سب سے زیادہ انقلابی پارٹی نظر آتی ہے۔

فیض احمد فیض کے اشعار پہلے بھی استعمال ہوتے تھے، مگر اب جس قسم کے معاشرے کا تصور پیش کیا جا رہا ہے، وہ بہت حد تک جمہوری اور ترقی پسندانہ بھی ہے۔

میں نے الخدمت کے شعیب ہاشمی صاحب سے کہا کہ آج کوئی اور سیاسی پارٹی شعر و ادب سے لگاؤ نہیں رکھتی۔ ایک زمانہ تھا کہ ہر پارٹی کے پاس ایک دو شاعر، افسانہ نگار یا نقاد ضرور ہوتا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اسلم گرداسپوری تھے، مسلم لیگ کنونشن ایوب دور میں مشیر کاظمی، حبیب جالب نیشنل عوامی پارٹی کے جلسوں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے، مسلم لیگ نون کو عرفان صدیقی جیسے شاعر اور نقاد کی سرپرستی حاصل رہی۔ مگر اب جلسوں، جلوسوں اور کنونشنوں میں نہ شعرا کو بلایا جاتا ہے نہ ادیبوں کو۔ جماعتیں نظریات سے خالی اور ذہن دانش سے بے نیاز ہو چکی ہیں۔ اب صرف طاقت ہی شناخت ہے۔

اس اجتماع کے موضوعات بہت اہم ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

سید مودودی اور جماعتِ اسلامی… پھر دوسرا اہم سیشن “بدل دو نظام” تھا، جو ہمارا دیکھا ہوا نہیں، مگر سیاست، عدلیہ، معیشت، صحت، تعلیم اور دیگر زبوں حال شعبوں پر گفتگو ہوئی ہوگی۔
دوسرے روز بلدیاتی نظام، محنت کشوں کے مسائل، زراعت، قراردادِ معیشت کے سیشن تھے۔ خواتین کی کانفرنس الگ۔ ایک سیشن ٹیکنالوجی کے نام۔ ڈیجیٹل پاکستان ایک اہم سیشن۔ اتوار کے روز ایک حساس سیشن تھا جس میں جماعتِ اسلامی کے تمام صوبوں کے امیر اپنے اپنے صوبوں کے مسائل پر بات کریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ کا امیر اور کراچی کا امیر الگ الگ ہیں۔ پنجاب میں شمالی اور جنوبی الگ۔ خیبر پختون خوا میں وسطی، شمالی اور ہزارہ کے الگ۔ اقلیتی ونگ کے رہنما بھی شریک ہیں۔ عالمی منظرنامے پر مشاہد حسین صاحب کا لیکچر بھی رکھا گیا ہے۔

مشاعرہ بھی اسی بلند اسٹیج سے ہو رہا ہے۔ فاصلہ اتنا ہے کہ مشاعرے کے صدر انور مسعود کہہ رہے تھے کہ ایسا لگتا ہے شاعر لاہور میں ہیں اور سامعین شاہدرہ میں۔

انقلابی مشاعرہ ہے، اس لیے زیادہ تر سینئر شاعر اپنا انقلابی کلام ہی سنا رہے ہیں۔ سامعین قابلِ تعریف ہیں کہ صبح سے سیشن سننے کے باوجود تھکے نہیں، مشاعرے میں بھی پوری توجہ سے موجود ہیں۔ انقلابی نظموں اور غزلوں پر دل کھول کر تالیاں بجا رہے ہیں۔

خورشید رضوی، سحر انصاری، انور شعور، حکیم ناصف، شعیب بن عزیز، خالد شریف، سعد اللہ شاہ، احمد حاطف صدیقی، سعود عثمانی سبھی کو خوب داد ملی۔ جماعتِ اسلامی کے اپنے شعرا میں بھی بڑی فصاحت و بلاغت ہے۔ عبدالرحمن مومن کی نظامت نے مشاعرے میں جان ڈال دی ہے۔

اجتماع عام سے نظام واقعی بدلے گا یا نہیں، یہ ابھی کہنا مشکل ہے۔ مگر جماعتِ اسلامی کے کارکن واہگہ سے گوادر تک ضرور بیدار ہو گئے ہیں۔ خواتین اور نوجوانوں کے سیشن علیحدہ تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک جن آئینی پیچیدگیوں، ناانصافیوں اور بڑھتی ہوئی غربت کا شکار ہے، ان کے تدارک کے لیے کیا عملی پیش رفت ہوتی ہے۔ اس کنونشن کے بہترین انتظامات اور خطیر اخراجات سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایسی منظم جماعت ملک بھی چلا سکتی ہے؟

اور کیا پاکستان کے عوام خود کو جماعتِ اسلامی کے ہاتھوں میں محفوظ سمجھیں گے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو اس اجتماع سے آگے کا راستہ متعین کریں گے۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے