جامع مسجد عبداللہ بن عباسؓ ملتان کینٹ، عبادت، علم اور خدمت کا ایسا روشن مرکز ہے جو نبی کریم ﷺ کے دور کی مساجد کی سچی جھلک پیش کرتا ہے۔ اُس زمانے میں مسجدیں صرف نماز کی جگہ نہیں تھیں بلکہ تعلیم، عدل، مشاورت، فلاح اور معاشرتی رہنمائی کا مکمل نظام مسجد ہی سے چلتا تھا۔ ملتان کینٹ کے قلب میں قائم یہ مسجد اسی عظیم روایت کو نئی زندگی دے رہی ہے۔ تین سال قبل قائم ہونے والی یہ مسجد آج ایک فعال کمیونٹی سینٹر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم، علاج، روزگار اور سماجی سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی جاتی ہیں۔
مسجد کی پہلی منزل خواتین اور بچیوں کے لیے مخصوص ہے جہاں ناظرہ اور حفظِ قرآن کی کلاسز منعقد ہوتی ہیں۔ یہاں قرآن کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور دینی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ بازار میں آنے والی خواتین بھی اس منزل پر موجود خواتین کی نماز گاہ میں نماز ادا کرتی ہیں، کچھ دیر آرام کرتی ہیں اور روحانی سکون پاتی ہیں۔دوسری منزل پر مرد حضرات کے لیے وسیع اور خوبصورت نماز ہال موجود ہے جو رات گیارہ بجے تک کھلا رہتا ہے تاکہ ہر آنے والا باآسانی عبادت کر سکے۔
اس مسجد کا سب سے نمایاں پہلو اس کا فلاحی کمیونٹی کچن ہے، جہاں روزانہ دوپہر دو بجے سے چار بجے تک صرف پچاس روپے میں معیاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ خدمت اس انداز میں کی جاتی ہے کہ انسان کی عزتِ نفس برقرار رہے اور ہر شخص بلا جھجھک یہاں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اسی طرح مسجد میں قائم فلاحی فارمیسی بھی کمیونٹی کے لیے بڑی سہولت ہے۔ صرف سو روپے کی معمولی فیس میں چیک اپ اور بنیادی ادویات فراہم کی جاتی ہیں اور شام چھ سے دس بجے تک دو لیڈی ڈاکٹرز لوگوں کا علاج کرتی ہیں۔
مسجد میں شادی ہال کی سہولت بھی موجود ہے جہاں کم اخراجات میں بچیوں کی شادیاں کرائی جاتی ہیں تاکہ لوگ اپنی خوشیاں باعزت طریقے سے منا سکیں۔ مسجد انتظامیہ ہر ماہ بیواؤں اور غریب خاندانوں کو سلائی مشینیں اور ریڑھیاں بھی فراہم کرتی ہے تاکہ وہ مستقل روزگار حاصل کر سکیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ عوام کے لیے صاف پانی کی فراہمی کے لیے مسجد میں فلٹر پلانٹ بھی نصب ہے جس سےروزانہ سینکڑوں افراد مستفید ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مسجد کی جانب سے شجرکاری مہم بھی باقاعدگی سے چلائی جاتی ہے تاکہ ماحول کو صاف، صحت مند اور خوبصورت بنایا جا سکے۔نوجوانوں اور خاندانوں کو درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کی ترغیب دی جاتی ہے، جس سے مسجد نہ صرف سماجی بلکہ ماحولیاتی خدمت کا بھی مرکز بن چکی ہے۔
مسجد کے منتظم شہزاد شیخ کے مطابق "ہمارا مقصد مسجد کو صرف نماز کی جگہ تک محدود رکھنا نہیں بلکہ اسے ایک مکمل کمیونٹی سینٹر بنانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں آنے والا ہر شخص عبادت کے ساتھ تعلیم، مدد، صحت اور عزت بھی پائے۔ یہی ہمارا مشن اور نیت ہے۔یوتھ ایمپاورمنٹ سوسائٹی کے صدر عرفان بٹ اس منصوبے کو ایک ماڈل سوشل سسٹم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ “ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ مسجد جدید دور کی حقیقی ضرورتوں کے مطابق خدمت اور بھلائی کا مرکز بنے۔ اگر ہر مسجد اسی طرح فعال ہو جائے تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ ہم نوجوانوں کو بھی اس مشن کا حصہ بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اصل تبدیلی نوجوانوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔”
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ “لوگوں میں بہترین وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔” جامع مسجد عبداللہ بن عباسؓ اسی فرمان کی عملی تصویر بن کر عبادت، علم، اخلاق اور خدمت کے ذریعے پورے معاشرے میں روشنی بانٹ رہی ہے۔