انسان کے اصل پہچان اخلاق ہے

انسان کی پہچان صرف اس کے علم سے نہیں ہوتی،بلکہ اس کے کردار اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص علم میں بلند ہو مگر اخلاق سے محروم ہو تو وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تعلیم سے زیادہ اخلاق بہتر ہونا چاہیے۔ کیونکہ تعلیم انسان کو ذہانت اور معلومات دیتی ہے، جبکہ اخلاق اسے انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ علم روشنی ہے، مگر جب اس روشنی کا رخ اخلاق کی سمت نہ ہو تو وہ روشنی بھی اندھیرے کا سبب بن سکتی ہے۔

آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں تعلیم کا حصول عام ہو چکا ہے۔اسکول، کالج، یونیورسٹیاں ہر جگہ قائم ہیں اور ہر فرد اپنے بچوں کو جدید تعلیم دلانے کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود معاشرے میں بدعنوانی، جھوٹ، دھوکہ دہی، عدم برداشت، اور بداخلاقی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو تو اہمیت دی، مگر اخلاق کی تربیت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ نتیجتاً ایسے لوگ پیدا ہوئے جو تعلیم یافتہ تو ہیں مگر بااخلاق نہیں۔ جب تعلیم اخلاق کے بغیر ہو تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔

اچھی اخلاق دراصل انسان کے اندر موجود وہ خوبیاں نمایاں کرتے ہیں جو اسے اچھے برے میں فرق کرنا سکھاتی ہیں۔ بااخلاق شخص ہمیشہ نرمی، سچائی، برداشت، ایثار اور انصاف جیسے اصولوں کو اپنا شعار بناتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے روشنی کا مینار ہوتے ہیں۔ان کے وجود سے نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ فائدہ اٹھاتا ہے۔دوسری جانب، اگر کسی شخص کے پاس اعلیٰ ترین ڈگریاں ہوں لیکن اخلاق نہ ہو تو وہ اپنی تعلیم کا غلط استعمال کر کے دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں تعلیم یافتہ افراد نے اپنی ذہانت کو تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔

اسلامی تعلیمات میں بھی اخلاق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں”۔ اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ دین کی بنیاد ہی اخلاق پر ہے۔

عبادات، علم اور دولت اُس وقت تک بے معنی ہیں جب تک انسان میں اخلاق نہ ہو۔ ایک بااخلاق مسلمان نہ صرف اپنے رب کا وفادار ہوتا ہے بلکہ بندوں کے لیے بھی رحمت کا باعث بنتا ہے۔

گھر اور خاندان اخلاقی تربیت کی پہلی درسگاہ ہیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود سچ بولیں، نرمی سے گفتگو کریں، دوسروں کی مدد کریں، اور ایک دوسرے کا احترام کریں تو بچے بھی انہی خوبیات کو اپنی شخصیت کا حصہ بناتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ماحول میں لڑائی جھگڑا، بدتمیزی، بدگمانی یا جھوٹ پایا جائے تو بچے بھی وہی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اخلاق کی بنیاد گھر سے ہی مضبوط کی جائے۔

اساتذہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ استاد محض کتاب کے الفاظ نہیں پڑھاتا بلکہ وہ طلبہ کے ذہن، سوچ اور کردار کو بھی تراشتا ہے۔ ایک باکردار اور بااخلاق استاد اپنے شاگردوں کی زندگی میں انقلاب لا سکتا ہے۔ لیکن اگر استاد صرف تعلیم دے اور اخلاق سکھانے کی کوشش نہ کرے تو تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔ اسی لیے بہترین تعلیمی ادارے وہ ہیں جہاں نصاب کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

معاشرے کی ترقی کا راز بھی اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ ایک بااخلاق قوم انصاف، امن، بھائی چارے اور تعاون جیسے اصولوں پر قائم رہتی ہے۔ وہاں نہ کرپشن ہوتی ہے، نہ ناانصافی، نہ جھگڑے اور نہ ہی انتشار۔ اس کے برعکس اگر قوم تعلیم یافتہ ہو مگر اخلاق سے محروم ہو تو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اس میں حسد، نفرت، لالچ اور خودغرضی جیسے امراض جنم لیتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کتنی ہی قومیں اخلاقی زوال کی وجہ سے تباہ ہو گئیں، چاہے وہ علم و ہنر میں کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ تھیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تعلیم انسان کے لیے ضروری ہے، مگر اخلاق اس سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔ تعلیم انسان کو کامیابی کی راہیں دکھاتی ہے، جبکہ اخلاق اسے کامیابی کو صحیح سمت میں استعمال کرنا سکھاتے ہیں۔ اگر معاشرہ واقعی ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے اسکولوں، گھروں اور اداروں میں اخلاقی تربیت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ کیونکہ ایک بااخلاق انسان ہی حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ کہلانے کا مستحق ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے