آج سے بہت سال پہلے طالب علمی کے دور میں ایک نامور اسکالر کا خطاب سنا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جنرل مشرف نے ہماری جماعت پر پابندی لگا دی ہے، مگر اس پابندی نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم جان سکیں کہ سخت ترین پابندیوں اور دشوار ترین حالات میں دینی و جماعتی کام کیسے جاری رکھا جاتا ہے۔ بعد میں وہ عظیم شخصیت شہید کردی گئی۔
وقت گزرتا گیا، لیکن ان کی بات دل میں نقش رہی۔ آج ان کے الفاظ کا عملی تجربہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے ہمیں بھی خوب ہو رہا ہے۔ عملی زندگی کی بہت سی مشکلات نے ایک ساتھ ہاتھ پکڑ لیا ہے۔ جس زاویے سے بھی اپنا جائزہ لیتا ہوں، ہر طرف مشکلات کا حصار محسوس ہوتا ہے۔ مگر اللہ کا بے حد کرم ہے کہ ان دنوں میں بہت سے چہرے بے نقاب ہوئے، بہت سے احباب جن پر امیدیں باندھی تھیں وہ رفوچکر ہوگئے، اور کئی تلخ تجربات کے ساتھ ساتھ شاندار مشاہدات ہورے ہیں ۔
عجب لطف ہے کہ مشکلات میں جینا کیسے سیکھا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ زندگی دلچسپ انداز میں گزر رہی ہے۔ مشکل میں ایڈجسٹ کرنے کا فن سیکھ لیا ہے اور گھر والے بھی سمجھنے لگے ہیں کہ مشکلات میں بھی جیا جا سکتا ہے بلکہ خوش رہا جاسکتا ہے۔
دراصل انسان کی اصل تربیت آسانیوں میں نہیں بلکہ سختیوں میں ہوتی ہے۔
یہ آزمائشیں اللہ کی طرف سے خصوصی پیکج بھی ہوتی ہیں۔ اللہ دیکھتا ہے کہ انسان ناشکری کرتا ہے یا صبر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں موجود ہے۔
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (ابراہیم: 5)
ترجمہ: اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔
ایک اور جگہ میں اللہ فرماتے ہیں کہ
"إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا” (الشرح: 6)
بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے، اس کا خلاصہ بھی آپ سے شئیر کرنے کو جی چاہ رہا ہے ملاحظہ کیجے۔
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کرتا ہے ، یہ ( بھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمر 2999)
اس حدیث سے ہماری عملی زندگی کے لیے کچھ حکمتیں سمجھ آ رہی ہیں، ان کو سمجھنے اور عمل کرنے سے زندگی آسان ہوجاتی ہے۔
1. مومن کے لیے ہر حال خیر اور بھلا ہے، اس کا کوئی لمحہ ضائع نہیں جاتا، خوشی اور غم دونوں اس کے لیے سود مند ہوتی ہیں۔
2. خوشی پر شکر کرنا اہل ایمان کی نشانی ہے
3. تکلیف پر صبر کرنا خیر اور بھلائی کا دروازہ کھولتا ہے
4. مومن کا رویہ حالات کے تابع نہیں، اللہ پر ایمان کے تابع ہوتا ہے، دنیاوی حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر مومن کا تعلق اللہ سے مضبوط رہتا ہے۔ اسی لیے وہ ٹوٹتا نہیں، بکھرتا نہیں بلکہ مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔
5. مومن کی زندگی میں ناامیدی اور بے صبری و جلد بازی ہوتی کی گنجائش نہیں۔
6. صبر و شکر دونوں کا تعلق دل کی کیفیت سے ہے، صبر زبردستی کی چیز نہیں بلکہ اندرونی قوت ہے، اور شکر زبان کا لفظ نہیں بلکہ دل کا سجدہ ہے۔ یہ دونوں کیفیتیں ایمان کی پختگی کا ثبوت ہیں۔ ان دونوں کے بغیر ایمان نامکمل ہی ہوتا ہے ۔
7. یہ حدیث اسلامی طرزِ زندگی کا جامع اصول ہے، دین اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ زندگی مشکلات و مصائب اور تکالیف سے خالی ہو جائے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ مومن ہر مشکل میں وقار، حوصلے، اعتماد اور خدا پر یقین کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
یہ جاننے اور ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ دنیا خود ایک امتحان گاہ ہے، یہاں آسانی کے موسم بھی ہیں اور سختیوں کی راتیں بھی۔ اللہ تعالیٰ انسان کو کبھی تنگی میں ڈال کر اس کی روح کو چمکاتا ہے اور کبھی وسعت دے کر اس کے شکر کا امتحان لیتا ہے۔ صاحب ایمان کی شان یہی ہے کہ وہ حالات کے تھپیڑوں میں بھی قائم رہتا ہے اور ہر مشکل کو اللہ کی طرف سے تربیت سمجھ کر قبول کرتا ہے۔
آج کی مشکلات کل کے تجربات بن کر رہ جاتی ہیں، اور انسان مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ "یہ دن بھی گزر جائیں گے” اور جب گزریں گے تو یقیناً بہتری، حکمت اور خیر کے دروازے کھلے چھوڑ جائیں گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں کے لیے کبھی کوئی راستہ بند نہیں ہوتا بلکہ کئی راستے کھل جاتے ہیں۔ مجھ ناچیز پر اللہ کا بے تحاشا کرم ہے کہ وہ حوصلہ عطا فرما رہا ہے اور جینے کے نئے انداز بھی سکھلا رہا ہے۔ اور جی بھر کر ہنسنے اور ہنسانے کا موقع تو وافر مقدار میں دے رکھا ہے جس کا مشاہدہ میرے قریبی احباب کو روز ہورہا ہے۔