(“جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو!”)
سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر لمحے اطلاعات اور اقوال کی بھرمار ہے، حقیقت اور گمان کے درمیان تمیز کرنا عام انسان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر دین اور اس کے بڑے ناموں کے حوالے سے جھوٹ یا غلط نسبت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ہر روز لوگ کسی قول کو کسی بڑے نام کے ساتھ جوڑ کر سوشل میڈیا پر پھیلا دیتے ہیں اور وہ جملہ فوراً سچائی کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے میں علمی اور اخلاقی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم تحقیق کریں، مآخذ دیکھیں اور سچ کو سامنے لائیں۔ اسی سلسلے میں ایک جملہ برسوں سے گردش کر رہا ہے:
“جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو!”
یہ جملہ نہ صرف متعدد مقامات اور ویب سائٹس میں غلط نسبت کے ساتھ آیا بلکہ عوامی سطح پر بھی ایسے قبول کیا گیا کہ گویا حضرت علیؓ نے یہ فرمایا ہے۔ تاہم محققین کا موقف واضح ہے کہ یہ قول نہ اہلِ سنت کے مآخذ میں موجود ہے، نہ اہلِ تشیع کے معتبر کتابوں میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔
یہ بات بلاشبہ جذباتی لحاظ سے بعض افراد کے تجربات کی عکاس ہو سکتی ہے، مگر علمی اور شرعی اعتبار سے یہ بے اصل ہےاور قرآن و سنت و تعلیمات نبوی کے بلکل بر خلاف ہے ۔
حضرت علیؓ جیسی بلند پایہ شخصیت کے ساتھ ایسا جملہ منسوب کرنا درست نہیں۔ ان کا مزاج، ان کی تعلیمات، اور ان کے اقوال کا دائرہ اس طرح کی بدگمانی یا خوف پر مبنی نہیں ہے۔ احسان ایک ایسا پاکیزہ عمل ہے جس کی قرآن و سنت میں نہایت تاکید ہے، اور اس کے ذریعے دلوں میں محبت، نرمی اور اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف یہ منسوبہ جملہ انسانی دلوں میں شک و بدگمانی پیدا کرتا ہے، جس سے لوگ احسان کرنے سے خوف کھانے لگتے ہیں، اور نیکی کا راستہ ترک کر دیتے ہیں۔
حضرت علیؓ سے معتبر اور مستند منقول قول یہ ہے:وہ فرماتے ہیں:“أَحْسِنْ إِلَى مَنْ شِئْتَ تَكُنْ أَمِيرَهُ، واستغنِ عمن شئت تكن نظيره”۔
یعنی جس پر چاہو احسان کرو، تم اس کے دل پر اثر انداز ہو جاتے ہو، اور کسی کے ساتھ برائی کے باوجود اپنے عمل سے بلند رہو۔
یہ حکمت واضح کرتی ہے کہ احسان انسان کی ذات کو بلند کرتا ہے اور جس پر احسان کیا جائے وہ دل کی سطح پر نرم ہو جاتا ہے۔ احسان کا نتیجہ ہر صورت میں دل کی نرمی، تعلق کی بہتری اور سماجی اصلاح ہوتا ہے۔ بعض افراد اس عمل کے جواب میں تکلیف یا برا بدلہ دیں، تو یہ ان کی فطرت کی عکاسی ہے، نہ کہ احسان کے عمل کی کمی یا غلطی۔
اس غلط مشہور قول کے برعکس نیکی کی حقیقت یہ ہے کہ احسان کے بدلے کی توقع نہ رکھنا ہی حقیقی حکمت اور اخلاص کی علامت ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:“هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ”(الرحمن: 60)
یعنی احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ نہیں۔
یہ وعدہ اللہ کی طرف سے ہے، انسان کی طرف سے نہیں۔ اسی لیے احسان کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی قدر اللہ کے حضور دیکھے، نہ کہ بندوں کے رویوں کی بنیاد پر خوف یا بدگمانی اختیار کرے۔
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معتبر اور مستند اقوال میں یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے :“إذا أحسَنتَ إلٰى أحدٍ فلا تنتَظر منه جزاءً”
یعنی احسان کرو مگر بدلے کی توقع نہ رکھو۔
یہ تعلیم دلوں کی تربیت اور انسانی تعلقات کے استحکام کے لیے ہے، نہ کہ خوف اور بدگمانی کی تلقین۔ یہ واضح طور پر رہنمائی کرتا ہیکہ احسان کرنے کے بعد اس بات کاخیال و تصور ہی اخلاص کے خلاف ہے بلکہ احسان کرنے کے بعد اسے اللہ کے حوالے کرنے کا نام اخلاص ہے اور اسی کی تربیت اسلام اور پیارے نبی اور مولی علی نے دی ہے۔
سوشل میڈیا پر مشہور شدہ جملہ جذباتی اعتبار سے بعض افراد کے تلخ تجربات کی عکاسی کرتا ہے۔ یقیناً دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو نیکی کے بدلے تکلیف یا شر دے سکتے ہیں۔ یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ درست ہے، لیکن اسے بنیاد بنا کر احسان ترک کرنا، نیکی سے دور ہونا یا اخلاق کو تبدیل کرنا درست نہیں۔ یہ اصول قرآن و سنت کے خلاف ہے اور حضرت علیؓ کی تعلیمات کے بھی برعکس ہے۔
سیرتِ نبویہ بھی اس بات کو واضح کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:“اجازت دو، یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔”لیکن جب وہ اندر آیا تو حضور ﷺ نے اس سے نہایت نرمی اور خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: “یارسول اللہ! آپ نے تو فرمایا تھا کہ یہ شخص برا ہے، پھر اس سے اتنی نرمی کیوں فرمائی؟” حضور ﷺ نے فرمایا:“اے عائشہ! لوگوں میں بدترین وہ شخص ہے جسے لوگ اس کی بدزبانی کے خوف سے چھوڑ دیں۔”(صحیح بخاری)
یہ واقعہ اس غلط مشہور قول کے برعکس واضح کرتا ہے کہ شریر لوگوں کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی، ان کے شر کو کم کرنے اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ احسان، نرمی اور خوش اخلاقی کو ترک کرنا، خوف یا تلخ تجربات کی بنیاد پر درست نہیں۔
احسان کے فلسفے کو صحیح طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ حضرت عائشہؓ کا معمول بھی اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ جب کسی کو صدقہ دیتیں، اگر سامنے والا دعا دیتا تو جواب میں کہتیں:
“ہمارا احسان اللہ کے لیے ہے، دعا کے لیے نہیں۔”(مسلم)
یہ اخلاص کی اعلیٰ مثال ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ نیکی کا اصل معیار صرف اللہ کی رضا ہے، لوگوں کا ردعمل نہیں۔
غلط منسوب اقوال کی اصلاح کی ضرورت بھی اسی اصول پر مبنی ہے۔ علمی اور اخلاقی اعتبار سے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف غلطی کی نشاندہی کریں بلکہ اصل تعلیمات کو عام کریں۔ حضرت علیؓ کے نام سے من گھڑت اقوال کی اشاعت علمی بددیانتی ہے اور فکری گمراہی پیدا کرتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں:
“حکمت کی بات فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن اسے کسی صحابی یا امام کی طرف غلط نسبت کرنا جائز نہیں۔”
یعنی سچائی اور نسبت کی درستگی اخلاق اور دین دونوں کی امانت ہے۔ حضرت علیؓ کی تعلیمات اور اقوال ہمیں اصلاح، احسان، اخلاص، نرمی اور حکمت سکھاتے ہیں۔ یہ ہمیں سچ کے راستے پر قائم رکھتے ہیں اور معاشرتی تعلقات میں عدل و انصاف کا درس دیتے ہیں۔غلط قول کی اصلاح کا اصل مقصد یہی ہے کہ عوام سچائی کو سمجھیں، علمی اور اخلاقی تربیت حاصل کریں، اور احسان کے اصل فلسفے کو جانیں۔ اس سے معاشرہ بھی مضبوط ہوتا ہے اور فرد بھی اللہ کے سامنے سرخرو رہتا ہے۔ شریر شخص اپنی فطرت کے مطابق عمل کرے گا، لیکن نیکی اور احسان سے اس کے شر کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح احسان کبھی ضائع نہیں ہوتا اور انسان اللہ کے ہاں اجر پاتا ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ احسان کرنے والا ہمیشہ بلند مقام پر ہوتا ہے، چاہے لوگوں کا رویہ کیسا بھی ہو۔ درست نسبت، سچائی، اخلاص اور حکمت کے ساتھ عمل کرنے والا انسان حقیقی فلاح حاصل کرتا ہے۔ حضرت علیؓ کی اصل حکمت، ان کی تعلیمات اور سیرت ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ نیکی کا راستہ ترک نہ کیا جائے، تلخ تجربات اور بدلے کے خوف میں مبتلا نہ ہوا جائے، بلکہ احسان، اصلاح اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی طرف منسوب یہ غلط قول صرف فکری گمراہی پیدا کرتا ہے، جبکہ اصل تعلیمات انسان کو نیکی، اصلاح اور حسنِ اخلاق کی طرف لے جاتی ہیں۔ احسان کا اصل معیار اللہ کی رضا ہے، لوگوں کے رویے نہیں۔ علمی اور اخلاقی اصلاح کے بغیر معاشرتی ترقی ممکن نہیں، اور حضرت علیؓ کے نام پر من گھڑت اقوال کی اشاعت اس ترقی میں رکاوٹ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ ہمیں جھوٹے اقوال کی اشاعت اور ترویج سے بچائے اور ہر قول و فعل میں امانت و صداقت عطا فرمائے۔(امین)