یورپ سے فرات تک: سفر شوق کے احوال

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَبا عَبْدِاللهِ وَعَلَى الاَْرْواحِ الَّتي حَلَّتْ بِفِنائِكَ عَلَيْكَ مِنّي سَلامُ اللهِ اَبَداً ما بَقيتُ وَبَقِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهارُ وَلا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنّي لِزِيارَتِكُمْ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَعَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَعَلى اَوْلادِ الْحُسَيْنِ وَعَلى اَصْحابِ الْحُسَيْنِ۔

جزیرہ العرب میں بہت ہی منفرد شخصیات کا ظہور ہوا چھٹی صدی عیسوی میں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول، حضور نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آئے۔ چھ صدیوں تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ پھر آلِ نبی آئے اور ان میں ایک شخصیت، جنہوں نے زمانوں کو حیران کر دیا، وہ ہیں امام حسین ابنِ علی و ابنِ فاطمہ بنتِ رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

مجھے ان سے کب عشق ہوا یہ تو میں نہیں جانتا، مگر کتنا ہوا اس کو محسوس کر سکتا ہوں۔ میں جب بھی امام حسین رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہوں تو ٹھیک ٹھاک حیران ہو جاتا جاتا ہوں۔

ایک بات تو واضح ہے کہ اگر جنت کے سردار کے ساتھ وقت کے ظالم اقتدار اور دنیا اتنا وحشیانہ اور ظالمانہ رویہ رکھ سکتی ہے تو ہمیں بالکل بھی کسی بات کا گلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اور جنت کے جوانوں کی ابدی بادشاہی اور سرداری ویسے تو ملتی نہیں۔ حسین کا جگر چاہیے۔ بغاوت کا عَلم اور شدید زخموں میں لڑنے کا حوصلہ سیکھے تو کوئی حسین ابنِ فاطمہ سَلَامُ اللَّهِ عَلَيْهَا سے سیکھے۔

میرا سر کاٹ دو، نیزے پہ رکھو، کس کو پروا ہے۔
حسینی ہوں، مجھے زخموں میں لڑنا اچھا لگتا ہے۔
تمہیں یزید کی طاقت اور گھمنڈ مبارک ہو،
مجھے عباس کا عَلم پکڑنا اچھا لگتا ہے۔

زندگی کے 38 سال گزرنے کے بعد خیال آیا اور خیال سے پہلے بلایا۔ رختِ سفر باندھا اور چل پڑا کربلا کی جانب۔

اسلام آباد سے کراچی، وہاں سے استنبول، پھر انطالیہ، واپس استنبول چلا آیا۔ استنبول واپسی پر کسی ظالم نے بس میں بیگ چرا لیا۔ بچا فقط پاسپورٹ اور ایک جوڑا کپڑے جو زیبِ تن کیے ہوئے تھے وہ بھی کالے رنگ کے، اور پہنا ہوا واسکٹ اور اس میں کچھ نقدی۔ باقی سب بیگ میں اور بیگ کسی اللہ کے بندے کے ہاتھ میں۔

"بہر حال، انطالیہ سے واپسی پر استنبول میں ایک آدھ جینز کی پینٹ اور کچھ شرٹس لیں اور اگلے دن چل پڑا ویانا، آسٹریا۔ آسٹریا میں رات کو ٹھہرا ہی تھا کہ ایک جٹ دوست کھانے کا ساز و سامان لیے حاضر ہوا اور کہا: "چلو شاہ جی! سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور جرمنی کا سیر کر کے آتے ہیں”۔

میں سید ہوں، بولتا پشتو ہوں اور دوست سارے پنجاب کے۔ حافظ آباد کے دوست کے ساتھ نکلے اور سالزبرگ جیسے علاقوں سے ہوتے ہوئے پتا نہیں کہاں کہاں دریاؤں اور پہاڑوں سے گزرتے گئے۔ کھاتے پیتے رہے، کرکٹ کھیلتے رہے، جہاں دل کیا رُکیں، جہاں من کیا کوچ کیا اور ہزار کلومیٹر سفر کے بعد واپس ویانا، آسٹریا آ کر رُکیں۔

اگلے دن 9 ہزار روپے کی ‘ویز ایئر’ کی ایک بہت مناسب فلائٹ ملی اور 5 گھنٹے کی ڈائریکٹ فلائٹ پکڑی اور یورپ سے اترے دمام، سعودی عربیہ۔ ایک قریبی رشتہ دار نے خوش آمدید کہا اور چائے پلائی اور ساتھ ہی بٹھا دیا ریاض کے لیے بذریعہ ریل گاڑی۔ چار گھنٹے کی مسافت والی اچھی ریل گاڑی۔ اور رات 10 بجے پہنچے ریاض، جہاں ہمارے سادات گھرانے کا ایک پورا ٹبر (خاندان) آباد ہے۔ نسل در نسل ریاض میں معاش کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ کماتے ہیں، عمرہ اور حج کرتے ہیں، ریٹائر ہو کر آتے ہیں اور نئی نسل کو ریاض بھیج دیتے ہیں۔ کفیلوں اور سعودی کَبْسَہ چاول کے بارے میں بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ خاصے کی چیز ہے اس موقع پر بھی لطف اٹھایا۔

ریاض میں ایک اور قریبی رشتہ دار نے سیدھا براستہ طائف 10 گھنٹوں میں مکہ پہنچا دیا۔ سفید لباس پہنے ہم ہوئے طوافوں میں شامل، لَبَّیْکْ کا نعرہ لگایا اور صفا مروہ سے ہوتے ہوئے گزرے۔ بال منڈوائے اور ایک مانسہرہ کے دوست کے ہوٹل میں قیام کیا۔

میں ان کا نام لکھنا پسند کروں گا: ناصر قریشی۔ میں جب بھی گیا ہوں عمرے پہ یا زیارت کے لیے، اُس نے مہمان نوازی کی، رہنے کو جگہ دی، کھانے کو روٹی دی اور جب کبھی محسوس کیا کہ مجھ مسافر کے پاس پیسے نہیں تو کچھ ریال بھی تحفتاً دیے۔

سفر جاری تھا، عمرہ ادا کیا لیکن دل ہی دل میں امام حسین ابنِ علی کی یاد طوفان بنتی جا رہی تھی۔ سوچا امام حسین عَلَيْهِ السَّلَامُ کے لیے عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اور سفر کا رُوٹ بھی وہی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو حسین ابنِ فاطمہ سَلَامُ اللَّهِ عَلَيْهَا کا تھا۔ مگر میں نہیں جانتا تھا کہ امام حسین کے راستے پہ چلنا کتنا مشکل ہے۔ اس سفر میں درد تھا، تھکاوٹ تھی… کچھ بھی آسان نہیں۔

ناصر قریشی نے ایک اور دوست کے ہمراہ جدہ میں رات کا کھانا کھلایا اور ایک سعودی ڈرائیور کے ساتھ چل پڑا مدینہ کی جانب۔ ناصر نے منع بھی کیا کہ سعودی بہت بے احتیاط گاڑی چلاتے ہیں اس کے ساتھ مت جاؤ، مگر جو چلے عشقِ حسین میں تو کیا سعودیوں کی بے احتیاطی اور کیا رات کا اندھیرا۔

سعودی بھائی موٹا بھی تھا اور انتہائی بے احتیاط ڈرائیور بھی۔ ایک ہاتھ میں موبائل پر گیمز کھیل رہا تھا اور دوسرے ہاتھ میں موبائل پر فون پر باتیں، اور زیادہ ڈرائیو پاؤں کے ساتھ اور ہاتھ کی کوہنیوں پر… سپیڈ 180 کلومیٹر کے لگ بھگ… ہم تین پاکستانی بیچارے موت کو حلق میں لیے بیٹھے رہے، کیا کرتے؟ گاڑی کا اسٹیرنگ کسی عربی کے ہاتھ میں۔ زیادہ اموات سعودیوں کی گاڑی کی اوور سپیڈنگ کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں۔ ایک موقع پر اس قدر غلط گاڑی گھمائی کہ میں نے سوچا بس آخری وقت آن پہنچا ہے۔ مگر اللہ نے مدینہ پہنچا دیا۔

اللہ کے نبی کے در پہ حاضری دی اور چونکہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی سفر مدینہ سے ہی شروع کیا تھا اور مکہ کے بعد موجودہ کویت کے راستے کربلا پہنچے تھے، اِس لیے میں نے بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کی۔ کویت کا ویزا نہ مل سکا، لہٰذا میں نے سوچا کہ براستہ مصر، عراق جایا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ قاہرہ میں مسجد حسین ہے۔ ابھی تک علماء کا ایک گروہ یہ سمجھتا ہے کہ امام حسین عَلَيْهِ السَّلَامُ کا سر مبارک مسجد حسین میں ہے۔

اس مسجد کے ساتھ میرا دلی لگاؤ ہے۔ یہاں میں نے جامعہ ازہر کے قیام کے دوران بہت وقت گزارا ہے۔ کسی اور کالم میں یہاں مسجد حسین کے بارے میں تفصیل سے بات کروں گا، اِنْ شَاءَ اللَّهُ۔

بہر حال، حضرت امام حسین عَلَيْهِ السَّلَامُ کا عمرہ مبارک توفیق باللہ سے مکمل کیا۔ طائف سے براستہ قاہرہ، بغداد کے لیے فلائٹ پکڑی۔ رات کو 3 بجے قاہرہ پہنچا۔ سیدھا مسجد حسین کے پاس ہوٹل لیا، وضو کیا اور مسجد حسین میں تہجد اور نمازِ فجر ادا کی۔ سر مبارک والی جگہ حاضری دی، سلام پیش کیا اور صبح کا ناشتہ مسجد کے پاس ایک ڈھابے پہ کیا گیا۔ دن بھر قاہرہ میں گھومتا رہا اور شام 6 بجے کی فلائٹ سے بغداد مَحوِ سفر ہوا۔

بغداد میں اُترنے کے بعد جس ہوٹل میں رات کو قیام کیا، وہاں اونچے لاؤڈ اسپیکرز کے ساتھ موسیقی اور ہلچل سے کوئی خاص خوشی محسوس نہیں کی، بس رات گزرنے کے بعد علی الصبح نکلنے کی ٹھانی۔

دو تین بندوں سے پوچھا کہ یہاں بغداد میں کہاں جایا جائے۔ سب نے کہا: کاظمین شریف۔ پھر کیا؟ ناشتہ کیا، گاڑی میں بیٹھے اور پہنچے کاظمین شریف۔ مگر کاظمین سے پہلے امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ کا مزار آیا۔ ظہر ان کے پاس پڑھی۔ 2 نوافل ادا کیے۔ ان کو دل ہی دل میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اور کاظمین داخل ہوئے۔

امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ کے مزار پہ جتنی خاموشی تھی، کاظمین شریف میں اتنا ہی ہَل چَل، مَلنگوں کا ہجوم، بازار ہی بازار اور ہوٹل پہ ہوٹل۔ ہم نے بھی ایک ہوٹل میں قیام کا سوچا کہ کیوں نہ رات اِدھر ہی گزاری جائے۔ جگہ کاظمین شریف کی جیسے دل کو بھا گئی۔ اور پھر چند دن کے لیے ہم مہمان ہوئے کاظمین شرفین کے۔

کیا خوبصورت منظر! میں نے بہت جگہ اذان سنی ہے، متاثر بھی ہوا ہوں۔ مگر کاظمین، بغداد کے مؤذن نے فجر کی جو اذان دی، وہ آج بھی دل میں اور کانوں میں گونجتی ہے۔ سُبْحَانَ اللَّهِ۔ کیا سوز تھا اس اذان میں! اہلِ تشیع بھائیوں کے ساتھ فجر پڑھی۔ بڑا روح پرور منظر تھا۔ نہ کوئی سُنّی نہ کوئی شِیعہ، بس اہل بیت اور ان کے نواسوں کے ہاں حاضری، خراجِ تحسین، استغفار، تلاوتِ قرآن اور اللہ پاک کی بندگی۔

بغداد کی باقی دو راتیں پہلی رات کی نسبت کیا خوب گزریں اور کیا ہی پُر سکون بھی۔

تو اب شروع ہوتا ہے اصل سفر کربلا کا۔ عراق جنگ سے تباہ حال ہے مگر گاڑیاں اب بھی کافی جدید تھیں۔ اور اسی طرح ایک اچھی نسل کی گاڑی میں سوار ہو کر ہم کربلا چل پڑے۔

لَبَّیْکْ امام حسین کے عَلم اور جھنڈے دیکھ کر عجیب سا خون جوش مارنے والا احساس ہوتا تھا۔ البتہ جب فرات کے دریا کو پار کرتے کرتے کربلا میں داخل ہوا تو احساسات میں عجیب سا ٹھہراؤ اور جُدا گانگی محسوس ہوئی۔

ایک جگہ ہوٹل میں قیام کا سوچا اور قیام کیا لیکن میں تو کربلا کا ہو کر رہ گیا۔ غالباً ظہر کی نماز کربلا میں امام حسین عَلَيْهِ السَّلَامُ کے پاس ادا کی، حاضری دی… لیکن کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا… کبھی مزار شریف کے ایک احاطے میں جاتا، کبھی دوسرے کونے جا کر کھڑا ہوتا… حیران نظروں سے مزار کو دیکھتا۔ اسی اثنا میں غالباً جنوبی پنجاب کا کوئی بھائی آیا۔ اُنہوں نے میرے ہاتھ سے مجھے تھاما اور امام حسین اور امام عباس عَلَيْهِ السَّلَامُ کے درباروں کے راستے اور مقامات سمجھانے لگا۔ جیسے کسی نے اُس بھائی کی ڈیوٹی لگائی ہو میرے لیے۔

"کہتا ہے: "”عباس اور حسین کے قبورِ مبارک میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا صفا اور مروہ کا””۔ وہ بھائی بولتے رہے میں سنتا رہا اور اچانک مجھے وہ ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں پہ غم تمام ہوتا ہے، سانسیں رُک جاتی ہیں، امتحان انتہا کو پہنچتا ہے، اور میرے پاس اِس سے زیادہ الفاظ نہیں۔”

"یہ وہ جگہ تھی جہاں سُرخی (غم) بچھے، جل رہے تھے، غم، درد اور کَرب جو رُوح کو چیر دے، ایسا کچھ محسوس ہونے والا مقام۔ اُس بھائی نے کہا: "”یہ وہ جگہ ہے جہاں امام حسین ابنِ فاطمہ بنتِ رسول کا سرِ مبارک جسمِ اطہر سے جدا کر دیا گیا تھا۔”””

میں نے یہ بات مکمل ہونے سے پہلے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ نہ میں اپنی ماں کی جدائی پر اتنا رویا، نہ اپنے والد کے فوت ہونے پر اتنا رویا۔ نہ کبھی زندگی میں پہلے اتنا رویا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا روؤں گا۔

اللہ کے نبی نے فرمایا: أَنَا مِنْ الْحُسَيْنِ وَ الْحُسَيْنُ مِنِّي (میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہے)۔

ختم شُد

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَبا عَبْدِاللهِ وَعَلَى الاَْرْواحِ الَّتي حَلَّتْ بِفِنائِكَ عَلَيْكَ مِنّي سَلامُ اللهِ اَبَداً ما بَقيتُ وَبَقِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهارُ وَلا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنّي لِزِيارَتِكُمْ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَعَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَعَلى اَوْلادِ الْحُسَيْنِ وَعَلى اَصْحابِ الْحُسَيْنِ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے