شاکر القادری کا سائبانِ نعت

میں قادری بھی ہوں چشتی بھی ہوں بحمداللہ
فروغِ نعت میرا مرکزی حوالہ ہے۔

سیّد شاکر القادری چشتی نظامی کا درج بالا شعر ان کا مکمل تعارف ہے۔کیونکہ جہاں بھی نعت اور فروغِ نعت کی بات چلے گی شاکر القادری کا نام بولے گا۔

سائبانِ نعت بھی ہر کس و نا کس کو کب ملتا ہے۔یہ کرم تو چنیدہ لوگوں پر ہوتا ہے اور جناب شاکرالقادری ان لاکھوں میں ایک ہیں جنھیں چراغِ نعت کو روشن رکھنے کا کام سونپا گیا ہے۔اس چراغ کو مدام روشن رکھنے کے لئے عشق کا ایندھن درکار ہو تا ہے جو وافر مقدار میں شاکرالقادری صاحب کے ہاں موجود ہے۔حسان بن ثابت ؓ،کعب بن زہیرؓ،شرف الدین بوصیریؒ،عبدالرحمن جامیؒ اور غلام علی آزاد بلگرامی کے روشن کردہ چراغِ نعت کی لَوجب اردو ادب تک پہنچی تو اسے امیر مینائی،احمد رضا خان بریلوی،ماہرالقادری،محسن کاکوروی،مظفروارثی،عبدالعزیزخالد،سروسہارنپوری،شیرافضل جعفری،اقبال عظیم،نذرصابری،راجا رشید محمود اور حفیظ تائب نے بجھنے نہ دیا۔متاخرین میں ریاض مجید،اعجاز رحمانی،امین راحت چغتائی،عزیزاحسن،ریاض حسین چودھری،سرورنقشبندی،شہزاد مجددی، ماجدخلیل، حنیف نازش،صبیح رحمانی،عرش ہاشمی،نسیمِ سحر،ڈاکٹرکاشف عرفان،مصور صلاح الدین،بشری فرخ،نورین طلعت عروبہ اور شاکرالقادری نے یہ جوت جگائے رکھی۔

شاکرالقادری نعتیہ ادب کی تخلیق کے ساتھ ساتھ فروغِ نعت کے لئے دیگر اقدامات بھی کرتے نظرآئے جس میں ادبی مجلے”فروغِ نعت“ کا اجرا،اکادمی فروغِ نعت اٹک اورنعت ریسرچ لائبریری اٹک کا قیام شامل ہے۔

سیّد شاکرالقادری چشتی نظامی کا پہلا مجموعہ نعت ”چراغ“ نومبر 2016؁ کو منظرِعام پر آیا توصاحبانِ ذوق نے ان کے جداگانہ اسلوبِ فکرکو نمایاں طور پر محسوس کیا۔

غزل کی ہیئت میں کہے جانے والے نعتیہ اشعار میں فارسیت کے غلبے نے نقادانِ فن کی توجہ حاصل کی اور شاکرالقادری کا نام آسمانِ نعت پر چمکنے لگا۔اس نعتیہ مجموعے کو قومی سیرت ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔نعت گوئی کے ساتھ ساتھ شاکرالقادری نے نعت کی ترویج واشاعت کے لئے اپنی کوششیں تیزتر کردیں۔

شاکرالقادری کے جاری کردہ ادبی مجلے”فروغِ نعت“کی پذیرائی نے ادبی حلقوں میں شاکرالقادری کی نعت کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو سنجیدگی سے محسوس کرنا شروع کیا اوریوں شاکرالقادری کا نام نعت کی ترویج واشاعت کے حوالے سے بھی نمایاں ہوتا چلا گیا۔

2022 میں سیّد شاکرالقادری چشتی نظامی کا دوسرا
مجموعہ حمدونعت ”سائبان“آسمانِ ادب کی زینت بنا جس نے شاکرالقادری کو باقاعدہ نعت گویانِ عالم کی فہرست میں شامل کردیا۔یہاں ایک اور بات بھی واضح کرتا چلوں کہ شاکرالقادری کو فنِ تاریخ گوئی سے بھی گہرا شغف ہے۔وہ حروفِ ابجد سے واقعات کا مادہ تاریخ نکالنے میں مہارت رکھتے ہیں۔اپنے دوسرے مجموعہ حمد ونعت”سائبان“کا انھوں نے مادہ تاریخ اشاعت(ہجری وعیسوی)
کچھ یوں نکالا ہے:
ہے سر پہ میرے تنا سائبانِ نعتِ نبیؐ
1699 + 433= 2023
ہمیشہ سایہ فگن سائبانِ نعت رہے
1445
نعت محبت و عقیدت کے جذبے سے سرشار ہو کر لکھی جاتی ہے اور معاصر نعت گوئی میں یہی روش عام ہے۔اس سرشاری میں شمائلِ نبیؐ پرتو توجہ مرتکز رہتی ہے مگرنعت گویان کے محدود مطالعے کی وجہ سے حضورؐ کی سیرتِ طیبہ کے نمایاں پہلوسامنے لانے سے پہلو تہی برتی جاتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں نعتیہ کلام اکثر میلاد کی محافل میں پڑھنے کے لئے لکھا جاتا ہے جس کے سامعین کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے نعت گویان اپنے کلام میں ادبیت اور علمیت کی بجائے عام فہم زبان کو ترجیح دیتے ہیں۔

دوسری قسم کے نعت گویان کے ہاں محبت وعقیدت کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی اور علمیت کو بھی اس جذبے میں شامل کرلیا جاتا ہے۔اس طرح دو اقسام کی نعتیہ شاعری ہمارے ہاں تخلیق ہو رہی ہے۔ایک وہ جو سادہ اور عام فہم زبان میں ہے اور صرف عوام الناس کے لئے تخلیق ہو رہی ہے۔دوسری وہ شاعری جومؤ قر ادبی جرائد اورخواص کے لئے تخلیق ہورہی ہے اور اس میں ادبیت وعلمیت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔

شاکرالقادری کے لئے بھی یہ آسان راستہ موجود تھا جس میں فلمی گانوں کی طرز پر نعتیں لکھ کر عوام میں مقبولیت حاصل کی جاسکتی تھی کیونکہ جس علاقے یعنی اٹک سے ان کا تعلق ہے وہاں میلاد کی محافل کا اہتمام بہت تواترسے کیا جاتا ہے مگر شاکرالقادری نے اس انبوہ سے الگ ہو کر اپنا نام بنانے کی کوشش کی جس میں وہ صد فی صد کامیاب ہوئے۔

جناب شاکرالقادری چشتی نظامی نے نہ صرف بھیڑ سے الگ ہو کر ایک خاص راستے پر چلنے کو ترجیح دی بلکہ انھوں نے حفیظ تائب کی طرح نعت میں ہیئتی تجربے بھی کئے۔حفیظ تائب نے اپنے دوسرے نعتیہ شعری مجموعے میں قصیدہ،سانیٹ ماہیا اور سی حرفی کے تجربات اس لئے بھی کئے کہ وہ چاہتے تھے کہ حضورؐ کی نعت کے دامن میں ہر قسم کے پھول ہونے چاہئیں۔شاکرالقادری نے دو قدم آگے بڑھ کر اس گلدستے میں کچھ پھولوں کا اضافہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے پہلے نعتیہ مجموعے ”چراغ“میں انھوں نے پنجابی صنف ماہیا کو فارسی زبان میں نعتیہ اظہار کے لئے نہایت خوبصورتی سے برتا۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں۔

بسیار سیہ کارم
با ایں ہمہ عصیان ہاامید کرم دارم
رنجور وجگرخونم
ازدست جدائی ہابسیار دگر گونم
قربان دل وجانم
ازلطف بیاروزی در کلبہ احزانم
شاکرالقادری کی اکثر نعتیں غزل کی ہیئت میں ملتی ہیں لیکن وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ نعتِ نبیؐ ان کے ہاں ہر صنف کے ڈھانچےمیں ڈھل کے آئے:
گدازِ عشقِ نبیؐ سے پگھل کے آتی ہے
ثنائے خواجہ بطحا ، مچل کے آتی ہے
غزل ، قصیدہ ، رباعی پہ ہی نہیں موقوف
ہرایک صنف کے ڈھانچے میں ڈھل کے آتی ہے۔

اردو نعت گوئی میں استغاثے کی روایت بہت پرانی ہے۔اے خاصہ خاصانِ رُسل کی درد بھری فریاد سے شروع ہونے والا سلسلہ ابھی رُکا نہیں۔حفیظ تائب کی معروف نعت ”دے تبسم کی خیرات ماحول کو“ شروع سے لے کر آخر تک ایک مکمل استغاثہ ہے۔

شاکرالقادری کے ہاں بھی یہ روایت پوری شدّت کے ساتھ دیکھنے سننے کو ملتی ہے۔اہلِ درد کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے دل کی باتیں اللہ اور اس
کے محبوبؐ کے سامنے رکھتے ہیں تاہم کبھی کبھار بڑے بڑے شعراء بھی استغاثہ کرتے ہوئے اپنی بات قرینے سے نہیں کہہ پاتے اوراندازِ تخاطب میں حددرجہ احتیاط کے باوجود کہیں نہ کہیں کمی رہ جاتی ہے۔حضوراکرمؐ کو مخاطب کرنے کے قرینے خود قرآن نے بیان کردیئے ہیں اس لئے آپؐ سے مخاطب ہوتے وقت الفاط و معانی کے ساتھ اندازِ بیاں کے لئے قرآنی احکامات کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔شاکر القادری اس امتحان میں اس لئے کامیاب ہیں کہ وہ تخلیقی عمل کے دوران تمام تعظیمی اور تکریمی آداب کو ملحوظِ خاطر رکھ کر شرعی دائرے کےاندر رہتے ہوئے عجز وانکسار کے ساتھ عرض گزار ہوتے ہیں۔ان کے استغاثے کا انداز ملاحظہ ہو:
ستم گروں کی ہے یلغار ، سیّدِ ابرار
اے میرے مونس وغم خوار،سیّدِ ابرار
کرم کرم کہ دلِ ناتواں میں تاب نہیں
ہجومِ غم کی ہے یلغار ، سیّدِ ابرار
مدد مددکہ زبوں حال ہے تری امت
ہے کفر درپئے آزار ، سیّدِ ابرار
۔۔۔

کب ہوگی عنایت کی نظر اے مرے سرورؐ
کب ہوگی شبِ غم کی سحراے مرے سرورؐ
کب شاخِ تمنا پہ مری پھول کھلیں گے
کب ہو گا دعاؤں کا اثر اے مرے سرورؐ
اب آ کہ گلستاں پہ ترے تلخ بہت ہے
یہ سلسلہ شام وسحر اے مرے سرورؐ

معاصر نعت گوئی میں کہیں کہیں مسلکی وابستگی بھی در آئی ہے۔اس طرح نعت کے مضامین میں افراط وتفریط کا سلسلہ بہت عام ہو چکا ہے۔اس سلسلے میں بعض مضامین کو توہمارا ذہین قبول نہیں کرتا اور بسا اوقات ہماری کم علمی بھی آڑے آتی ہے۔ادب کا قاری قرآن وحدیث کا مناسب علم نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ شعر کی خود ساختہ تفہیم کی وجہ سے شعری ذوق رکھنے کے باوجود ایک اچھے شعر سے حظ نہیں اُٹھا پاتا۔شاکرالقادری کا نظریہ شعر اور نعت کے حوالے سے مسلک بالکل واضح ہے۔وہ جذبات کی رو میں بہہ کر توازن اور اعتدال کا دامن نہیں چھوڑتے۔اکثر شعراء بہت سی ضعیف روایتوں اور واقعات کو نعت کا جامہ پہنا دیتے ہیں جن کا سیرت کی کتب میں ذکر تک نہیں ہوتا لیکن شاکرالقادری نے حددرجہ احتیاط کے ساتھ واقعات کو نعت کے سانچے میں ڈھالا ہے جو ان کی
علمیت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ تلمیحات کے استعمال میں بھی ہمیں شاکرالقادری کے ہاں بہت محتاط رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

فرش تا عرش حکومت ہے،شکم پر پتھر
کیسا اندازِ شہی، کیسی شکیبائی ہے
۔۔۔
ہے غار میں صدیق مصاحب شبِ ہجراں
حید ر کا مقدر ترا بستر، مرے سرور
۔۔۔
مقامِ سدرہ ہو،قوسین ہو کہ طوبیٰ ہو
ترے مقام کے آگے فرو مقام تمام

معاصر نعت گوئی کا عمومی لہجہ کسی نئے منظر نامے کی طرف در وا نہیں کرتا۔اکثر نعت گو شعراء کے ہاں روایتی مضامین کی بھرمار ملتی ہے مگر اس کے برعکس شاکرالقادری کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ان کے ہاں ہمیں نعت میں تازہ کاری ملتی ہے۔مضامین میں تنوع اور جدّت کی فراوانی ہے۔جذبہ دل کی ترجمانی کرتے ہوئے آنکھوں سے بہتا محسوس ہوتا ہے اور شاکرالقادری کی یہی انفرادیت ہے جو انھیں معاصر نعت گویان سے الگ اور نمایاں کرتی ہے۔

صورت کوئی نہ عرضِ تمنا کی تھی مگر
رکھا ہے آنسوؤں نے بھرم ، سرخ رُو ہوا
۔۔۔
نظر کے تارکو تیرے کلس سے جوڑے رکھوں
طنابِ خیمہ جاں کو کچھ اور سخت کروں

شاکرالقادری کی نعت گوئی ہمارے نعتیہ ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ان کی نعت میں علمی بصیرت اور ادبی چاشنی ساتھ ساتھ سفر کرتی ہے۔ان کی نعتوں میں غزل کا آہنگ بھی محسوس ہوتا ہے اورچھوٹی بحروں میں غنائیت سے بھرپور نعت گوئی انھیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔اللہ کرے شاکرالقادری اسی طرح چمنِ نعت کی آبیاری کرتے رہیں اور ان کے دامنِ دل میں ہمیشہ فکرِ حسّان کےپھولوں کی فراوانی رہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے