پاکستان: خودمختار، مابعد نوآبادیاتی یا نو نوآبادیاتی؟ ایک ساختی جائزہ

پاکستان، جیسا کہ میں نے ہمیشہ اپنے آئینی و تاریخی مطالعے میں سمجھا ہے، کبھی حقیقی معنوں میں آزاد ریاست نہیں بن سکا۔ اسے جھنڈا، قومی ترانہ، نام اور نقشہ تو مل گیا، مگر ریاست کی اصل بنیاد قوانین، ادارے، انتظامی ڈھانچے، معاشی انحصار، پولیس کا نظام، اور حکمرانی کا ذہن وہی رہا جو برطانوی سامراج نے تشکیل دیا تھا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جو ہنگامی تقسیم میں وجود میں آئی اور جسے ابتدا ہی سے Dominion بنایا گیا، مکمل خودمختار ریپبلک نہیں، وہ اپنی نئی زندگی میں لازمی طور پر نوآبادیاتی ڈھانچہ لیے چلتی۔ مگر پاکستان نے صرف یہ ڈھانچہ نہیں اٹھایا، بلکہ اسے محفوظ رکھا، مضبوط کیا اور اس پر پورا نظام قائم کر لیا۔

میرے نزدیک پاکستان کا Dominion ہونا یعنی بادشاہِ برطانیہ کا قانونی طور پر ریاست کا سربراہ رہنا، گورنر جنرل کا اس کی نمائندگی کرنا، اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالتی اپیل کا لندن کی پرائیوی کونسل تک جانا اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ آزادی مکمل نہ تھی۔ برطانوی نظامِ حکمرانی اور نوآبادیاتی ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔ صرف انگریز افسر کی جگہ پاکستانی افسر آگیا، لیکن نظام وہی رہا جو عوامی خدمت کے لیے نہیں، بلکہ حکم چلانے، قابو رکھنے اور نظم نافذ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

مابعد نوآبادیاتی ریاستیں اپنے قوانین بدلتی ہیں، انتظامی نقشہ نیا بناتی ہیں، اپنی معیشت کو استعماری اثر سے نکالتی ہیں، اور نیا سیاسی کلچر تشکیل دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر تنزانیہ نے نئیرے کے دور میں زمین داری کا پورا نظام بدل دیا، ویت نام نے فرانسیسی نوآبادیات کے بعد اقتصادی ڈھانچہ نئے سرے سے بنایا، اور انڈونیشیا نے ڈچ سرمائے اور اداروں کو قومی کنٹرول میں لے لیا۔ یہ حقیقی مابعد نوآبادیاتی تبدیلیاں تھیں۔ پاکستان نے ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا۔

پاکستان نے برطانوی دور کے قوانین کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ آج تک انہی کو اپنی بنیاد بنا رکھا ہے۔ پولیس ایکٹ 1861، تعزیراتِ پاکستان، زمین داری نظام، تحصیل و ضلع کا انتظامی ڈھانچہ، ایف سی آر جیسے قبائلی قوانین، اور سول و ملٹری بیوروکریسی کا وہی پرانا سلسلہ یہ سب وہ ڈھانچے ہیں جو سامراج نے کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے تیار کیے تھے، شہری ریاست بنانے کے لیے نہیں۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جب ریاست کا ذہن ہی نوآبادیاتی رہے تو آزادی صرف علامت بن جاتی ہے، حقیقت نہیں۔

معاشی سطح پر پاکستان کا نو نوآبادیاتی ہونا سب سے زیادہ واضح ہے۔ آزادی کے فوراً بعد براہِ راست برطانوی حکمرانی تو ختم ہوئی مگر اثرات زیادہ خطرناک شکل میں واپس آئے آئی ایم ایف کے قرضے، عالمی بینک کی شرائط، فوجی اتحاد، امدادی منصوبے، کرنسی کی قیمت کا بیرونی فیصلہ، توانائی کے نرخوں کا عالمی اداروں کے حکم پر تعین یہ سب وہ نشانیاں ہیں جو نو نوآبادیاتی ریاستوں میں پائی جاتی ہیں۔ پاکستان نے SEATO اور CENTO جیسے اتحادوں میں شمولیت اختیار کر کے اپنی عسکری اور خارجی ترجیحات بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں دے دیں۔

پاکستان کی معیشت کبھی اپنی مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہ ہوسکی۔ صنعت بیرونی قرضوں سے چلتی رہی، ٹیکس کا ڈھانچہ کمزور رہا، اور زرمبادلہ کی پالیسی ہمیشہ کسی نہ کسی پروگرام سے بندھی رہی۔ جب میں پاکستان کی آئی ایم ایف سے بار بار کی وابستگی کو دیکھتا ہوں تو صاف نظر آتا ہے کہ فیصلہ سازی مقامی نہیں رہی؛ پارلیمنٹ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی ادارے پالیسی طے کرتے ہیں۔ یہ خودمختاری نہیں، یہ محدود آزادی ہے۔

عسکری میدان میں بھی پاکستان نے پہلے برطانوی نظام لیا، پھر امریکی عسکری امداد و تربیت کا حصہ بنا، اور آج چین اور خلیجی ممالک کے مالی و دفاعی اثرات میں جڑا ہوا ہے۔ دفاعی فیصلے ملکی ضرورت سے زیادہ بیرونی تعلقات کے دائرے میں طے ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال مصر، فلپائن، نائجیریا اور کئی دوسرے ممالک کی رہی، جنہوں نے رسمی آزادی تو حاصل کی مگر عملی فیصلے بیرونی اثر کے تابع رہے۔

پاکستان کا سیاسی کلچر بھی اسی نوآبادیاتی روایت کا تسلسل ہے: مرکزیت، صوبوں کے حقوق کی کمزوری، بیوروکریسی کی بالادستی، پارلیمنٹ کی کمزور حیثیت، اختلافِ رائے کا دب جانا، اور حاشیے پر موجود قومیتوں کے مسائل کا عدم اعتراف یہ سب اسی نظام کا حصہ تھے جو برطانوی دور میں بنایا گیا اور پاکستان نے اسے بغیر کسی بنیادی اصلاح کے جاری رکھا۔ پنجاب کی طاقت کا ارتکاز، سرحدی علاقوں پر خصوصی قوانین اور بلوچستان کا نیم تابع انتظام یہ سب اسی پرانے نقشے کے تسلسل ہیں۔

عدلیہ نے بھی وہی برطانوی قانونی ڈھانچہ برقرار رکھا جس کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ریاستی نظم کا قیام تھا۔ آزادی کے بعد نئے قوانین وضع نہ کیے گئے اور جو نظام ملا اسے حتمی سچ مان لیا گیا۔ جب قانون کی روح ہی نوآبادیاتی ہو تو انصاف کا زاویہ بھی بدلتا نہیں۔

لہٰذا جب میں پاکستان کو تین زاویوں سے دیکھتا ہوں آزاد ریاست، مابعد نوآبادیاتی ریاست یا نو نوآبادیاتی ریاست تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان آزادی کے خانے میں صرف علامتی طور پر فٹ بیٹھتا ہے؛ مابعد نوآبادیاتی تعریف میں ظاہری طور پر؛ مگر نو نوآبادیاتی تعریف میں مکمل طور پر۔

نو نوآبادیاتی ریاست وہ ہوتی ہے جس کے پاس جھنڈا ہو مگر معاشی فیصلے بیرونی ہوں، حکومت ہو مگر دفاعی سمت بیرونی طاقتیں طے کریں، عدالتی و انتظامی نظام ہو مگر سامراجی دور کا ہو، اور آزادی کا اعلان ہو مگر عملی خودمختاری محدود ہو۔ پاکستان انہی تمام نشانیوں پر پورا اترتا ہے۔

جب میں کہتا ہوں کہ پاکستان نو نوآبادیاتی ریاست ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی طاقتیں براہِ راست حکومت چلا رہی ہیں؛ میرا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کا اندرونی نظام نوآبادیاتی ہے، اور بیرونی اثرات جدید دور کے مطابق اسے اسی تابع رکھتے ہیں۔ یعنی انگریز تو چلا گیا، مگر اس کا نظام بھی رہ گیا اور اس کی جگہ عالمی مالیاتی اداروں، فوجی اتحادوں اور دیگر طاقتوں نے لے لی۔

پاکستان آج وہ ملک ہے جس کی آزادی جذباتی اور علامتی ہے، مگر ساختی اور عملی نہیں۔ نظام سامراجی، معیشت تابع، سیاست وراثتی، اور ریاست بیرونی دباؤ کے آگے کمزور۔ حقیقی آزادی کا تقاضا صرف علیحدگی نہیں بلکہ نظام کی ازسرِنو تشکیل ہےاور پاکستان ابھی اس منزل تک نہیں پہنچا۔ میری نظر میں پاکستان ایک ایسی نو نوآبادیاتی ریاست ہے جس میں آزادی کی علامت تو موجود ہے مگر آزادی کا ڈھانچہ ابھی تک تعمیر نہیں ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے