وادیٔ کرم: جنت کی گود سے دوزخ کی آگ تک کا سفر

کرم ایک ایسی سرزمین ہے جہاں فطرت نے اپنی تمام رعنائیاں بکھیر رکھی ہیں۔ نیلگوں آسمان کے نیچے سرسبز وادیاں، پہاڑوں کی چھٹائیں، برف سے ڈھکے قلل، جھرنے اور چشمے، ہوا کی خنکی، دریا کی گنگناہٹ اور رات کی خاموشی یہ سب مل کر کرم کو ایک جنت کی مانند پیش کرتے ہیں۔ یہاں کا ہر منظر دل کو سکون دیتا ہے اور انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی اور ہی دنیا میں ہے۔ مگر اس خوبصورتی کے پیچھے کئی دہائیوں کا درد چھپا ہوا ہے۔سازشیں، دشمنیاں اور نسلوں تک جاری رہنے والی نفرتیں اس وادی کے حسن کو دھندلا کر دیتی ہیں۔

اگر دنیا میں کہیں ایسی سرزمین ہے جہاں فطرت اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو تو وہ ضلع کرم ہے۔ یہاں کے پہاڑ، سرسبز وادیاں، چشمے، جھرنے، موسموں کی خوشبو، دریا کی گنگناہٹ اور راتوں کا سکون ایسا ہے کہ انسان خود کو کسی اور ہی عالم میں محسوس کرتا ہے۔ کرم صرف ایک خطۂ زمین نہیں بلکہ قدرت کا وہ شاہکار ہے جسے دیکھ کر انسان کو جنت کی یاد آتی ہے۔ مگر اس جنت نما خطے کی زندگی کئی دہائیوں سے آزمائشوں میں گرفتار ہے۔ یہاں کے خوشنما مناظر کے پیچھے درد کی طویل تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ نفرتیں، سازشیں، خونریزیاں اور ایسے زخم جنہوں نے نسلیں تباہ کیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس خطے کی جنگیں حقیقت میں شیعہ سنی تنازعہ نہیں۔ صدیوں پہلے یہاں کے رہنے والے نہ شیعہ کی بات کرتے تھے اور نہ سنی کی بلکہ سب اپنے آپ کو ایک ہی تہذیب ایک ہی پشتون بابا کی اولاد سمجهتے تھے۔ آج بھی اگر غور کیا جائے تو مقامی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن ایک تیسری قوت ہمیشہ انھیں مسلکوں ميں تقسیم کرکے فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی لڑائیاں دنوں یا مہینوں کی نہیں بلکہ پوری عمر کی کہانیاں ہیں۔

ضلع کرم کی جغرافیائی حیثیت اسے پورے خطے کا مرکز بناتی ہے۔ یہ وی (V) کی شکل میں افغانستان کے اندر تک جاتا ہے جو پانچ صوبوں اور بارہ افغان اضلاع کے ساتھ جڑتا ہے۔ خرلاچی کا بارڈر کبھی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا مضبوط دروازہ تھا مگر بدلتے حالات، افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور کرم میں جاری مسلکی کشیدگی کے باعث آج یہ دروازہ بھی بند پڑا ہے۔

نومبر 2024 میں کرم میں ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ پارا چنار کا ایک بڑا قافلہ حملے کا شکار ہوا جس میں سو سے زائد بے گناہ افراد شہید ہوئے۔ اس المناک حملے نے پورے ضلع کو ہلا کر رکھ دیا۔ چند دن بعد شرپسند عناصر نے بگن بازار پر یلغار کی، دکانیں جلائیں، املاک برباد ہوئیں اور کئی لوگ اپنی جانوں سے گئے۔ پورے ضلع میں خوف و ہراس پھیل گیا، سڑکیں بند ہو گئیں، روزمرہ زندگی مفلوج ہو گئی اور لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔

ایف ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں کا سروے کر کے متاثرین کی بحالی کا اعلان کیا مگر وعدے آج تک ادھورے ہیں۔ بازاروں کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی جلائے گئے گھروں اور دکانوں کے لیے مکمل تاوان نہیں ملا اور لوگوں کی بنیادی سہولیات بحال نہیں ہو سکیں۔ سماجی کارکن شاہین گل کے مطابق: پورا ضلع امن چاہتا ہے لوگ مزید جنگ نہیں چاہتے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ لوگوں کے نقصانات پورے نہیں کیے گئے نہ بازار مکمل تعمیر ہوا اور نہ متاثرین کو انصاف ملا ہے۔

پاراچنار کے اس قافلے پر ہونے والے حملے میں نوجوان اور جرأت مند صحافی جانان حسین بھی شہید ہوئے۔ شادی کو محض دو سال ہوئے تھے اور وہ اولاد سے بھی محروم تھے لیکن ان کی شہادت نے نہ صرف ان کے گھر والوں کو بلکہ ان سیکڑوں بچوں اور بچیوں کو بھی متاثر کیا جن کی تعلیمی ذمہ داری وہ اپنے سر لئے ہوئے تھے۔

جب میں نے ان کے خاندان سے سينئر صحافی علی افضل افضال کے توسط سے رابطہ کيا تو ان کی بیوہ نے کہا:

نوجوان صحافی جانان حسین کی شہادت ہمارے خاندان کے ساتھ ساتھ پارا چنار کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہوئی کیونکہ وہ نہ صرف ٹرسٹ "درمان شنگاک” کے ذریعے بے سہارا طلبہ کی فیس ادا کرتے تھے بلکہ نوجوانوں کی سوچ بدلنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ نوجوانوں کے ہاتھ سے بندوق چھین کر قلم دینا ہے تاکہ معاشرے کے اندھیروں کو روشنی میں بدلا جا سکے۔ ان کی بیوہ بتاتی ہیں کہ شادی کے وقت ان کی تعلیم میٹرک تک تھی جانان نے انہیں ایف ایس سی تک پڑھایا اور ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا مگر شہادت کے صدمے نے انہیں کے ایم یو کا ٹیسٹ نہ دینے دیا۔ بعد میں اپنوں کی حوصلہ افزائی سے وہ دوبارہ کھڑی ہوئیں ٹیسٹ پاس کیا اور آج پشاور میں زیر تعلیم ہیں تاکہ جانان کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ کيونکہ جانان حسین کا پختہ یقین تھا کہ: اگر ایک لڑکی پڑھے تو وہ پوری نسل کو تعلیم دے سکتی ہے۔ ایک ماں کے پڑھے ہونے سے پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔

ضلع کرم کے سینئر صحافی علی افضل افضال نے صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: نہ اہلِ سنت جنگ چاہتے ہیں نہ اہلِ تشیع۔ دونوں طرف کے لوگ امن کے خواہاں ہیں اور امن معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ وہ مرکزی شاہراہ ہے جو پورے ضلع کی زندگی کی شہ رگ ہے۔ گزشتہ سال اس سڑک پر حملے ہوئے، کانوائے لوٹے گئے، ٹرک جلائے گئے، اور ڈرائیور مارے گئے۔ اب سڑک بند ہے جس سے مریض اسپتال نہیں پہنچ پاتے ادویات نہیں پہنچتیں، خوراک اور سامان کی ترسیل متاثر ہوئی اور کاروبار بھی مکمل طور پر رک گیا ہے۔

علی افضل افضال نے مزید کہا: معمولی تنازعات بھی پرانے زخموں کو تازہ کر دیتے ہیں۔ کبھی زمین پر جھگڑا ہوتا ہے تو کبھی کسی اور معاملے پر۔ پہلے سے ڈالی گئی نفرتیں دوبارہ بھڑک جاتی ہیں۔ کبھی ایک طرف کے لوگ مر جاتے ہیں کبھی دوسری طرف پورا کرم لوئر، سنٹرل اور اپر امن چاہتا ہے۔ ہمیں سب کو مل جل کر رہنا چاہیے اور حکومت کو چاہیئے کہ امن معاہدے کو مضبوط کرے، مرکزی شاہراہ کھولے، شرپسندوں کے ٹھکانے ختم کرے اور لوگوں کو معمول کی زندگی لوٹانے کا موقع دے۔

پاراچنار کے سماجی رہنما اور ماہر تعلیم سر زاہد کے مطابق یہاں کے لوگ ہمیشہ سے امن پسند رہے ہیں اور تعلیم کے ذریعے معاشرے نے اپنی فکری تربیت کو بہتر کیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں کے تعلیمی ادارے معیار میں بڑے شہروں سے کم نہیں۔ چونکہ سرحد افغانستان سے ملتی ہے اس لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کا خطرہ رہتا ہے اسی لیے حکومت کو چاہیے کہ ایسے پراجیکٹس شروع کرے جو دونوں مسالک کو قریب لائیں، کاروبار، صحت اور سماجی تعاون بڑھائیں تاکہ نفرت کی جگہ محبت، دشمنی کی جگہ ہم آہنگی اور جنگ کی جگہ امن پنپ سکے اور کورم واقعی ایک ایسی جنت بن جائے جہاں سب ایک قوم کی طرح ساتھ چلیں۔

مقامی قبائل نے مجهے اپنا مؤقف ديا کہ جب تک بڑی شاہراہ نہیں کھلتی، لوگ پشاور جانے کے لیے مشکل اور طویل راستےخواہ وہ لوئر کورم، سنٹرل کورم یا آپر کرم کے علاقے ہوں استعمال کرنے پر مجبور رہیں گے جس سے سفر بھی دشوار ہوگا وقت ضائع ہوگا اور مریض بروقت اسپتال تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

قبائلی عمائدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ضلع کرم کو جنت نما بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قبائل مل بیٹھ کر اسلحے کی سیاست اور باہمی مسلح جھگڑوں کو ختم کریں کیونکہ اس تنازعے سے ہمیشہ کسی تیسرے فریق کو فائدہ پہنچتا ہے علاقے کو نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی پشتون قوم کے لوگ ہیں جن میں مسلمان بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، ہندو بھی ہیں اور مسلمانوں میں فرقے ضرور موجود ہیں مگر دھرتی سب کی ایک ہے۔ اگر ہم نے بھائی چارہ اپنایا تو کرم جنت نما رہے گا ورنہ یہ خوبصورت سرزمین دوزخ نما ہی رہے گا جس نے نفاق اور جنگوں کی آگ میں اپنا سکون کھو ديا ہے۔

ياد رہے کہ دسمبر 2024 میں کرم میں امن کی کوشش کے لیے ایک جرگہ بھی منعقد ہوا جس میں قبائلی اور سیاسی رہنماؤں نے امن کی بات چیت شروع کی۔ جرگے میں معاہدے طے پائے، جن میں بند راستے کھولنے، مورچے ختم کرنے اور دونوں طرف سے بھاری اسلحہ حکومتی تحویل میں دینے کے وعدے شامل تھے۔ مگر عملی طور پر کئی وعدے پورے نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ضلع کی زندگی ابھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔

مقامی عمائدین سے تاثرات لينے کے بعد جب میں نے ضلع کرم کی امن کمیٹی کے نمائندوں سے رابطہ کیا تو اس بار صورتحال حیران کن طور پر مختلف تھی۔ اہلِ تشيع کی جانب سے سابق سینیٹر سجاد توری اور اہلِ سنت کی جانب سے ڈاکٹر قادر اورکزئی جو پہلے ہر رپورٹنگ اور تجزیاتی سوال پر کھل کر بات کرتے اور جواب ديتے تھے مگر اس بار میرے کسی پیغام کا جواب نہ دے سکے لیکن اس بار معلوم نہ ہو سکا کہ آیا وہ معاہدے پر صحیح عملدرآمد نہیں کرا سکے سرکاری پالیسی پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے یا پھر کسی اور وجہ سے مؤقف دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ حالانکہ میرا سوال صرف یہ تھا کہ حکومت اور قبائل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق بھاری اسلحہ ضبط کرنے مورچے ختم کرنے اور مرکزی شاہراہ کھولنے پر کیا عملی پیش رفت ہوئی ہے۔

کرم کی وادی صرف قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے ہی جنت نظير نہیں بلکہ یہاں کے لوگ ان کی ثقافت، رسم و رواج اور بھائی چارہ بھی اس وادی کی جنتی پہچان ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں جاری حالات نے یہاں کے لوگو کی زندگیوں کو جلا دیا ہے۔ لوگ امن، ترقی، انصاف اور اپنی جنت جنت وادی کی بحالی چاہتے ہیں۔ ریاست پر لازم ہے کہ وہ ان کے زخم بھرے ان کی فریاد سنے اور انہیں اس آگ اور بھوک دونوں سے بچائے تاکہ یہ وادی دوبارہ امن، سکون اور خوشحالی کی علامت بن سکے۔

ضلع کرم چونکہ افغانستان کے بالکل ساتھ واقع ہے اس لیے عالمی طاقتوں کی نظریں ہمیشہ سے اس خطے پر رہی ہیں۔ عالمی قوتیں برسوں پہلے کے منصوبے بناتی ہیں اور کرم کی سرزمین کو مسلکی جنگوں میں گھیر کر یہاں کے لوگوں کو آپس میں لڑانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس علاقے کے وسائل کو لوٹا جائے، اس ضلع پر قبضہ کیا جائے اور اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایسے میں مقامی قبائل کو یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ آپس کی لڑائیوں میں اپنے اس حسین و جمیل علاقے کو کھو تو نہیں رہے؟ یہی وقت ہے کہ وہ دشمن کی چالوں کو سمجھتے ہوئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں اور اپنے گھر، اپنے مستقبل اور اپنی سرزمین کی حفاظت کریں۔ کیونکہ اگر آج بھی ہم نے توجہ نہ دی تو پھر کل یہی کہنا پڑے گا: اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے