کیا چائے کی جائے پیدائش چین ہے ؟

پانی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پیے جانے والا مشروب چائے ہے، چائنا ٹریول ویب گاہ کے مطابق روزانہ 3 ارب چائے کے کپ دنیا بھر میں پیے جاتے ہیں۔ ویسےتو چائے پینے والے افراد کی تعداد چین میں سب سے زیادہ ہے، لیکن اگر فی شخص /فی کپ کا حساب لگایا جائے تو ترکیہ پہلے نمبر پہ جہاں ہر شخص سالانہ سوا 3 کلو گرام یعنی تقریبا 1300 کپ چائے پیتا ہے جبکہ پاکستان اور ایران میں ہر شخص سالانہ ڈیڑھ کلو گرام چائے پیتا ہے۔ نوٹ:  یہاں کلوگرام  کا مطلب چائے کی پتی  ہے نہ کہ مائع چائے۔

گلوبل ٹی آکشن کے مطابق آئرلینڈ دوسرے نمبر پر ہے جہاں فی کس سالانہ 2.36 کلوگرام  چائے پی جاتی ہے، جبکہ برطانیہ تیسرے نمبر پر ہے جہاں یہ مقدار 1.82 کلوگرام  سالانہ ہے۔ پاکستان اور ایران میں ہر شخص سالانہ 1.50 کلوگرام چائے پیتا ہے۔ روس میں یہ مقدار 1.38 کلوگرام فی کس ہے۔ چائے کی مارکیٹ مسلسل پھیل رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق 2021 سے 2028 تک اس کی سالانہ ترقی کی شرح (CAGR) 6.6% رہنے کا امکان ہے۔

دنیا میں مختلف اقسام کی چائے بنائی اور پلائی جاتی ہے، لیکن پاکستان یا بھارتی چائے کا تصور دیگر ممالک سے یکسر مختلف نظر آتا ہے، یعنی ہماری چائے دودھ والی چائے ہوتی ہے اور اگر دودھ نہ ڈالا جائے تو ہم اسکو چائے تصور ہی نہیں کرتے بلکہ قہوہ کہہ دیتے ہیں ، پھر آجکل کڑک چائے، گڑُ والی چائے اور مصالحہ چائے کے چرچے ہیں ، جبکہ کشمیری چائے بھی خاص مواقع پر موجود ہوتی ہے۔جب میں اسلام آباد کی  نمل یونیورسٹی  سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رہا تھا تب کینٹین سے مکس چائے ملتی تھی جس میں کافی کی آمیزش بھی ہوا کرتی تھی۔ سردیوں میں اور بارش کے موسم میں اسکا اپنا ہی مزہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن پاکستانی چائے کی  سب سے خاص بات یہ ہے کہ The Tea is Fantastic اور دنیا میں  ایک کپ چائے کی قیمت ایک مگ 21 کی صورت   کسی اور نےوصول نہیں کی ہے۔ اس وقت بیجنگ میں میرے ساتھ ایک ساوتھ انڈین قیام پذیر ہے جو چائے میں ادرک ڈال کر بناتا ہے ۔  ساوتھ انڈیا یعنی تامل اسٹیٹ جو باقی بھارت سے جدا  ثقافت رکھتاہے۔

لیکن چین ، ایران، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک میں چائے کا استعمال دودھ کے بغیر کیا جاتا ہے۔ میرے ایک ایرانی دوست جو ہماری ساتھ والی بلڈنگ میں قیام پذیر ہیں پانی سے زیادہ چائے پیتے ہیں۔ میں بھی دو دفعہ وہ قہوہ نما چائے نوش کر آیا ہوں جس میں مخصوص قسم کی مٹھاس ڈالی جاتی ہے، ترکش ٹی بھی پی چکا ہیں جو تقریبا ایرانی چائے کے ہی جیسی ہے لیکن ترکیہ کے لوگ اس چائے میں میٹھا استعمال نہیں کرتے۔ اور پھر چین میں ہوتے ہوئے کئی اقسام کی چینی چائے بھی نوش کر چکا ہوں جو اپنے مخصوص ذائقہ میں ایک بہتر چائے ہے لیکن پاکستانیوں کو بتانا ضروری ہے مندرجہ بالا ذکر شدہ تمام چائے ہمارے پاکستانی لحاظ سے قہوہ ہی ہوتے ہیں.

چین میں چائے اور اس کی اقسام

تو چین کی چائے کی بات کرتے ہیں ۔ چین کو چائے کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے، جہاں چائے کی ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے۔ چینی چائے نہ صرف ذائقے اور خوشبو میں منفرد ہے بلکہ اس کے صحت پر بے شمار فوائد بھی ہیں۔ چین میں چائے کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے ہر ایک کی تیاری، ذائقہ اور افادیت مختلف ہوتی ہے۔

قدیم زمانے میں ایک  شہنشاہ "شن نونگ” نے اتفاقیہ طور پر چائے دریافت کی۔ شہنشاہ کا خیال تھا کہ اُبلتا ہوا پانی پینے سے لوگوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس لیے ملازم شن نونگ کے لیے پانی ابالتے تھے۔ ایک دن، جب اس کے ملازم ایک دور دراز علاقے کے سفر کے دوران شہنشاہ کے لیے پانی ابال رہے تھے، تو ایک پتّہ پانی میں گر گیا۔ شہنشاہ  کو پانی اور اس پتے  کی آمیزش سے بننے والا مشروب بہت پسند آیا اور یوں چائے کی پہلی دریافت ہوگی، یہ واقعہ 5 ہزار سال پرانا تصور کیا جاتا ہے۔

چینی چائے کو بنیادی طور پر چھ اہم اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں سبز چائے ، سفید چائے، وولونگ چائے، کالی چائے، فرمیںٹڈ چائے، اور پیلی چائے  اسکے علاوہ علاقائی چائے کی بے شمار قسمیں ہیں اور خوشبودار چائے کے الگ الگ ماخذ بھی ہیں ۔مثال کے طور پر جیسمین چائے  جو موتیے کے پھول کی پتیوں سے تیار کی جاتی ہے اور موتیے کی مہک سے بھرپور ہوتی ہے، گوانگشی میں خاص طور پر جیسمین کی چائے بنائی جاتی ہے اور یہ چائے بھی کم از کم دو طریقوں سے بنائی جاتی ہے جس میں ایک قہوہ نما یعنی بغیر دودھ کے اور دوسری دودھ کیساتھ لیکن اس چائے کا رنگ بھی سفید ہی ہوتا ہے، لیکن ذائقہ اچھا ہوتا ہے۔ سبز چائے (Lǜchá)، چین میں سبز چائے کو سب ے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے تازہ چائے کی پتیوں کو آکسیڈیشن  سے بچا کر تیار کیا جاتا ہے۔

چینی چائے کے انسانی صحت کیلئے فوائد:

چینی ماہرین کے مطابق چینی چائے نہ صرف ذائقے میں بہترین ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی بے شمار ہیں۔ سبز اور سفید چائے میں پولی فینولز اور کیٹیچنز موجود ہیں، جو جسم سے فری ریڈیکلز کو ختم کرتے ہیں۔یہ دل کی صحت کیلئے مفید ہے جبکہ چائے کا باقاعدہ استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔اسکے علاوہ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ہے ۔اولونگ اور سبز چائے میٹابولزم کو تیز کرتی ہیں، جس سے وزن کم ہوتا ہے۔ اگر چائے میں میٹھا یعنی چینی نہ ملا کر پی جائے تو یہ چائے انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے شوگر لیول کنٹرول ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ چائے میں موجود کیفین اور L-theanine دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں اور سفید چائے میں اینٹی وائرل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں۔

چینی چائے دنیا میں کیوں مشہور ہے؟

 چین چائے کی دریافت اور تیاری کا مرکز رہا ہے، جس کی تاریخ 5000 سال پرانی ہے۔ چین میں چائے کی سینکڑوں اقسام موجود ہیں، جو ذائقہ اور خوشبو میں منفرد ہیں۔ چینی چائے کو صرف ایک مشروب نہیں بلکہ دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائے چینی ثقافت کا اہم حصہ ہے، جس کی روایات دیگر ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔چین دنیا کا سب سے بڑا چائے پروڈیوسر ہے اور اس کی چائے یورپ، امریکہ اور ایشیا میں بڑے پیمانے پر برآمد ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے