ہر سال کے اختتام پر انسان ایک لمحے کے لیے رکتا ہے، پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس سفر میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ اس سال بھی زندگی نے ہمیں وہی پرانا سبق یاد دلایا کہ وقت سب سے بڑا استاد ہے۔ کچھ لوگ ملے، کچھ بچھڑ گئے، اور اتار چڑھاؤ پہلے سے زیادہ تھے۔ مگر دل کے کسی کونے میں اگلے سال کی ایک خاموش امید باقی ہے۔ شاید اگر ہم اس سال کا حساب کریں تو دکھ کم اور خوشیاں زیادہ نکلیں۔ ہر دسمبر کی طرح یہ مہینہ بھی یہی احساس دے جاتا ہے کہ وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔
وقت کا کمال یہ ہے کہ جو درد کبھی ناقابلِ برداشت لگتا تھا، وہ آج محض ایک یاد ہے۔ جو لوگ ہمیں چھوڑ گئے، ان کی کمی وقت کے ساتھ ہلکی ہو جاتی ہے۔ وہ راتیں جو آنسوؤں میں ڈوبی تھیں، اب صرف کہانی ہیں۔ تکلیف ختم نہیں ہوتی، مگر انسان بدل جاتا ہے۔ وقت کسی کو بھلاتا نہیں، لیکن جینے کا طریقہ ضرور بدل دیتا ہے۔ یہی وقت ہمیں سکھاتا ہے کہ زخموں پر مرہم لگانے کے لیے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں، بلکہ خود وقت ہی سب سے بڑا مرہم ہے۔
انسان کی فطرت بھی عجیب ہے۔ جو چیز اس کے پاس ہوتی ہے، اس کی قدر نہیں کرتا۔ جو نہیں ہوتی، اسی کی طلب رہتی ہے۔ اور اسی تلاش میں وہ بھول جاتا ہے کہ اصل دولت وہی ہے جو اس کے پاس ہے۔ جب وہ چلی جاتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کمی کہاں تھی۔ حقیقت یہی ہے کہ خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوتیں، لیکن جو لمحہ ہاتھ میں ہے، وہی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ لمحہ موجود کی قدر کرنا ہی اصل حکمت ہے۔ ہم اکثر مستقبل کے خوابوں میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ حال کی خوشبو محسوس نہیں کر پاتے۔
ہم نے محبت ان لوگوں کو بھی دی جو اس کے قابل نہیں تھے۔ بے غرض ہو کر پرواہ کی، اپنا دل تھکا دیا۔ جذبات جب تھک جاتے ہیں تو انسان ہار مان لیتا ہے، مگر سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ راستہ چاہے کتنا ہی لمبا ہو، کبھی بھٹک بھی جائے، مگر لوٹ کر آتا ہے۔ دل سے دی گئی محبت یا سچائی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ایک دن یہی سچائی ہمیں وہ سب واپس دیتی ہے جس کی ہم نے قدر کی تھی۔ محبت کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن یہ سفر ہی انسان کو اصل انسان بناتا ہے۔
اصل خوشی باہر نہیں، اندر سے جنم لیتی ہے۔ جب انسان اپنے آپ کے ساتھ جینا سیکھ لے، اپنے دل پر نرم ہو جائے، تب سمجھ آتا ہے کہ سکون کہاں ہے۔ کوئی رشتہ یا شخص مکمل خوشی کا مالک نہیں ہوتا۔ خوشی کا سرچشمہ ہمیشہ انسان کے اندر ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے دل کو قبول کر لیتے ہیں، اپنی کمزوریوں کو گلے لگا لیتے ہیں، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ سکون دوسروں کی موجودگی سے نہیں بلکہ اپنے اندر کی ہم آہنگی سے آتا ہے۔
آخر میں ایک تلخ حقیقت۔ جب کوئی ہمیں اچھا لگنے لگتا ہے، وہی شخص آہستہ آہستہ دور ہونے لگتا ہے۔ پہلے باتوں میں اپنائیت ہوتی ہے، بے وجہ ہنسی، لمبی گفتگو۔ پھر وہی باتیں کم ہو جاتی ہیں۔ عجیب یہ ہے کہ جن سے ہم جڑ جاتے ہیں، وہی اکثر ہمارے ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں۔ شاید وہ لوگ ہماری دنیا کا حصہ بننے نہیں آئے ہوتے، بس ہمیں کچھ سکھانے آتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ تعلقات ہمیشہ دائمی نہیں ہوتے، لیکن ان سے حاصل ہونے والا سبق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
زندگی کا سفر ایک طویل شاہراہ کی طرح ہے۔ اس پر چلتے ہوئے ہم مختلف مناظر دیکھتے ہیں، کچھ خوشنما، کچھ اداس۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ چلتے ہیں، کچھ راستے میں چھوڑ جاتے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اس سفر سے کیا سیکھا۔ ہر ملاقات ایک سبق ہے، ہر جدائی ایک نصیحت۔ جو لوگ ہمیں چھوڑ گئے، وہ ہمیں یہ سکھا گئے کہ کسی پر مکمل انحصار نہ کیا جائے۔ جو لوگ ہمارے ساتھ رہے، وہ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ محبت اور وفا اب بھی دنیا میں موجود ہیں۔
وقت ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں ہر چیز عارضی ہے۔ خوشی بھی، غم بھی، رشتے بھی، حالات بھی۔ جو چیز مستقل ہے، وہ ہمارا رویہ ہے۔ اگر ہم نے صبر اور شکر کو اپنا لیا تو ہر حال میں سکون ملے گا۔ اگر ہم نے ناشکری اور بے صبری کو اپنایا تو ہر خوشی بھی بوجھ لگے گی۔ یہی وقت کا اصل سبق ہے۔
انسان کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے۔ مگر اصل دولت وہی ہے جو لمحہ موجود میں ہے۔ ہم اکثر ماضی کے غم اور مستقبل کے خوف میں اتنے الجھ جاتے ہیں کہ حال کی خوشی کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ زندگی کا اصل حسن اسی لمحے میں ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ محبت اور سچائی وہ دو قوتیں ہیں جو کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔ چاہے دنیا ہمیں دھوکہ دے، چاہے لوگ ہمیں چھوڑ جائیں، مگر دل سے دی گئی محبت اور سچائی ایک دن لوٹ کر آتی ہے۔ وہ ہمیں وہ سکون دیتی ہے جس کی تلاش میں ہم دنیا بھر میں بھٹکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سفر سے کیا سیکھا۔ اگر ہم نے ہر جدائی سے صبر سیکھا، ہر ملاقات سے شکر سیکھا، اور ہر لمحے سے محبت سیکھ لی، تو یہی زندگی کا اصل سبق ہے۔ وقت کا مرہم ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے، اور اس سفر میں اصل دولت وہی ہے جو ہم نے سیکھا۔