(ریڈیو پاکستان……. خصوصی نشریہ)
یہ ریڈیو پاکستان ہے…
اور میں ہوں امیرجان حقانی،
آج کے پروگرام میں ہم گفتگو کر رہے ہیں ایک ایسے موضوع پر جس کی جڑیں ہمارے آئین میں بھی ہیں اور ہمارے دین میں بھی… یعنی
"پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی آئینی بنیادیں اور سماجی عمل”
سامعین ذی وقار!
پاکستان… ایک ایسی سرزمین جس کی بنیاد ہی ایک سوچ ایک نظریے اور ایک فکر پر رکھی گئی۔ ایک ایسی اسلامی ریاست جہاں ایمان، انصاف اور مساوات کو زندگی کا مرکز بنانا تھا۔ یہ ملک صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک امانت ہے ایک وعدہ، جو انسانیت کے احترام سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان ایک کثیر المذاہب اور کثیرالثقافتی معاشرہ ہے، جہاں مسلمان، عیسائی، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ایک ہی سرزمین پر رہتے ہیں۔
ہمارا آئین، تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل، اس کی تبلیغ اور اس کی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ یہ محض ایک قانونی شق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقیات کا اعلان ہے۔
اگر ہم قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیں تو ہمیں انسانیت، حلم، نرمی اور عدل کا درس ملتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں.
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی اور نرمی کی بات کرو (البقرہ: 83)
ایک اور مقام پر ارشاد خدا وندی ہے
"لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ”
ترجمہ : اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ( الممتحنہ: 8)
یہ آیات واضح کر دیتی ہیں کہ اسلام کا پیغام نفرت نہیں، بلکہ محبت، انصاف اور امن ہے۔
یہ تعلیم ہمیں انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے، محبت کے پل بنانے کا حکم دیتی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی سیرت بھی بین المذاہب احترام کی روشن مثال ہے۔ میثاقِ مدینہ ہو یا نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ ، ہر جگہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا پورا خیال رکھا گیا۔ یہاں تک کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد کیا
"جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا، اس کے حق میں کمی کی، یا اس سے اس کی رضا کے بغیر کچھ لیا، قیامت کے دن میں خود اس کے خلاف کھڑا ہوں گا۔”
یہ الفاظ ایک ایسا ضابطۂ اخلاق ہیں جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے، آج بعض مواقع پر ہم عدم برداشت، تعصب اور نفرت کو اپنے رویّوں میں جگہ دیتے جا رہے ہیں۔ یہ رجحانات نہ صرف ہمارے آئین کے خلاف ہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور قومی یکجہتی کے بھی منافی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم، میڈیا، دینی اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے کلچر کو فروغ دیں۔ ہمیں نفرت کے بجائے ہم آہنگی اور بگاڑ کے بجائے اتحاد کا راستہ اپنانا ہوگا۔
پیغامِ پاکستان اور تشکیل پاکستان ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ریاست کی بنیاد امن، رواداری اور باہمی احترام پر رکھی جائے۔
سامعین محترم
بین المذاہب ہم آہنگی کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک مضبوط قوم کی پہچان ہے۔یہ ہمارے دین کی روح بھی ہے، ہمارے آئین کا تقاضا بھی، اور ہمارے مستقبل کی ضمانت بھی۔
یہ تھا ریڈیو پاکستان کا آج کا خصوصی نشریہ اور امیرجان حقانی کا پیغام یعنی
” آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں سے نفرت، تعصب اور تنگ نظری کے اندھیرے مٹا کر محبت، رواداری اور انصاف کے چراغ روشن کریں۔ یہی پاکستان کے آئین کی روح ہے اور یہی ہمارے دین کی اصل تعلیم بھی۔ آئیں! ہم عہد کریں کہ ہم اپنے ہم وطنوں کے مذہب، عقیدے اور سوچ کا احترام کریں گے، ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کریں گے کہ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ مختلف عقائد، رنگوں اور ثقافتوں کے باوجود ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو باہمی محبت اور امن سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس پیغام کو اپنالیں تو یقیناً ایک پُرامن، مضبوط اور روشن پاکستان ہمارا مقدر ہوگا۔
انہی الفاظ کیساتھ مجھے اجازت دیجیے…
اللہ حافظ.