مہر سعید سے دبئی میں کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں، دوسروں کی بالنسبت یہ بندہ کچھ اچھا نظر آیا تھا، پہلے البراحہ جیسے بدنام ایریا میں اپنے ارباب کی ایک بلڈنگ میں رہتا تھا لیکن اب ارباب نے نسبتاً بہتر جگہ اسے رہائش فراہم کر دی تھی، دہلی دربار ہوٹل کے باہر وہ ایک پاکستانی کے ہمراہ میرا منتظر تھا، ٹیکسی والے کا حساب چکتا کرکے ان سے ملا اور ریسٹورنٹ میں داخل ہوگئے، تشریف رکھنے کے بعد اس نے دوسرے بندے کا تعارف کروایا، "مہر ندیم فرام سرگودھا.” اور کھانے کا پوچھا، میں سفر کے دوران بھاری کھانے سے پرہیز ہی کرتا ہوں، ویٹر نے مکس سبزی بتائی، اسے وہ لانے کا آرڈر دیا، کھانا آنے تک گفتگو شروع ہوئی، مہر سعید بولا "میں نے اپنی ایک کمپنی بنائی ہے، میرے پاس سات ویزے ہیں، آپ کا بہت تعلق واسطہ ہے، میں ویزے فروخت کرنا چاہتا ہوں، مجھے کسٹمر تلاش کرکے دیں.” میں نے ویزوں کی نوعیت پوچھی تو اس نے بتایا "فری لانس ویزے.”
دبئی میں بننے والی کمپنیاں، ان کے کام کی نوعیت اور فری لانس ویزوں کی اندرونی حقیقت سے مجھے بخوبی آگاہی تھی، یہ کمپنیاں فقط کاغذات پر بنتی ہیں جبکہ گراؤنڈ پر ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا، اے فور سائز کے پیپر پر کمپنی کا نام لکھ کر پرنٹ نکالو، کمرے کے باہر دروازے پر چسپاں کرو، کسی بھی دفتر کے اندر موجود فرنیچر کی تصویریں بناؤ، لو جی کمپنی بنانے کا آدھا مرحلہ طے ہو چکا ہے، دبئی میں خود دیکھا تھا کہ ہر مہینے دفتر کے باہر نئے نام کا پرنٹ چسپاں ہوتا تھا، یہ بوگس کمپنیاں فقط ویزے فروخت کرتی ہیں، کام ان کے پاس نہیں ہوتا، ان کا مطلوب و مقصود فقط پیسہ بنانا ہوتا ہے، غریب بندہ اچھے مستقبل کے سپنے آنکھوں میں سجائے ان سے ویزہ خرید کر جب دبئی آتا ہے، اسے تب حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ آٹھ سے دس ہزار درہم کا ویزہ، رہائش و روٹی کا خرچہ علیحدہ، برائے حصول ایمریٹس آئی ڈی کارڈ میڈیکل کروانے کیلئے آن لائن اپائنٹمنٹ کی سرکاری فیس اور انتظار، ارجنٹ اپائنمنٹ کی فیس زیادہ، میڈیکل پاس کرنے کے بعد دوبارہ وزارت داخلہ کی آن لائن اپائنٹمنٹ برائے فنگر پرنٹس، اور طویل انتظار جو کم و بیش ایک مہینے پر محیط ہوتا ہے، بہرحال یہ فیسیں ادا کرنی پڑتی ہے، اگر جلدی ہے تو ایمریٹس آئی ڈی بنانے والے دفاتر کے باہر ایجنٹ حضرات سے رابطہ کرو، انہیں پانچ سو درہم ادا کرو، اسی دن فنگر پرنٹس کا مرحہ طے ہو جائے گا ، پہلے اسی دن پاسپورٹ پر سٹیکر ویزہ چسپاں ہو جاتا تھا، اب اماراتی گورنمنٹ نے سٹیکر ویزہ ختم کرکے آن لائن ویزہ کر دیا ہے، فنگر پرنٹ کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر پوسٹ آفس سے ایمریٹس آئی ڈی کارڈ مل جاتا ہے، یعنی میڈیکل سے لیکر یہاں تک ایک ہزار درہم کا خرچہ پکا ہے.
جب کمپنی سے کام کا پوچھو تو وہ صاف معذرت کر دیتے ہیں "اجی ہم نے آپ کو مطلع کرکے فری لانس ویزہ فراہم کیا تھا، ہمارا معاہدہ فقط یہاں تک تھا، آپ کو دو سال کا ایمریٹس آئی ڈی کارڈ مل چکا ہے، آپ خود کام تلاش کرو.” یہ تصویر کا وہ بھیانک رخ ہے جو دبئی میں بہت مرتبہ دیکھا اور ہر جگہ دیکھا، مختصر الفاظ میں فری لانس ویزہ فراڈ کا دوسرا نام ہے.
اب اس سے بھی آگے ایک کہانی ہے، کچھ کمپنیاں چاہے وہ بوگس ہوں، اپنی پہلی رجسٹریشن فائل مکمل کرلیتی ہیں، جس میں ٹریڈ سرٹیفکیٹ اور عقد ایجار یعنی دفتر کا کرایہ نامہ اصل ہوتا ہے، ایک قدم آگے بڑھ کر کسی کرنسی ایکسچینج میں رجسٹریشن کروا لیتیں اور ہر مہینے بوگس طریقے سے اپنے نام نہاد ورکرز کی تنخواہیں ان کے اکاؤنٹ میں ڈالتی رہتی ہیں، اسے ڈبیلو پی ایس سسٹم بولتے ہیں، ایک ورکر کی ایک ماہانہ تنخواہ کے بدلے کرنسی ایکسچینج کو 7 سے 10 درہم ادا کرتی ہیں، قصہ مختصر ایسا منظر نامہ پیش کیا جاتا ہے کہ کمپنی ٹھیک کام کر رہی ہے اور اپنے ورکرز کو تنخواہیں بھی ہر مہینے ادا کر رہی ہے.
چند سال پہلے امارات بالخصوص دبئی میں کریڈٹ کارڈ فراڈ کا بہت شور و غوغا بلند ہوا تھا، بہت سے پاکستانیوں نے اماراتی بنکوں سے کریڈٹ کارڈ بنوائے، بطور کریڈٹ ملنے والا پیسہ خرچ کیا اور رقم واپس کئے بغیر امارات چھوڑ گئے، نتیجہ کئی بنکوں نے پاکستانیوں کو کریڈٹ کارڈ دینا بند کر دیا، کریڈٹ مارکیٹ میں رہنے والے افراد نے اس کا بھی توڑ نکالا، اگر کریڈٹ کارڈ لینے کے خواہشمند کی ایمریٹس آئی ڈی پر معقول پروفیشن اور تنخواہ پانچ ہزار درہم سے زیادہ لیکن دس ہزار درہم سے کم ہو، کم از کم تین تنخواہیں چاہے ڈبلیو پی ایس سسٹم کے ذریعے ادا ہوئی ہوں، ہاتھ میں بینک ٹیبلٹ لیکر گلی گلی گھومنے والے بنک کے نمائندے موقع پر ہی ایسے فرد کا ڈیٹا آن لائن چیک کرتے، موقع پر ہی آن لائن فارم فل کیا جاتا اور موقع پر ہی اپروول کا میسج موبائل پر آ جاتا، اگر تنخواہ دس ہزار درہم سے زیادہ ہوتی تو کیس بنک کی مین برانچ کے پاس چلا جاتا جو فارم پر لکھے گئے لینڈ لائن نمبر پر فون کرکے کوائف کی تصدیق کرتا، اس کا بھی حل نکالا گیا، پہلے یہ نمائندے دو ہزار درہم یا تین ہزار درہم فی کیس لیتے تھے لیکن بعد میں کیسز بڑھنے کی بلند شرح باعث ففٹی ففٹی پر معاملہ طے پاتا تھا، مزے کی بات یہ کہ اگر پروفیشن غیر مناسب اور تنخواہ کم ہوتی تو معمولی سا خرچہ کرکے دونوں کا حل موجود تھا.
کئی بیچارے اچھے مستقبل کی آس میں پہلے ان بوگس کمپنیوں کا نشانہ بنے، پھر جیب خالی ہونے اور مستقل کام نہ ملنے باعث کریڈٹ کارڈ کی طرف راغب ہوئے، جس کی تین تنخواہیں ڈبلیو پی ایس ہو چکی ہوتیں وہ دو عدد کریڈٹ کارڈ دو مختلف بنکوں سے لے سکتا تھا، جس کے عوض بینک ٹیبلٹ نمائندے کو ففٹی ففٹی ادا کرنا پڑتا تھا، اگر اس کی فیس ادا نہیں کر سکتے تو وہ خواہسمند کی ایمریٹس آئی ڈی بطور ضمانت اپنے پاس رکھ لیتا، جب کریڈٹ کارڈ پوسٹ آفس یا کوریئر آفس پہنچتا تو خود ساتھ جا کر وصول کرتا، کریڈٹ کارڈ سے شاپنگ کرتا ،دکاندار کو کریڈٹ کارڈ استعمال کے عوض اس کا کمیشن دیتا، اور پھر کریڈٹ کارڈ اس بندے کو دیتا، یعنی ایک بندے نے اگر تیس ہزار درہم کا کریڈٹ کارڈ نکلوایا تو اسے پندرہ ہزار درہم ملتے، بروقت قسطیں ادا نہ کرنے باعث بنک کا قرضہ وصول کرنے والا ڈیپارٹمنٹ کاروائی کرتا، کئی کیسز میں اس بندے کا بیرون ملک ٹریول بند کروایا گیا، کئی افراد ٹریول بند ہونے سے پہلے امارات چھوڑ گئے اور جو غلطی سے واپس آئے، ان کو امیگریشن والے ایئرپورٹ پر دھر لیتے تھے، کچھ افراد جو مڈل ایسٹ کے دوسرے ممالک کی طرف نکل گئے، بعد میں بنکوں نے انہیں تلاش کیا اور سود در سود ان سے وصول کرکے جان چھوڑی، میں بذات خود کئی ایسے افراد دیکھے جو انگوٹھا چھاپ تھے لیکن ایمریٹس آئی ڈی پر ان کا پروفیشن مینجر لیول اور تنخواہ بھی اچھی خاصی، ایسے افراد اپنی معصومیت باعث ان لوگوں کا آسان شکار بنتے تھے، یہ اماراتی حکومت کی غیر ملکیوں کو فراہم کردہ سہولت تھی جس کا ان کریڈٹ کارڈ والوں نے بہت غلط فائدہ اٹھایا اور ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بنے.