ایک امانت ڈاکٹر وردہ کی جان لے گئی

ایبٹ آباد کی نوجوان ڈاکٹر وردہ مشتاق کے قتل نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس کی مبینہ طور پر روایتی مجرمانہ سست تفتیش کے باعث ایک اور بے گناہ زندگی ضائع ہو گئی۔ شہر میں احتجاج جاری ہے اور شہری ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چار دسمبر کی دوپہر ڈاکٹر وردہ ڈی ایچ کیو ہسپتال ایبٹ آباد سے ڈیوٹی کے بعد باہر نکلیں۔ اسی شام سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی قریبی دوست ردا کی گاڑی میں بیٹھ رہی ہیں۔ اس کے بعد ان کا کوئی اتا پتا نہ رہا۔

رات گئے ڈاکٹر وردہ کے والد نے پولیس کو رپورٹ درج کرانے کی درخواست دی اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ تاہم پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے باوجود ڈاکٹر وردہ کی دوست ردا سے بروقت اور جامع تفتیش نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے کے پہلے دو دن پولیس روایتی سست روی کا شکار رہی اور کیس کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا۔

صورتحال میں اس وقت تیزی آئی جب سوشل میڈیا پر عوامی رد عمل بڑھا اور ایبٹ آباد شہر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ شہریوں کے دباؤ کے بعد پولیس نے ڈاکٹر وردہ کی دوست ردا کو حراست میں لیا اور سختی سے تفتیش شروع کی۔ ردا کے شوہر اور ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ردا اور اس کے خاندان نے ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر وردہ نے کچھ عرصہ قبل بیرون ملک جانے کی تیاری کے دوران اپنے زیورات ردا کے پاس رکھوائے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ انہی زیورات کے تنازع نے یہ افسوسناک واقعہ جنم دیا۔

ملزمان کی نشاندہی پر تھنڈیانی روڈ کے علاقے لڑی بنوٹہ کے جنگل سے ڈاکٹر وردہ کی لاش برآمد ہوئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

ایبٹ آباد شہر میں اس وقت فضا سوگوار ہے۔ شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور پولیس کے تاخیر سے رد عمل پر شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے شروع سے سنجیدہ اور فوری کارروائی کی ہوتی تو ڈاکٹر وردہ کی جان شاید بچائی جا سکتی تھی۔

ڈاکٹر وردہ کے اہل خانہ نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے اور پولیس کی مجرمانہ غفلت کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے