ہم پانی کی قلت کے شکار کیوں ہیں؟

بظاہر بھرے ڈیم اور پھر بھی پانی کی کمی ، یہی تضاد پاکستان کے حقیقی آبی بحران کو بے نقاب کرتا ہے

کئی برس کی خشک سالی کے بعد 2025 کی مون سون فراوانی لے کر آئی۔ پاکستان کے بڑے آبی ذخائر بھر گئے۔ خریف کے آغاز پر تربیلا، منگلا اور چشمہ تقریباً اپنی پوری گنجائش کے قریب تھے۔

اس کے باوجود انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) نے ربیع سیزن کے لیے 8٪ پانی کی کمی کا اعلان کیا۔ یہ تضاد ، بھرے ہوئے آبی ذخائر اور پھر بھی قلت — پاکستان کے حقیقی آبی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ مسئلہ پانی کی کمی نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ یہ بحران درحقیقت حکمرانی کا بحران ہے، ہائیڈرولوجی کا نہیں، اور اس کی جڑ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ اکورڈ کے ادھورے نفاذ میں ہے۔

جب چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے 34 سال پہلے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے تو وہ پاکستان کے لیے پانی کی طویل المدت سلامتی کی قومی حکمتِ عملی بنا رہے تھے۔ اس دستاویز نے انڈس بیسن کے انتظام کے لیے چھ باہم جڑے ہوئے اصول طے کیے: منصفانہ الاٹمنٹس، اضافی پانی کی منصفانہ تقسیم، ذخائر کی تعمیر، ماحولیاتی تحفظ، صوبائی خودمختاری، اور آپریشنل نظم و ضبط۔ معاہدہ تیار کرنے والوں کو احساس تھا کہ دریا تو کم زیادہ ہوتے رہیں گے، لیکن ادارے پیشگی معلوم قواعد اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے استحکام لا سکتے ہیں۔

شق 2 میں صوبوں کے حصے مقرر کیے گئے۔ شق 4 میں اضافی (سرپلس) پانی کی تقسیم کا طریقہ وضع کیا گیا۔ شق 6 میں نئے آبی ذخائر کی لازمی تعمیر کا تقاضا کیا گیا۔ شق 7 نے سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی بہاؤ کی اہمیت تسلیم کی۔ شق 8 تا 12 نے صوبوں کو اپنی سطح پر پانی کے وسائل ترقی دینے کی آزادی دی۔ اور شق 14 (ج) نے آبپاشی کو اولین آپریشنل ترجیح قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ “موجودہ ذخائر کو صوبوں کی آبپاشی کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے چلایا جائے گا”۔ یعنی خوراک کو بجلی پیدا کرنے سے پہلے ترجیح ملنی تھی۔

مگر برسوں میں ہوا یہ کہ شق 2، یعنی الاٹمنٹ کا ٹیبل، تو مستقل سیاسی بحث اور بین الصوبائی کشیدگی کا مرکز بن گیا، لیکن باقی شقیں تقریباً نظر انداز ہو گئیں۔ تربیلا کے بعد کوئی بڑا ذخیرہ نہیں بنا اور مجموعی اسٹوریج کی صلاحیت تقریباً 20 ایم اے ایف (ملین ایکڑ فٹ) سے گھٹ کر تقریباً 13.5 ایم اے ایف رہ گئی ہے۔ اضافی ذخائر کے بغیر سیلابی اضافی پانی نہ تو محفوظ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی معاہدے کے مطابق بانٹا جا سکتا ہے۔ یوں شق 4، جو فراوانی کو نظم دینے کے لیے تھی، عملاً غیر فعال ہے۔

شق 7 کے تحت ڈیلٹا کے لیے کیے گئے وعدے کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ کوٹری کے نیچے بہاؤ گزشتہ صدی کے اواخر میں لگ بھگ 50 ایم اے ایف سے کم ہو کر آج 20 ایم اے ایف سے بھی کم رہ گئے ہیں، اور وہ بھی زیادہ تر خریف میں۔ ربیع کے زیادہ حصے میں کوٹری کے نیچے انڈس تقریباً خشک رہتا ہے۔ سمندری کھارا پانی مینگروز اور زرعی اراضی میں در آتا ہے، ماہی گیر بستیاں اجڑتی ہیں اور جنوبی ایشیا کے ایک اہم ماحولیاتی نظام کو بنجر میدان میں بدل دیا جاتا ہے۔

شق 14 (ج)، یعنی آبپاشی کو ترجیح دینے کی ضمانت، کا حال بھی مختلف نہیں۔ تربیلا کے ٹنل اور آؤٹ لیٹس زیادہ تر ہائیڈرو پاور کے شیڈول کے مطابق چلتے ہیں۔ ٹنلوں پر جاری بڑے کاموں کے باعث ڈیم کی مکمل گنجائش سے فائدہ اٹھانا بھی ممکن نہیں رہتا، چاہے ڈیم بھرا ہوا ہو۔ 2024–25 میں تربیلا کے لو لیول آؤٹ لیٹس پر پابندیوں نے IRSA کے لیے گہرے ذخائر تک رسائی محدود کر دی۔ گزشتہ سال بھی اسی نوعیت کی آپریشنل رکاوٹوں نے 16–18٪ اندازاً قلت کو کسانوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ سخت صورت میں محسوس کرایا، اور یہی رجحان دوبارہ ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ ڈیم بھرے رہتے ہیں مگر نہروں کے آخری سِروں پر کسان پانی کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ براہِ راست معاہدے کے منشا کے خلاف ہے۔ جب آبپاشی کی ترجیح الٹ جائے تو خوراک کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے۔

ربیع میں بظاہر 8٪ کمی معمولی لگ سکتی ہے، لیکن اس کے اثرات سنگین ہیں۔ اسی موسم میں بویا جانے والا گندم 25 کروڑ پاکستانیوں کا پیٹ بھرتی ہے۔ بوائی کے وقت آبپاشی میں کمی کا مطلب مہینوں بعد کم پیداوار، زیادہ قیمتیں اور خوراک کی مزید تنگ دستی ہے۔ نظام تکنیکی طور پر ایسی صورتحال سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اسے اس انداز سے چلایا نہیں جا رہا۔ بھرے ڈیم فراوانی کی علامت کم اور بدانتظامی پر پردہ زیادہ بن گئے ہیں۔

پاکستان پانی کی مطلق قلت کا شکار نہیں، یہ کمزور حکمرانی اور ناقص عملدرآمد کا شکار ہے۔ 1991 کا اکورڈ ایک جامع فریم ورک تھا جو اگر اس کی روح کے مطابق نافذ ہوتا تو مختلف تقاضوں میں توازن قائم رکھ سکتا، سیلاب اور خشک سالی کے چکر کو نرم کر سکتا تھا۔ معاہدے نے صوبوں کو نمایاں خودمختاری دی تھی: پنجاب اور خیبر پختونخوا 5,000 ایکڑ تک کے چھوٹے ڈیم وفاقی منظوری کے بغیر بنا سکتے تھے؛ بلوچستان کو دائیں کنارے کے علاقوں میں خودمختار ترقی کا اختیار دیا گیا؛ اور صوبوں کو یہ موقع ملا کہ وہ نہر نظام کو پختہ آبپاشی، جدید نہری لائننگ اور پریسیژن اریگیشن کے ذریعے اپنے حصے کے پانی کو زیادہ دور تک کھینچ کر لے جائیں۔

لیکن یہ آزادی بڑی حد تک غیر استعمال شدہ رہی۔ صوبائی حکومتوں نے زیادہ زور اس بات پر رکھا کہ نظام سے مزید پانی لیا جائے، بجائے اس کے کہ جس وسائل کو وہ خود اپنی سطح پر بہتر بنا سکتی تھیں، انہیں مکمل طور پر استعمال کرتیں۔ ان میں سے کسی ایک میکانزم کو بھی منظم انداز میں، اکٹھا فعال نہیں کیا گیا۔ یوں پورا نظام عملی ترقیاتی ڈھانچے کے بغیر صرف کاغذی الاٹمنٹس تک محدود ہو کر رہ گیا۔

یہی منظر ہر سال دہرایا جاتا ہے۔ مون سون کے سیلاب ڈیم بھر دیتے ہیں، مگر اس پانی کا بڑا حصہ استعمال ہوئے بغیر سمندر میں جا گرتا ہے۔ سردیوں تک دریا کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے اور نظام قلت کا اعلان کر دیتا ہے۔ ہر چکر صوبوں کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کرتا اور وفاقی ہم آہنگی پر سے بھروسہ مزید کم کر دیتا ہے۔ معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ بحران کے بجائے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ یہ ہمیں “پانی کم ہے” سے “حکمرانی کمزور ہے” کے بیانیے کی طرف لے جانے کا راستہ دکھاتا تھا — اور حکمرانی کو درست کیا جا سکتا ہے۔

اب اکورڈ کی روح کے مطابق عملدرآمد کے لیے انجینئرنگ سے زیادہ سیاسی عزم درکار ہے۔ فریم ورک پہلے سے موجود ہے، ضرورت صرف اس پر عمل کی ہے۔ کونسل آف کامن انٹریسٹس کو چاہیے کہ شق 14 (ج) کے تحت آبپاشی کی ترجیح کی دوبارہ توثیق کرے اور IRSA کو واپڈا کے ریزروائر آپریشن پر مؤثر اوور سائٹ دے، تاکہ الاٹمنٹ کے اختیار اور پانی چھوڑنے کے کنٹرول کے درمیان موجود disconnect ختم ہو۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ سلٹ سے کم ہوتی ہوئی اسٹوریج بحال کرنے کے لیے نئے ذخائر کے منصوبوں کو تیز کریں۔ کوٹری کے نیچے ماحولیاتی بہاؤ بحال کیے جائیں۔ صوبائی آبپاشی کے محکمے اپنے حصے کے اندر رہتے ہوئے چھوٹے ڈیموں، نہری نظام کی جدیدکاری اور مؤثر آبپاشی پر سرمایہ کاری کریں۔ آمد اور اخراج کے حقیقی وقت (real-time) ڈیٹا کو عوام کے لیے دستیاب بنایا جائے تاکہ شفافیت، بدگمانی کی جگہ لے سکے۔

اس سال کی مون سون نے پاکستان کو ایک موقع دیا ہے۔ قدرت نے اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے ڈیم بھر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکمرانی بھی اپنا حصہ ڈالے گی۔ اگر اس اکورڈ کو زندہ، متحرک فریم ورک سمجھ کر نافذ کیا گیا تو یہ ربیع سیزن ایک نئے موڑ کی علامت بن سکتا ہے۔ پچھلے تین عشروں کا تجربہ بتاتا ہے کہ پاکستان کا اصل چیلنج دریا میں بہتے پانی کی مقدار نہیں، اس کے نظم و نسق کا معیار ہے۔ یہ معاہدہ آج بھی اس لیے قائم ہے کہ یہ اتفاقِ رائے پر بنایا گیا تھا۔ اب اسی اتفاقِ رائے کو اس کے نفاذ کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔

اگر پاکستان نے اکورڈ کو اس کی اصل صورت میں آپریشنل کر لیا تو سیلابی سال طویل المدت استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو بھرے ہوئے آبی ذخائر ایک بار پھر خالی نہروں میں بدل جائیں گے، اور ملک کو ایک مرتبہ پھر یہ تلخ سبق دہرانا پڑے گا کہ اس کی اصل کمی پانی کی نہیں، حکمرانی کی ہے۔

مصنف سابق وزیرِ آبپاشی و خزانہ پنجاب ہیں اور پاکستان کی صوبائی و وفاقی مقننہ میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے