ڈاکٹر وردہ ۔۔ ایک ماں، ایک مسیحا اور انصاف کا سوال

ایبٹ آباد کی پرسکون گلیوں میں رہنے والی ڈاکٹر وردہ دو معصوم بچوں کی ماں تھیں۔ ایک ماہر ڈاکٹر، ایک محنتی خاتون، اور سب سے بڑھ کر ایک شفیق ماں۔ جس معاشرے کی خدمت کے لیے وہ دن رات مصروف رہیں، اسی معاشرے نے انہیں ایک ایسی بے رحمی سے رُخصت ہوتے دیکھا کہ دل دہل جاتا ہے۔

ایبٹ آباد کی خاموش وادیاں آج ایک ایسا سوال پوچھ رہی ہیں جس کا جواب پورا معاشرہ دینے سے قاصر ہے:

کیا ایک ماں کا خون بھی اس ملک میں سستا ہے؟

ڈاکٹر وردہ کو چند روز پہلے اغوا کیا گیا، اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ آج جب ان کی لاش ملی تو ایسا لگا جیسے صرف ایک بدن نہیں، ایک پورا خواب دفن ہوا ہو۔ ان کے بچوں کا مستقبل ماں کے پیار سے محروم، اور ایک پورا خاندان سوال بن کر رہ گیا ہے کہ آخر ان کا جرم کیا تھا؟

تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر وردہ نے اپنے قیمتی طلائی زیورات، جن کی مالیت تقریباً تین کروڑ روپے بتائی جاتی ہے، اپنی قریبی دوست ردا جدون کے پاس امانت کے طور پر رکھوائے تھے۔لیکن وہی اعتماد ان کے قتل کا سبب بن گیا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسی بااعتماد دوست نے مبینہ طور پر منشیات فروشوں کے گروہ کے ساتھ مل کر انہیں راستے سے ہٹانے کی سازش کی۔ مقصد صرف زیورات پر قبضہ تھا… ایک ماں کی جان کے بدلے تین کروڑ روپے!

یہ سفاکی ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب لالچ ضمیر پر غالب آجائے، تو انسانیت مر جاتی ہے۔

”بلا کلاتھ“ ۔۔ نام بھی بااثر، کردار بھی؟

اس کیس کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملزمہ کا تعلق ’’بلا کلاتھ‘‘ والے بااثر خاندان سے بتایا جا رہا ہے۔ ایسے خاندان جن کا پیسہ، اثر و رسوخ اور سیاسی روابط اکثر قاتلوں کو بھی ہیرو بنا دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے:

کیا ہمارا نظام اتنا مضبوط ہے کہ بااثر مجرموں کا ہاتھ روک سکے؟

یا پھر یہاں بھی وہی ہو گا جو ہمیشہ ہوتا ہے؟
پیسہ چلے گا، سفارشیں چلیں گی، اور ڈاکٹر وردہ کے گھر والے عدالتوں کے چکر لگاتے رہ جائیں گے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

اگر شواہد ثابت ہو جائیں تو ملزمان کو انتہائی سخت سزائیں ہو سکتی ہیں:

1.قتلِ عمد (302 پی پی سی) سزائے موت یا عمر قید

2.اغواء برائے تاوان/قتل (7 اے ٹی اے) عمر قید سے سزائے موت

3.منصوبہ بندی، سہولت کاری ۔۔ شریکِ جرم کو بھی وہی سزا

لیکن اصل سوال قانون کی سختی نہیں، قانون کے نفاذ کی کمزوری ہے۔

ہمارا ماضی چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ پاکستان میں طاقتور مجرموں کا دامن اکثر صاف ہو جاتا ہے۔

گواہ غائب کر دیے جاتے ہیں، پولیس کمزور پڑ جاتی ہے، اور عدالتوں کے سامنے شکوک کے پہاڑ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔

کیا یہاں بھی وہی ہو گا؟
کیا بلا کلاتھ کا اثر و رسوخ اس خون کو بھی دھو دے گا؟
یا اس بار ریاست ایک مثال قائم کرے گی؟

یہ کیس صرف ڈاکٹر وردہ کا نہیں۔
یہ ہر پاکستانی ماں، بہن، اور بیٹی کا کیس ہے۔
یہ معاشرتی اعتماد پر حملہ ہے۔
یہ دوستی، بھروسے اور انسانی حرمت کا قتل ہے۔

اگر ایسے مجرم چھوٹ گئے، تو معاشرہ ایک بار پھر اندھیروں میں دھکیل دیا جائے گا۔

ڈاکٹر وردہ کی آنکھیں بند ہو چکیں، لیکن سوال ابھی زندہ ہے:

"کیا یہاں عام انسان کا خون کبھی محفوظ ہو پائے گا؟”

اگر ریاست نے اس بار بھی خاموشی اختیار کی،اگر قانون نے طاقتوروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے،تو یقین مانیں،ہماری آنے والی نسلیں ’’انصاف‘‘ کا لفظ صرف کتابوں میں پڑھیں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے