یہ 2025 ہے۔ ہم جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور بیداری کے دور میں جی رہے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ آج بھی لوگ پراسرار طور پر لاپتہ ہو جاتے ہیں اور اکثر کبھی واپس نہیں آتے۔ ایسا ہی ایک نام سید جنید شاہ کا بھی ہے۔
نکہ پنجول (مانسہرہ) کا یہ نوجوان گزشتہ جمعرات اسلام آباد سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوا، اور آج تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں۔ نہ کوئی خبر، نہ کوئی سراغ۔ گھر والے بے بسی میں تڑپ رہے ہیں، دوست پریشان ہیں، اور سوشل میڈیا پر ایک مدھم سی آواز سنائی دیتی ہے،مگر کیا اتنا کافی ہے؟
کیا ہمیں ایک اور ڈاکٹر وردہ مشتاق جیسے المیے کا انتظار ہے، جنہیں اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا؟ کیا ہم کسی کی لاش ملنے تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟
جنید شاہ کا معاملہ محض ایک فرد کی گمشدگی نہیں یہ ہمارے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔
ہم کب تک ایسے سانحات کو صرف "خبریں” سمجھ کر نظرانداز کرتے رہیں گے؟
کب تک صرف مظلوم خاندان ہی فریاد کرتا رہے گا اور ہم تماشائی بنے رہیں گے؟
اگر ہم نے اب بھی آواز نہ اٹھائی، اگر ہم نے یہ خاموشی نہ توڑی، تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے گھر کی دہلیز پر بھی دستک دے سکتی ہے۔
وقت ہے کہ ہم جنید شاہ کی آواز بنیں اور اسے گھر واپس لائیں۔