اُس دن شِفا ہسپتال میں ڈاکٹر کا وہ جُملہ نہیں تھا بلکہ ایک زور کا جھٹکا تھا یا جیسے کسی نے دھکا مار کر پیچھے ہٹا دیا ہو۔
یا یوں کہہ لیں کہ الفاظ نہیں تھے، گولہ و بارود تھے۔
جُملہ کچھ یوں تھا:
"آپ کی والدہ کو معدے کا کینسر ہے”
وہ بھی گریڈ 4 کا۔
میں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ میری عادت تھی 26 سال تک والدہ کی گود میں سر رکھ کر پورے سکون سے سو جاتا۔
یوں سمجھئے کہ میں تو گوتَم بُدھا تھا، جو والدہ کی گود میں پلا بڑھا تھا۔ وہی میرا محل تھا، جیسے بُدھا کو بادشاہ نے یہ خبر نہیں ہونے دی کہ باہر کے غم بھی ہوتے ہیں یا کوئی مر بھی جاتا ہے۔ اسی طرح مجھے نہیں پتا تھا کہ کوئی فوت بھی ہوتا ہے، اور اگر کوئی فوت ہو بھی جاتا تو اتنی فکر نہ رہتی۔
لیکن ڈاکٹر صاحبہ کے اُس جُملے نے تو میرے بُدھا کو باہر لا کھڑا کیا اور یہ احساس دلایا کہ لوگ واقعی فوت بھی ہو جاتے ہیں۔
اور میری بدقسمتی کہ یہ احساس مجھے میری والدہ کی صورت میں مِلا۔
گوگل کیا، پتا چلا کہ گریڈ 4 تو آخری اسٹیج ہوتا ہے، اور اب جب یہ خبر ملی تو والدہ صاحبہ کی پہلے ہی سرجری ہو چکی تھی۔
مجھے تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ بار بار گوگل کرتا جاتا، کینسر کو پڑھتا جاتا۔ غم کے پہاڑ ٹوٹتے رہتے، کڑھتا رہتا اور والدہ کو، جس کو "بِی بی” کے نام سے بُلاتا تھا، خود سے لمبے سفر پر جاتے ہوئے محسوس کرتا۔
اُن کو کہتا، بی بی سر پر ہاتھ رکھنا۔ وہ سر پر ہاتھ رکھتیں اور میرے دل سے اللہ اللہ کی آواز نکلنا شروع ہو جاتی۔ پھر کیا تھا، وہ 4 مہینے جو بی بی نے کینسر کی اذیت میں گزارے، میں صبح، دوپہر، شام ہر وقت اُن کے ساتھ ہوتا۔ اپنوں کو تکلیف میں دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے اور پھر ماں کو، یہ تو ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔
حدیث کی کتابوں میں ایک روایت مِلتی ہے!
«لو أدركت والدي أو أحدهما وأنا في صلاة العشاء وقد قرأت فيها بفاتحة الكتاب، تنادي: يا محمد! لأجبتها: لبيك»
"اگر مَیں نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو پایا ہوتا، اور مَیں عشاء کی نماز میں مشغول رہتے ہوئے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر چکا ہوتا، اس دوران پکارا جاتا کہ اے محمد! تو مَیں نماز توڑ کر لَبَّیک کہتا ہوا حاضر ہو جاتا”۔
یہ 2014 کے دِن تھے۔ جُون میں سرجری ہوئی اور نومبر میں والدہ صاحبہ، میری بی بی، اِس دنیا سے رحلت فرما کر خالقِ حقیقی سے جا مِلیں۔ مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرماتیں: "بیٹا! فرض نماز دُنیا کے سامنے پڑھنا اور نوافل دُنیا سے چھپ کر۔ بیٹا! کچھ بھی ہو جائے، نماز مت چھوڑنا”۔
نصبُ العین بن گیا ہے۔ سب کچھ ہے مگر اُن کا وہ کہنا: "قربان میرے بیٹے!”… قربان کا لفظ وہ جس شائستگی سے کہتیں، وہ سننے کے لیے کان ترس گئے ہیں۔ اب بس قیامت کا انتظار ہے جب سب قبروں سے اُٹھیں گے تو میں سب سے پہلے اپنی بی بی کو مِلوں گا، اِن شاء اللہ۔
انسان اپنے اَخلاق سے جانا جاتا ہے، اور یہی خوبی میری والدہ صاحبہ کی شخصیت کا سب سے خوبصورت صفت تھی۔ وہ کہتیں: "بیٹا! اِس دنیا میں ہر شخص کو خود سے بہتر جانو۔ کبھی غرور مت کرنا۔ بیٹا! تم میری بات کو غور سے سنتے ہو… نصیحت سنتے ہو؟ اللہ تمہیں آسمان کے کناروں پر لے کر جائے مگر کبھی مُسافر نہ بنائے”۔ رمضان کا مہینہ آتا تو بہت خوش ہوتیں اور رمضان ختم ہوتا تو آنکھیں نم ہو جاتیں۔
ایک اِنتہائی شفیق اور رحمدل اِنسان۔ محلے کی سب خواتین صبح صبح آتیں، بی بی کے ساتھ بیٹھ جاتیں… بی بی اُن کو نصیحتیں کرتیں، اسلامی تعلیمات دیتیں۔ ہمارے گاؤں کا نام کُمبر ہے، اس نسبت سے وہ کُمبر بی بی کے نام سے جانی جاتی تھیں۔
وفات نامہ سنتیں یا سناتیں تو بے اختیار روتیں۔ بسا اوقات بُزرگانِ دین، اَولیاء کرام اور حضرات حسنین کریمیں کے لیے، اللہ کی رضا کے لیے، چاول اور شِیرینی وغیرہ اہتمام سے تقسیم کرتیں۔ پھر کہتیں: "اللہ اِن کو وفات شدگان کے لیے صدقہ اور زندہ لوگوں کے لیے حِفاظت کا وسیلہ بنائے۔”
مجھے کہتیں: "بیٹا! اپنے دل میں تمہارے لیے ایک کمرہ بناؤں گی، جس میں پھول رکھ کر تم کو رکھوں گی”۔ آخری دِنوں میں، مَیں انہیں کہتا: "بی بی! رحیم کے دل میں کیا ہے؟” وہ کہتیں: "رحیم کے دل میں بی بی بستی ہے۔ "آج بھی اُن کی قبر پہ جاتا ہوں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی والدہ ماجدہ کی قبر پہ حاضری یاد آتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اِحرام کی حالت میں تھے، والدہ کی قبر پر گئے تو زار و قطار روئے اور وِہیں رات کا قیام کیا۔ اتنے روئے کہ اَصحاب بھی ساتھ میں رو پڑے۔
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ
("حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے اور آپ کے اِرد گرد موجود لوگ بھی رونے لگے۔”)
میں نہیں مانتا کہ اِنسان کا جسمِ خاکی چند فٹ خاک میں نیچے دب جائے اور اُس کا کششِ ثِقل زمین کے اُوپر زندہ شخص محسوس نہ کرے۔ آج بھی والدہ کی قبر پر جا کر اُسی طرح لیٹ جاتا ہوں جس طرح وہ زِندہ تھیں اور اُن کے شانے پہ سر رکھ کر سو جاتا تھا۔ اُوپر مٹی ہے مگر نیچے جَسَدِ خاکی تو بی بی کا ہے۔ یہ مٹی اور ریت کا ڈھیر میرے اور بی بی کے درمیان کشش کو کبھی ختم نہیں کر سکتا۔ پہلے اُن سے زمین کے اُوپر تعلق اور رِشتہ تھا، اب زمین کے نیچے ہے میرے احساس میں کوئی فرق نہیں آیا۔
اللہ اُن کا آخری سفر آسان فرمائے۔
گاؤں سے تعلق رکھنے والی ان کی ایک دوست فرماتی ہیں: "جب آپ کی والدہ فوت ہوئیں تو میں نے خواب دیکھا… ایک جنازہ آیا اور اُس کو فرشتے آسمان پر لے گئے”۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ کے نیک لوگ اللہ ہی کے پاس جاتے ہیں۔
ہم پشتو میں کہتے ہیں: "ماں تو کسی دُشمن کی بھی نہ مَرے”۔ ماں کے بغیر زِندگی سخت بے کیف بن کر رہ جاتی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: "سب سے پہلے حق ماں کا ہے” اور یہ بات تین دفعہ دُہراتے ہیں۔
صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ
مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أَبُوكَ»
("لوگوں میں سے میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ۔”)
ماں کے پیروں تلے جنت ہے۔
میرے تایا حضور فرماتے ہیں: "بیٹا! ماں باپ فوت ہو جائیں تو بچوں کا فرض شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: موت کے بعد اَعمال نامہ رُک جاتا ہے، اَلبتہ نیک اَولاد ماں باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرے یعنی اَولاد صدقہ ہو ماں باپ کا۔”
صحیح مسلم میں میں روایت ہے
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»
("جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اُس کے عمل کا سلسلہ مَنقَطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: سوائے صدقہ جاریہ کے، ایسے علم کے جس سے فائدہ اُٹھایا جائے، یا نیک اَولاد کے جو اُس کے لیے دُعا کرتی رہے۔”)
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا