قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش؛ پہاڑوں کا عالمی دن

ہر سال 11 دسمبر دنیا بھر میں پہاڑوں کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف پہاڑی علاقوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ اُن خطرات اور چیلنجوں کی نشاندہی بھی کرنا ہے جو آج ہمارے پہاڑوں کو درپیش ہیں۔ دنیا کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد براہِ راست پہاڑوں پر انحصار کرتا ہے، جب کہ قدرتی پانی، ماحول، جنگلات، پھل اور معدنیات کا ایک بڑا حصہ انہی پہاڑی علاقوں سے فراہم ہوتا ہے۔

پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جن کے پاس شاہکار پہاڑی سلسلے موجود ہیں—ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش۔ یہ صرف پہاڑی سلسلے نہیں بلکہ قدرت کی وہ عظیم نشانیاں ہیں جو ہمارے موسم، دریاؤں، زراعت اور انسانی وجود تک کو اپنے دامن میں سنبھالے ہوئے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے پہاڑوں کے ساتھ انصاف کیا ہے؟

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پہاڑی علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات، جنگلات کی کٹائی، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور موسمیاتی تبدیلی نے ایک خاموش خطرے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پہاڑی خطے آج پہلے سے کہیں زیادہ ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ دریا خشک ہو رہے ہیں، جنگلات کم ہو رہے ہیں، پہاڑ کمزور ہو رہے ہیں، اور آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

مارگلہ ہلز کی مثال ہی لے لیں—یہ اسلام آباد کی پہچان، اس کا سانس اور اس کا سبز محافظ ہے، مگر یہاں بھی بے تحاشا کچرا، جنگلات کی کٹائی، غیر ذمہ دارانہ سیاحت اور آگ لگنے کے واقعات ہمارے "قدرتی سرمائے” کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ پہاڑوں کی خوبصورتی تو دیکھ لیتے ہیں مگر ان کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داری کو بھول جاتے ہیں۔

پہاڑ صرف خوبصورتی نہیں—زندگی ہیں، معیشت ہیں، موسم ہیں، اور مستقبل ہیں۔

آج پہاڑوں کے عالمی دن کا اصل پیغام یہ ہے کہ اگر ہم نے ابھی بھی اپنے پہاڑی نظام کو محفوظ بنانے کا فیصلہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں ان پہاڑوں کے قصے پڑھیں گی۔ ہمیں جنگلات کی بحالی، کچرے کے بہتر انتظام، پانی کے ذخائر کی حفاظت، ماحول دوست سیاحت اور حکومتی سطح پر موثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

لیکن اصل تبدیلی عوام سے آتی ہے۔

اگر ہر شہری یہ طے کر لے کہ پہاڑوں میں جاتے ہوئے کچرا ساتھ واپس لائے گا، غیر ضروری آگ نہیں جلائے گا، درختوں کو کاٹے گا نہیں، اور قدرتی ماحول کا احترام کرے گا تو یقین کریں صرف چند سال میں پاکستان کے پہاڑی علاقے دوبارہ سانس لینے لگیں گے۔

دنیا بھر میں ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ پہاڑوں کو بچانا دراصل انسان کو بچانا ہے۔

ہم نے اگر پہاڑوں کو مضبوط رکھا تو ہم خود بھی محفوظ رہیں گے—ورنہ موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریاں ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔

آئیں! اس عالمی دن پر یہ عہد کریں کہ:
ہم اپنے پہاڑوں کا احترام کریں گے، انہیں ناپاک نہیں کریں گے، ان پر بوجھ نہیں بڑھائیں گے، اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی آواز بھی بلند کریں گے اور قدم بھی۔

کیونکہ جو قومیں اپنے قدرتی ماحول کو محفوظ رکھتی ہیں، وہی مستقبل کی مالک بنتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے